تحریر: اسلم اکبر
قانون کے طالب علم، بحریہ یونیورسٹی، اسلام آباد
خلاصہ
یہ مقالہ پاکستان میں طلبہ یونینز پر عائد پابندی کا آئینی تجزیہ کرتا ہے اور آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 17 کی روشنی میں اس سوال کا جائزہ لیتا ہے کہ آیا یہ پابندی آئینی تھی یا غیر آئینی۔ آرٹیکل 17 شہریوں کو انجمن سازی اور تنظیمیں قائم کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ یہ تحقیق ان قانونی اقدامات کا جائزہ لیتی ہے جن کے ذریعے پابندی عائد ہوئی، اسے قانونی شکل دی گئی اور چار دہائیوں سے زائد عرصے تک ادارہ جاتی سطح پر برقرار رکھا گیا۔ یوں یہ معاملہ محض ایک پالیسی فیصلے تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک بنیادی حق کی متعدد سطحوں پر قدغن بن گیا۔
مقالے میں طلبہ یونینز پر پابندی کو اصولِ تناسب (Doctrine of Proportionality)، بنیادی حقوق کے آئینی ڈھانچے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقابلی معیارات کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ پابندی ابتدا ہی سے غیر آئینی تھی اور 1993 میں عدالتوں کی جانب سے اس کی توثیق آئینی نگرانی کی ناکامی تھی۔
اس تحقیق میں ایک اہم علمی خلا کی نشان دہی بھی کی گئی ہے: اب تک موجود لٹریچر میں قانون سازی کے خلا (Legislative Vacuum) کا مناسب تجزیہ نہیں کیا گیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ طلبہ یونینز کو منظم کرنے کے لیے کوئی مؤثر قانون سازی نہیں کی گئی، بلکہ پابندی کو برقرار رکھا گیا۔ اس کے نتیجے میں آج بھی طلبہ کے ایک پورے طبقے کے لیے آرٹیکل 17(1) میں دیا گیا حق عملاً معطل ہے۔
مقالے میں قانون کے حوالے سے تازہ پیش رفت، بالخصوص 2024 میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سامنے حمزہ محمد خواجہ بنام وفاقِ پاکستان کے مقدمے اور مئی 2025 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے مجوزہ فریم ورک کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ آخر میں ایک ایسے قانونی اور آئینی راستے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں جس کے ذریعے طلبہ یونینز کے حق کو بحال اور منظم کیا جا سکتا ہے۔
آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان، 1973 کا آرٹیکل 17 واضح کرتا ہے کہ: ’’انجمن سازی کی آزادی تمام شہریوں کو حاصل ہوگی۔‘‘
تعارف
جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے 9 فروری 1984 کو مارشل لا آرڈرز کا ایک سلسلہ جاری کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان کی طلبہ برادری کی منظم سیاسی آواز خاموش ہو گئی۔ یہ پابندی مارشل لا آرڈر نمبر 81 کے تحت عائد کی گئی اور بعد ازاں مختلف ادارہ جاتی اقدامات کے ذریعے اسے مزید مضبوط کیا گیا۔ عوام کے سامنے اس پابندی کا جواز جامعات اور کالجوں میں تشدد کی روک تھام بتایا گیا، لیکن درحقیقت یہ ایک سیاسی اقدام تھا جس کا مقصد ملک کی تاریخ میں شہری مزاحمت کی ایک مؤثر قوت کو دبانا تھا۔
یہ محض پالیسی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے قانونی بحران کا آغاز تھا جو آج تک جاری ہے۔ آئینِ پاکستان 1973، پابندی سے پہلے بھی اور بعد میں بھی، آرٹیکل 17(1) کے تحت ہر شہری کو انجمنیں اور یونینز قائم کرنے کا حق دیتا ہے، البتہ اس حق پر ایسی معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں جو قانون کے ذریعے ملک کی خودمختاری، امنِ عامہ یا اخلاقیات کے تحفظ کے لیے ضروری ہوں۔ اس کے باوجود کوئی ایسا مخصوص قانون منظور نہیں کیا گیا جو مارشل لا کے حکم کی جگہ لے سکتا۔ اس کے برعکس، ایک فوجی حکم پہلے آئینی جمود اور پھر 1993 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے تقریباً مستقل آئینی حقیقت بن گیا۔ اس فیصلے میں اس پابندی کا اس آئین کی روشنی میں مناسب جائزہ نہیں لیا گیا جس کی حفاظت عدالت کی ذمہ داری تھی۔
