وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی دراصل طالبان اور بھارت کی مبینہ پراکسی کارروائیوں کا نتیجہ ہے، اور اگر حالات نے تقاضا کیا تو افغانستان میں فضائی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان پر حملوں میں سرگرم شدت پسند تنظیمیں افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہی ہیں، اور کابل کی اجازت یا عدم مداخلت کے بغیر یہ سرگرمیاں ممکن نہیں۔
ان کے مطابق اگر افغان حکام امن کی قابلِ اعتماد یقین دہانی کرا دیں تو کشیدگی کم ہو سکتی ہے، لیکن جب تک ان عناصر کو پناہ یا سہولت میسر ہے، ذمہ داری افغان حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ چند دوست ممالک نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت کی کوششیں کیں، تاہم استنبول، دوحہ اور کابل میں ہونے والی بات چیت سے کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔
بھارت سے متعلق انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ برقرار ہے اور کسی بھی ممکنہ تصادم کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس مئی میں ہونے والی چار روزہ جھڑپوں کے دوران پاکستان نے اپنی فضائی حدود کا مؤثر دفاع کیا۔ فی الوقت بھارت کے ساتھ نہ براہِ راست اور نہ ہی بالواسطہ کوئی رابطہ ہے۔
فلسطین اور غزہ کے بارے میں خواجہ آصف نے کہا کہ یہ مسئلہ پاکستانی عوام کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے اور عالمی سطح پر فلسطینی مؤقف کی مستقل حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔






