محکمہ داخلہ پنجاب نے عیدالفطر کے موقع پر قیدیوں کی رہائی سے متعلق مکمل معلومات جاری کر دی ہیں۔ لاہور سے جاری بیان کے مطابق صوبے بھر میں 310 قیدی رہا کیے جائیں گے، جو اپنے اہلخانہ کے ساتھ عید کی خوشیاں منا سکیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے دی گئی 100 دن کی سزا میں رعایت سے پنجاب کے 7734 قیدی فائدہ اٹھائیں گے۔ تاہم یہ سہولت ہر قیدی کے لیے نہیں ہے بلکہ جیل قوانین کے تحت مخصوص نوعیت کے مقدمات میں سزا پانے والے افراد کو ہی اس رعایت میں شامل کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی، فرقہ واریت اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث قیدی اس رعایت کے اہل نہیں ہوں گے۔ اسی طرح قتل، زنا، منشیات کی اسمگلنگ، ڈکیتی، اغوا اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین جرائم میں سزا یافتہ افراد بھی اس سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔
مزید بتایا گیا کہ پنجاب کی مختلف جیلوں میں 176 ایسے قیدی موجود ہیں جن کی سزا تو مکمل ہو چکی ہے مگر جرمانے ادا نہ ہونے کی وجہ سے وہ رہا نہیں ہو سکے۔ ان قیدیوں کی رہائی کے لیے مجموعی طور پر 396 ملین روپے درکار ہیں۔
محکمہ داخلہ نے مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ پنجاب پریزن فاؤنڈیشن کے اکاؤنٹ میں عطیات جمع کروا کر ان قیدیوں کی رہائی میں اپنا کردار ادا کریں۔