اس مقالے کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ طلبہ یونینز پر پابندی ابتدا ہی سے غیر آئینی تھی، 1993 میں عدالتی سطح پر اس کی توثیق آئینی اعتبار سے قابلِ اعتراض تھی، اور اس پابندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا قانون سازی کا خلا پاکستان کے تعلیمی اور جمہوری سفر میں آئینی حکمرانی کے سب سے نظرانداز شدہ مسائل میں سے ایک ہے۔
اس پابندی کے تاریخی، سماجی اور سیاسی پہلوؤں پر پہلے ہی کافی کام ہو چکا ہے۔ تاہم، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مخصوص آئینی نقصان پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔ یہ نقصان صرف پابندی تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے بعد کوئی ایسا مؤثر شہری قانون بھی نہیں بنایا گیا جو طلبہ یونینز کو منظم کرنے کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتا۔ اس طرح ایک عارضی مارشل لا پابندی بنیادی حقوق پر ایک طویل المدت قدغن میں تبدیل ہو گئی، جس کی بنیاد عام شہری قانون میں موجود نہیں تھی۔
آئینی ڈھانچہ: آرٹیکل 17 اور اس کا دائرۂ کار
آئینِ پاکستان 1973 کا آرٹیکل 17(1) قرار دیتا ہے:
’’تمام شہریوں کو انجمنیں یا یونینز قائم کرنے کا حق حاصل ہوگا، تاہم پاکستان کی خودمختاری یا سالمیت، امنِ عامہ یا اخلاقیات کے مفاد میں قانون کے ذریعے معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔‘‘
آرٹیکل 17 کی ساخت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ایک مثبت بنیادی حق فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی ان حالات کی وضاحت بھی کرتا ہے جن میں اس حق پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ کسی بھی پابندی کو آئینی تقاضوں پر پورا اترنے کے لیے تین شرائط پوری کرنا ضروری ہیں: پابندی معقول ہو، قانون کے ذریعے عائد کی گئی ہو، اور ان مقاصد میں سے کسی ایک کے حصول کے لیے ہو جن کی اجازت آئین دیتا ہے۔ یہ تینوں شرائط بیک وقت پوری ہونا ضروری ہیں۔ ان میں سے کسی ایک شرط کی عدم موجودگی پابندی کو آئینی طور پر ناقابلِ دفاع بنا دیتی ہے۔
’’قانون کے ذریعے عائد‘‘ ہونے کی شرط محض ایک رسمی یا طریقہ کار سے متعلق معاملہ نہیں بلکہ اس کا ایک واضح آئینی مفہوم ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ پابندی کو قانون ساز ادارہ منظور کرے، وہ عوام کے لیے دستیاب ہو، اس کی حدود واضح اور معقول ہوں اور اسے پارلیمانی بحث و احتساب کا سامنا کرنا پڑے۔ مارشل لا آرڈر اس طریقۂ کار سے گریز کرتا ہے کیونکہ وہ عام قانون سازی اور پارلیمانی بحث کے بجائے انتظامی حکم کے ذریعے نافذ ہوتا ہے۔ اگر ایسے حکم کو بنیادی حق محدود کرنے کے لیے کافی قانون تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آئین کو اسی طریقے سے محدود کیا جا رہا ہے جو خود آئینی عمل سے بالاتر ہو۔ یہ ایک بنیادی آئینی تضاد ہے۔
اس کے علاوہ، آئین کے آرٹیکل 8(1) کے تحت بنیادی حقوق سے متصادم قانون اس حد تک غیر مؤثر ہو جاتا ہے جس حد تک وہ ان حقوق کے خلاف ہو۔ طلبہ عام شہری ہیں، اس لیے وہ بنیادی حقوق کے آئینی تحفظ کے دائرے میں آتے ہیں۔
1984 کی پابندی: قانونی بنیاد اور آئینی خامیاں
جنوری سے مارچ 1984 کے دوران جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے مارشل لا آرڈرز کا ایک سلسلہ جاری کیا جس کے ذریعے پاکستان بھر کے کالجوں اور جامعات میں سیاسی سرگرمیوں کو عملاً ممنوع قرار دے دیا گیا۔ اس اقدام کا سیاسی پس منظر اہم ہے۔ 1983 میں کراچی میں طلبہ یونین کے انتخابات میں ضیاء مخالف اتحاد کامیاب ہوا تھا۔ سندھ میں حکومت کے نظام سے وابستہ حلقوں کو خدشہ تھا کہ تعلیمی ادارے منظم سیاسی مخالفت کے مراکز بن سکتے ہیں، جیسا کہ 1968–69 میں ایوب خان کے دورِ حکومت کے خلاف تحریک کے دوران ہوا تھا۔
اس پابندی کا سرکاری جواز تعلیمی اداروں میں تشدد کی روک تھام تھا، لیکن اس کا دائرہ صرف پُرتشدد سرگرمیوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ طلبہ کی مجموعی سیاسی تنظیم سازی کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ سندھ میں طلبہ کی سیاسی تنظیم سازی پر 1979 سے پابندی عائد تھی۔ 1984 کی قومی پابندی دراصل سندھ میں پہلے سے نافذ اس پابندی کو ملک کے دیگر حصوں تک پھیلانے کا اقدام تھا۔
1984 کی پابندی میں متعدد سنگین آئینی خامیاں موجود تھیں۔ پہلی بات یہ کہ یہ پابندی پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون کے بجائے مارشل لا آرڈر کے ذریعے عائد کی گئی۔ اسے قومی اسمبلی میں زیرِ بحث نہیں لایا گیا۔ اس سے آرٹیکل 17 کی اس شرط پر بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ انجمن سازی کے حق پر پابندی قانون کے ذریعے عائد ہونی چاہیے۔
دوسری بات یہ کہ یہ پابندی اصولِ تناسب پر پوری نہیں اترتی تھی۔ اگر حکومت کا مقصد تعلیمی اداروں میں تشدد روکنا تھا تو وہ تشدد، اسلحے کی موجودگی، دھمکیوں اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف مخصوص اقدامات کر سکتی تھی۔ اس کے بجائے طلبہ کی سیاسی تنظیم سازی پر مکمل پابندی لگا دی گئی، جس میں پُرامن تنظیمیں اور وہ گروہ بھی شامل تھے جن کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس طرح ایک وسیع اور غیر امتیازی پابندی عائد کی گئی، حالانکہ بیان کردہ مقصد کے حصول کے لیے اس سے کہیں محدود اقدامات کافی ہو سکتے تھے۔
تیسری بات یہ کہ اس پابندی نے صرف آرٹیکل 17 میں دیے گئے حقِ انجمن سازی کو متاثر نہیں کیا بلکہ آرٹیکل 19 کے تحت آزادیِ اظہار اور آرٹیکل 16 کے تحت آزادیِ اجتماع کو بھی محدود کیا۔ یہ تینوں حقوق ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ طلبہ کی تنظیموں پر پابندی ان کی اجتماعی رائے کے اظہار اور پُرامن اجتماع کی آزادی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ بنیادی حقوق میں اس نوعیت کی وسیع مداخلت کے لیے مضبوط آئینی جواز ضروری تھا، جو 1984 کے مارشل لا آرڈرز فراہم نہیں کر سکے۔
عارضی بحالی اور عدالتی سطح پر پابندی کا استحکام (1988–1993)
1988 میں بے نظیر بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران جمہوری حکومت کی واپسی کے بعد طلبہ یونینز پر پابندی عارضی طور پر ختم کر دی گئی۔ 1989 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے متعلقہ مارشل لا آرڈرز پارلیمنٹ کے ذریعے منسوخ کیے اور جامعات میں طلبہ یونینز کے انتخابات بھی منعقد ہوئے۔
یہ آئینی اعتبار سے ایک اہم پیش رفت تھی۔ فوجی حکومت کے انتظامی حکم کی جگہ پارلیمانی قانون نے لے لی، جس سے طلبہ یونینز کے قانونی معاملات طے کرنے میں مقننہ کا کردار بحال ہوا۔
تاہم، یہ بحالی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ یکم جولائی 1992 کو سپریم کورٹ نے عبوری حکم جاری کیا جس کے تحت طلبہ اور ان کے والدین یا سرپرستوں کے لیے داخلے کے وقت ایک حلف نامے پر دستخط کرنا لازم قرار دیا گیا۔ اس حلف نامے میں طلبہ یہ یقین دہانی کراتے تھے کہ وہ تعلیمی ادارے میں داخلے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ اس شرط کی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں تعلیمی ادارے سے خارج کیا جا سکتا تھا۔ 1993 میں چیف جسٹس افضل ظلہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس حکم کو حتمی شکل دے دی۔ یہ فیصلہ 1993 SCMR 1781 کے طور پر رپورٹ ہوا۔
1993 کا فیصلہ کئی اہم آئینی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عدالت نے طلبہ تنظیموں کے بڑی سیاسی جماعتوں سے روابط محدود کیے اور طلبہ کو جامعات کے قانونی و انتظامی اداروں میں عہدے رکھنے سے بھی روک دیا۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ عدالت نے آرٹیکل 17 کی تین بنیادی شرائط—معقولیت، قانونی بنیاد اور جائز آئینی مقصد—کی روشنی میں ان پابندیوں کا مناسب جائزہ نہیں لیا۔
اس کے بجائے حلف نامے کی شرط کو غیر معینہ مدت تک برقرار رہنے دیا گیا۔ فیصلے میں تعلیمی اداروں میں تشدد کے خدشات کو بنیاد بنایا گیا، لیکن اس سوال کا تسلی بخش جائزہ نہیں لیا گیا کہ آیا طلبہ کی تمام سیاسی تنظیم سازی پر پابندی ضروری اور متناسب تھی۔
اس کے نتیجے میں ایک تشویش ناک ادارہ جاتی صورتِ حال پیدا ہوئی۔ سپریم کورٹ کا حکم طلبہ کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے لیے مستقل بنیاد بن گیا۔ پاکستان بھر کی جامعات نے داخلے کے طریقۂ کار میں حلف نامے کو شامل کر لیا اور ان سیاسی و قانونی حالات کے بدل جانے کے باوجود اسے نافذ رکھنا جاری رکھا جن میں یہ فیصلہ سامنے آیا تھا۔
آرٹیکل 17(1) کے تحت انجمن سازی کے حق کو ایسے انتظامی حلف نامے کے ذریعے غیر معینہ مدت تک محدود نہیں کیا جا سکتا جس کی واضح قانونی بنیاد موجود نہ ہو۔ اسی طرح عدالتی حکم بھی اس قانون سازی کا متبادل نہیں بن سکتا جس کا تقاضا آئین کرتا ہے۔
نظرانداز شدہ تحقیقی پہلو: قانون سازی کا خلا
پاکستان میں طلبہ یونینز کے بارے میں موجود تاریخی، سماجی اور قانونی مباحث عموماً تین پہلوؤں پر مرکوز رہے ہیں: 1984 کی پابندی کے پس پردہ سیاسی محرکات، طلبہ کی قیادت سازی پر اس پابندی کے اثرات، اور 1984 سے پہلے اور بعد کی طلبہ سیاست کے تقابلی نتائج۔
یہ تمام اہم موضوعات ہیں، لیکن اس پہلو پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے جسے یہ مقالہ ’’آئینی قانون سازی کا خلا‘‘ قرار دیتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے آنے والی جمہوری حکومتوں نے طلبہ یونینز کے لیے کوئی واضح اور مؤثر قانونی ڈھانچہ تشکیل نہیں دیا۔
یہ محض علمی یا تحقیقی کمی نہیں بلکہ ایک حقیقی آئینی مسئلہ ہے۔ آرٹیکل 17 بنیادی حق پر ہر قسم کی پابندی کو ممنوع قرار نہیں دیتا، بلکہ ایسی پابندیوں کی اجازت دیتا ہے جو معقول ہوں، قانون کے ذریعے عائد کی جائیں اور اپنے مقصد کے لحاظ سے متناسب ہوں۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ طلبہ کی سیاسی سرگرمیوں کو منظم کرنے کی ضرورت ہے تو آئین اس کے لیے ایک قانونی راستہ فراہم کرتا ہے۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں طلبہ یونینز کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین کر سکتی ہیں، ان کے لیے ضابطے بنا سکتی ہیں، تعلیمی اداروں میں اسلحے پر پابندی لگا سکتی ہیں، بیرونی مداخلت روک سکتی ہیں اور مؤثر ضابطۂ اخلاق متعارف کرا سکتی ہیں۔
اس کے باوجود مختلف جمہوری حکومتوں نے قانون سازی کے بجائے 1993 کے عدالتی حکم کے پیچھے پناہ لی۔ اس سے آئینی مسئلہ مزید گہرا ہوا۔ جمہوری مقننہ کی ذمہ داری صرف قوانین بنانا نہیں بلکہ ایسا قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا بھی ہے جس کے اندر شہری اپنے بنیادی حقوق استعمال کر سکیں اور ان پر آئین کے مطابق پابندیاں عائد کی جا سکیں۔
اس خلا کو پُر کرنے کی پہلی نمایاں پیش رفت سندھ میں ہوئی، جہاں صوبائی اسمبلی نے 2019 میں اسٹوڈنٹ یونین بل منظور کیا، جسے مارچ 2022 میں قانون کی شکل دے دی گئی۔ ایک اور اہم پیش رفت مئی 2025 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا مجوزہ فریم ورک تھا، جو حمزہ محمد خواجہ بنام وفاقِ پاکستان کے مقدمے میں عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آیا۔
