لوئر دیر اور باجوڑ کی تازہ صورتحال میں امن و انتظامی معاملات اور قبائلی تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔ قبائلی عمائدین اور شدت پسند گروہ “فتنۂ خوارج” کے درمیان مصالحتی جرگہ مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے، جس کے بعد علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوجی آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق باجوڑ اور ملحقہ علاقوں میں سخت کرفیو نافذ ہے، تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹرز دن رات فضائی نگرانی کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب گزشتہ ہفتے لوئر دیر کے پاک افغان سرحد سے متصل قبائل نے کھل کر اعلان کیا کہ وہ اپنے علاقوں میں دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کو برداشت نہیں کریں گے۔ قبائل نے فیصلہ کیا تھا کہ کسی بھی قسم کی دہشت گردی یا تخریب کاری کی صورت میں متعلقہ افراد کی جائیدادیں ضبط کی جائیں گی اور ان کے خاندانوں کو علاقہ بدر کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، قبائل نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے رات کے وقت مسلح پہرہ دینے کا بھی فیصلہ کیا تھا، تاکہ سرحدی دروں کے راستے سے دہشت گردوں کی آمد و رفت بند کی جا سکے۔
انتظامی حکام نے واضح کیا ہے کہ فتنۂ خوارج آبادی میں گھل مل کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ان میں بڑی تعداد افغان باشندوں کی ہے۔ حکومت اور ریاستی اداروں نے قبائل کو یہ پیغام دیا کہ اگر وہ خود ان عناصر کو نکال سکتے ہیں تو فوری طور پر کارروائی کریں، اور اگر یہ ممکن نہیں تو چند دن کے لیے علاقہ خالی کر دیں تاکہ مسلح افواج بلا رکاوٹ آپریشن مکمل کر سکیں۔ بصورت دیگر، فوجی کارروائی جاری رہے گی اور دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔
انتظامیہ نے اپنے مؤقف میں کسی بھی قسم کی نرمی دکھانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں سے کسی بھی صورت مذاکرات نہیں کرے گی، جب تک وہ غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال کر ریاست کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کر دیں۔ اس دو ٹوک مؤقف کے ساتھ، آپریشن کا مقصد علاقے سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور امن کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔









