جمہوریت، عوام کا حقِ حکمرانی اور پارلیمانی خودمختاری: پاکستان کے لیے ایک فکری و سیاسی منشور

[post-views]
[post-views]

از قلم: طارق محمود اعوان

نظامِ حکومت اور آئینی اصلاحات پر مبنی میری چار کتابوں کی سیریز میں “ایوانِ قانون ساز کی اصلاح” سب سے اہم اور مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں، میں نے پاکستان کے لیے ایک باقاعدہ فکری و سیاسی منشور پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا بنیادی محور حقیقی جمہوریت کی بحالی، سیاست دانوں کا تعمیری کردار، پارلیمانی اداروں کو مضبوط بنانا، اور ایک شفاف و مؤثر انتظامی ماڈل کا قیام ہے۔

دس سال کی مسلسل تحقیق اور فکری کاوشوں کی بنیاد پر، میں نے پاکستان کے جمہوری نظام کو درپیش بنیادی چیلنجز کا گہرا جائزہ لیا ہے اور ان کے عملی و آئینی حل تجویز کیے ہیں۔ یہ کتاب بنیادی طور پر درج ذیل حساس اور کلیدی سوالات کا احاطہ کرتی ہے:

  • انتخابی اصلاحات: پاکستان میں انتخابی شفافیت اور پائیدار اصلاحات کو کس طرح ممکن بنایا جا سکتا ہے؟
  • مقننہ کی خودمختاری: مقننہ کو ایک مضبوط، خودمختار، بااختیار اور مؤثر آئینی ادارے میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
  • سیاست دانوں کا حقیقی کردار: ایک جمہوری نظام میں سیاست دانوں کے اصل فرائض، آئینی ذمہ داریاں اور حدود کیا ہیں؟
  • انتظامیہ کا اثر و رسوخ: انتظامیہ کس طرح مقننہ کی خودمختاری اور اختیارات کو متاثر کرتی ہے؟
  • عدلیہ اور مقننہ کا آئینی تعلق: عدلیہ اور مقننہ کے مابین آئینی سرحدیں کیا ہونی چاہئیں، اور ان کے اختیارات کا خطِ امتیاز کہاں واقع ہونا چاہیے؟
  • عوامی ارادے کی نمائندگی: مقننہ میں عوام کی حقیقی خواہشات اور ان کی بااختیار نمائندگی کو کیسے یقینی بنایا جائے؟
  • سیاسی جماعتوں کا جمہوری ڈھانچہ: کیا پاکستان کی سیاسی جماعتیں واقعی جمہوری ادارے ہیں، یا وہ صرف شخصیات اور خاندانی اجارہ داری کے گرد گھومنے والی تنظیمیں ہیں؟

اس کتاب میں، میں نے پاکستان میں جمہوریت، سیاست، حکمرانی اور عوامی نمائندگی کو درپیش چیلنجز پر خصوصی توجہ دی ہے۔ خاص طور پر، عوامی خودمختاری اور عوام کے حقِ حکمرانی کو جمہوریت کی بنیاد بنا کر، میں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ عوام ہی ریاستی اقتدار کا اصل سرچشمہ ہیں اور ان کی مرضی آئینی و جمہوری اداروں کے ذریعے ریاستی فیصلوں میں عکاس ہونی چاہیے۔

یہ کتاب صرف پاکستان کے سیاسی نظام کی کمزوریوں پر تنقید کرنے یا سیاسی مغالطوں کو چیلنج کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مستقبل کا لائحہ عمل بھی پیش کرتی ہے۔ اس کا مقصد پاکستان میں ایک آئینی اور معیاری جمہوریت کی طرف ایک ادارہ جاتی اور آئینی راستہ قائم کرنا ہے—ایک ایسی جمہوریت جہاں قانون کی حکمرانی قائم ہو، پارلیمنٹ مضبوط ہو، سیاسی جماعتیں جمہوری اداروں کے طور پر کام کریں، اور عوام کا حقِ حکمرانی حقیقی معنوں میں قائم ہو۔

میری اس دس سالہ تحقیقی اور فکری کاوش کا بنیادی مقصد یہ فکری بنیاد اور عملی لائحہ عمل فراہم کرنا ہے تاکہ پاکستان میں جمہوریت صرف انتخابات تک محدود عمل نہ رہے، بلکہ ایک حقیقی، عوامی، آئینی اور ادارہ جاتی نظام میں تبدیل ہو سکے۔

کتاب: ایوانِ قانون ساز کی اصلاح

پاکستان بھر کے تمام اہم مکتبوں پر دستیاب ہے۔

رابطہ کی تفصیلات:

ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی تحقیقی مطبوعات، پالیسی بریف اور آئینی و پارلیمانی اصلاحات سے متعلق کتابوں کی گھر پر فراہمی کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں

: 0341-4222501

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]