تاہم، عملی نفاذ کا مسئلہ اب بھی موجود ہے۔ سندھ اسٹوڈنٹ یونین ایکٹ 2022 میں تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کے قیام، انتخابات، ضابطۂ اخلاق اور اسلحے و نفرت انگیزی پر پابندیوں کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے باوجود، مقالے کی تحریر کے وقت تک اس قانون کے تحت تعلیمی اداروں میں انتخابات منعقد نہیں ہوئے تھے۔
اس لیے بنیادی آئینی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ طلبہ یونینز کی اجازت ہے یا پابندی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آرٹیکل 17 میں دیے گئے حق کو عملی شکل دینے کے لیے جامع قانون سازی اور اس پر مؤثر عمل درآمد کا فقدان ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کا تناظر
پاکستان کی آئینی ذمہ داریوں کو اس کی بین الاقوامی وابستگیوں کے تناظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے 1948 کا آرٹیکل 20 اور شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کا آرٹیکل 22 انجمن سازی کی آزادی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
ICCPR کے آرٹیکل 22 کے تحت انجمن سازی کی آزادی پر پابندی صرف اسی صورت عائد کی جا سکتی ہے جب وہ قانون کے ذریعے مقرر کی گئی ہو اور ایک جمہوری معاشرے میں قومی سلامتی، عوامی تحفظ، امنِ عامہ یا دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہو۔
ایک جمہوری معاشرے میں پابندی کے ضروری ہونے کا معیار خاصا سخت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پابندی کسی حقیقی اور سنگین مسئلے کا جواب ہو اور اپنے مقصد کے لحاظ سے متناسب بھی ہو۔ طلبہ کی تمام سیاسی تنظیم سازی پر مکمل پابندی، خصوصاً جب اسے قانون سازی کے بجائے انتظامی حلف نامے کے ذریعے نافذ کیا جائے، اس معیار پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
اگر تعلیمی اداروں میں تشدد مسئلہ ہے تو ریاست فوجداری قوانین نافذ کر سکتی ہے، اسلحے پر پابندی لگا سکتی ہے اور دھمکیوں یا تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔ ایسے مخصوص اقدامات نقصان دہ رویوں کا سدباب کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ طلبہ کے پُرامن انجمن سازی کے حق کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔
چنانچہ ایک واضح اور آئینی طور پر درست ملکی قانونی ڈھانچے کی عدم موجودگی نہ صرف آئینِ پاکستان بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کی ذمہ داریوں کے بارے میں بھی سوالات پیدا کرتی ہے۔
حالیہ قانونی پیش رفت: آئینی اصلاح کی جانب راستہ
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں حمزہ محمد خواجہ بنام وفاقِ پاکستان کے مقدمے کی کارروائی ایک اہم پیش رفت ہے۔ درخواست گزاروں نے 1984 کی پابندی کے ساتھ ساتھ 1993 کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا، بالخصوص اس حلف نامے کی قانونی حیثیت کو جس کے ذریعے طلبہ سے سیاست میں حصہ نہ لینے کا عہد لیا جاتا ہے۔
دسمبر 2024 میں آئینی بینچ نے درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کیے۔ اس مقدمے میں بنیادی سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ آیا موجودہ پابندی آرٹیکل 17 کی اس شرط پر پوری اترتی ہے کہ بنیادی حقوق پر پابندی قانون کے ذریعے عائد ہونی چاہیے۔
یہ کارروائی اس بات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتی ہے کہ آیا طلبہ یونینز پر پابندی کے حوالے سے کوئی باقاعدہ قانون موجود ہے یا یہ پابندیاں بنیادی طور پر 1993 کے عدالتی فیصلے اور انتظامی طریقۂ کار کے ذریعے برقرار رکھی گئی ہیں۔
مئی 2025 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے تحت جامعات میں طلبہ کی نمائندگی کے لیے ایک مجوزہ فریم ورک پر غور کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس فریم ورک میں طلبہ نمائندگی کا ڈھانچہ، اہلیت کے معیار، انتخابی طریقۂ کار، مالیاتی نگرانی، ضابطۂ اخلاق اور ایک آزاد اسٹیئرنگ کمیٹی شامل ہیں۔
یہ طلبہ کی نمائندگی کے لیے ایک منظم نظام کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے۔ تاہم، ایک بنیادی سوال اب بھی باقی ہے: کیا یہ فریم ورک باقاعدہ قانون سازی کی بنیاد رکھے گا یا محض ایسی انتظامی ہدایات تک محدود رہے گا جنہیں نظرانداز یا تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
آگے کا راستہ: آئین سے ہم آہنگ قانونی ڈھانچہ
قانون سازی کے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے واضح آئینی اور ادارہ جاتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے، سپریم کورٹ کو حمزہ خواجہ بنام وفاقِ پاکستان کے مقدمے میں 1993 کے حلف نامے کی شرط کا آرٹیکل 17(1) کی روشنی میں جائزہ لینا چاہیے۔ اس پابندی کو قانونی بنیاد، معقولیت اور اصولِ تناسب کے آئینی تقاضوں پر پرکھنا ضروری ہے۔
دوسرے، پارلیمنٹ کو وفاقی چارٹر کے تحت قائم تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کے لیے ایک واضح قانونی ڈھانچہ تشکیل دینا چاہیے۔ اس قانون میں طلبہ یونینز کی سرگرمیوں کا دائرہ، اہلیت کے معیار، انتخابی طریقۂ کار، اسلحے اور دھمکیوں کی روک تھام اور ادارہ جاتی احتساب کے مؤثر طریقے متعین ہونے چاہییں۔ یہ ڈھانچہ پارلیمانی قانون سازی پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ صرف انتظامی ہدایات پر۔
تیسرے، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کے حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تحت صوبائی اسمبلیوں کو بھی اسی نوعیت کی قانون سازی کرنی چاہیے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔ ان قوانین میں نفاذ کے لیے واضح اور قابلِ عمل مدت اور طریقۂ کار شامل ہونا چاہیے۔
آخر میں، ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اپنی پالیسیوں اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کو اس انداز میں بہتر بنانا چاہیے کہ وہ طلبہ کی آئینی طور پر محفوظ نمائندگی میں رکاوٹ بننے کے بجائے اس کی معاونت کریں۔ ایک مؤثر ضابطہ جاتی نظام کو بنیادی حقوق کے استعمال کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تشدد اور بیرونی مداخلت کی روک تھام بھی کرنی چاہیے۔
نتیجہ
پاکستان میں طلبہ یونینز پر 1984 کی پابندی عام قانون سازی کے بجائے مارشل لا آرڈرز کے ذریعے عائد کی گئی۔ اس نے آرٹیکل 17(1) میں دیے گئے انجمن سازی کے حق کو محدود کیا اور آزادیِ اظہار اور پُرامن اجتماع جیسے باہم مربوط حقوق کو بھی متاثر کیا۔ بعد میں عدالتی اور انتظامی سطح پر جو اقدامات کیے گئے، وہ اس بنیادی سوال کا جواب فراہم نہیں کر سکے کہ آیا ان پابندیوں کی کوئی مؤثر قانونی بنیاد موجود تھی یا نہیں۔
اس پوری تاریخ میں سب سے دیرپا آئینی ناکامی یکے بعد دیگرے آنے والی جمہوری حکومتوں اور مقننہ کی عدم فعالیت ہے۔ کئی دہائیوں تک پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں ایسا جامع قانونی ڈھانچہ تشکیل دینے میں ناکام رہیں جو طلبہ یونینز کو منظم بھی کرتا اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بناتا۔
حمزہ خواجہ بنام وفاقِ پاکستان کے مقدمے کی کارروائی اور مئی 2025 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا مجوزہ فریم ورک اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کا ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ آئینی ضمانتوں کو مؤثر قانون سازی اور عملی ادارہ جاتی انتظامات میں تبدیل کیا جائے۔
پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا آرٹیکل 17 طلبہ کے لیے محض ایک آئینی وعدہ بن کر رہ جائے گا جس پر عملی طور پر عمل نہیں ہوتا، یا اسے قانون سازی، ادارہ جاتی تحفظ اور جمہوری شرکت کے ذریعے ایک حقیقی اور قابلِ عمل حق بنایا جائے گا۔









