سہیل آفریدی: خیبر پختونخوا میں صوبائی منظوری کے بغیر آپریشنز نافذ کیے جا رہے ہیں

[post-views]
[post-views]

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی منظوری کے بغیر صوبے میں فوجی آپریشنز کیے جا رہے ہیں، جبکہ وفاق متاثرین کے لیے اعلان کردہ مالی امداد بھی فراہم نہیں کر رہا۔

انہوں نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طویل عرصے سے قیدِ تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں پر پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سہولیات تک نہ دینا ظلم ہے اور موجودہ حکومت آمرانہ طرزِ عمل اپنا چکی ہے۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور واپس لینے کا فیصلہ ہو چکا ہے، مگر دہشت گرد قیدیوں سے متعلق تفصیلات نہ ملنے سے عمل میں تاخیر اور حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دینے اور سیاسی کارکنان کو شیڈول فور میں شامل کرنے کو غلط قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ نادرن بائی پاس منصوبہ برسوں سے تاخیر کا شکار ہے اور اس کی لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے، جبکہ صوبے نے اپنے وسائل سے فنڈز فراہم کیے۔ 8 فروری کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی میں خصوصی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی اور کارروائیوں میں شہری جانوں کے ضیاع پر قانون سازی ضروری ہے۔ وفاق نے عارضی بے گھر افراد کے لیے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دیے، جس سے صوبے پر بھاری مالی بوجھ پڑا ہے۔

انہوں نے معاشی بدحالی، بڑھتے قرضوں اور نوجوانوں کی بیرونِ ملک ہجرت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے فیصلے مسائل بڑھا رہے ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان واقعہ پی ٹی آئی کے خلاف سازش تھا، جس کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی کام کر رہی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos