بات چیت ہوگی، مگر ہتھیاروں کے زور پر نہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز

[post-views]
[post-views]

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مگر ہتھیاروں کے زور پر نہیں بلکہ ریاست کی نمائندگی میں بات چیت ہوگی۔

بلوچستان اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 برس سے ریاست کے خلاف منظم پروپیگنڈا جاری ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کبھی سیاسی مذاکرات سے انکار نہیں کیا اور انتخابی اصلاحات و وسائل کی منصفانہ تقسیم پر بات ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف بڑی قربانیاں دی ہیں، کسی کو اسلحہ اٹھا کر خونریزی کا حق نہیں۔ غیر متوازن ترقی کو دہشت گردی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا اور اسمگلنگ کو کاروبار نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی پر ہر بار دھاندلی کے الزامات لگائے جاتے ہیں، اس لیے انتشار چھوڑ کر مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حقوق اور روزگار کے مسائل کو دہشت گردی سے جوڑنا درست نہیں، مسائل کی درست تشخیص ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسند مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں مگر ان کا مذہب سے تعلق نہیں۔ گوادر واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کا قتل ناقابل قبول ہے۔

ان کے مطابق کچھ عناصر بلوچ بیانیے کی آڑ میں ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، حالانکہ دہشت گردی صرف بلوچستان تک محدود نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی ایل اے کی بنیاد افغانستان میں رکھی گئی اور ریاست کے خلاف غلط پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos