فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ علاقائی صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے، اور ملک کی سرحدی سالمیت اور ہر شہری کے تحفظ پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
نیشنل تحفظ ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی مسابقت، سرحد پار دہشت گردی اور ہائبرڈ حربوں کے اثرات واضح ہیں۔ بیرونی معاونت یافتہ دہشت گردی اور معلوماتی جنگ جیسے پیچیدہ چیلنجز کے باوجود، مسلح افواج قومی دفاع اور ملک کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حساس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ملکی سلامتی اور شہری تحفظ کے لیے پیشہ ورانہ مہارت اور مکمل عزم کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پاکستان ایک اہم ملک ہے اور عالمی سطح پر اپنی حیثیت کے مطابق مقام حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاک افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جذبہ اور عزم نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری سب سے بڑی طاقت قومی یکجہتی ہے اور ہم ان شاء اللہ دشمنوں کے تمام مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان آرمی کے لیے ملک کی سرحدی سالمیت، قومی تحفظ اور ہر شہری کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اور اس میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مربوط قومی کوششیں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی نہایت ضروری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، نیشنل تحفظ ورکشاپ کے 27 شرکاء نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور پاکستان کے علاقائی و داخلی دفاع اور موجودہ قومی سلامتی کے تناظر پر بریفنگ دی گئی۔ انہیں غیرقانونی سرگرمیوں، اسمگلنگ، منشیات کی نقل و حمل اور منظم جرائم کے خلاف جاری قومی اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
وفد نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن میں حصہ لیا، اور بہتر سرحدی کنٹرولز اور غیرقانونی غیرملکیوں کی واپسی سے متعلق تازہ پیشرفت پر بھی معلومات حاصل کیں۔
نیشنل تحفظ ورکشاپ، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا ایک اہم پروگرام ہے جو پارلیمنٹیرینز، اعلیٰ سول و عسکری افسران، اور تعلیمی و سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندگان کو یکجا کرتا ہے۔












