خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آفریدی قوم نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا، اس کے باوجود شدید برف باری کے دوران لوگوں کو زبردستی گھروں سے نکالا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی منتخب حکومت کو رجیم چینج کے ذریعے ہٹانے کے بعد دہشت گردی دوبارہ سر اٹھانے لگی، جس کے خلاف خیبر سے وزیرستان تک جرگے اور امن تحریکیں چلائی گئیں، مگر ان انتباہات کو نظرانداز کیا گیا۔ نتیجتاً بدامنی لوٹ آئی، معیشت کمزور ہوئی اور نوجوان و سرمایہ کار ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق 22 بڑے اور ہزاروں خفیہ معلومات بیسڈ آپریشنز کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا، اس لیے ایک اور آپریشن بے فائدہ ہوگا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے جرگے نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ فوجی کارروائی مسئلے کا حل نہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اس کے باوجود بند کمروں میں فیصلے کیے گئے اور کور کمانڈر و آئی جی ایف سی کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے آفریدی قوم کو گھروں کے انخلا پر مجبور کیا، حالانکہ برف باری میں نہ نقل مکانی ممکن ہے اور نہ ہی آپریشن۔
انہوں نے سرکاری دعوے کو مسترد کیا کہ لوگ رضاکارانہ طور پر بے دخل ہو رہے ہیں، اسے اداروں اور وفاق و صوبے کے درمیان اعتماد توڑنے کی کوشش قرار دیا۔
وزیراعلیٰ نے اتوار کو جمرود فٹ بال اسٹیڈیم میں قبائلی جرگہ بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوام خود بتائیں گے کہ نقل مکانی مرضی سے ہوئی یا زبردستی۔ انہوں نے کہا کہ پختون عوام تجربہ نہیں، ان کی جان سستی نہیں، اسی لیے صوبائی حکومت نے متاثرین کے لیے 4 ارب روپے جاری کیے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ پختون قوم کے ساتھ کھڑے ہیں اور اگر اب آواز نہ اٹھائی گئی تو بدامنی مستقل مقدر بن جائے گی۔











