پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایک اہم اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدتِ ملازمت میں توسیع دینا ایک ایسی سنگین اور تاریخی غلطی تھی، جس کے اثرات آج بھی ملکی سیاست، معیشت اور ادارہ جاتی اعتماد پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس فیصلے پر پوری قوم سے باضابطہ معذرت پیش کرتے ہوئے اس امر کا اظہار کیا کہ ماضی کے اس اقدام نے نہ صرف فوج اور حکومت کے تعلقات پر منفی اثر ڈالا بلکہ جمہوری اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔
اسلام آباد میں منعقدہ ایک تفصیلی نیوز کانفرنس کے دوران اسد قیصر نے کھل کر اعتراف کیا کہ عمران خان کے بطور وزیرِاعظم دورِ حکومت میں جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کا فیصلہ اُس وقت پارٹی کی اجتماعی رائے اور حکومتی پالیسی کا حصہ تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ واضح ہوگیا کہ اس فیصلے کے سیاسی و ادارہ جاتی نقصانات اس کے کسی بھی ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ تھے۔ ان کے مطابق، اس ایکسٹینشن نے طاقت کے توازن کو بگاڑا اور فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کے اصول کمزور پڑ گئے۔
اسد قیصر نے کہا کہ اصولی طور پر کسی بھی اعلیٰ عہدے، بالخصوص فوج کے سربراہ کے منصب پر تعینات افسر کو مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں دی جانی چاہیے، کیونکہ اس عمل سے نہ صرف ادارے کے اندر ترقی کا قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ اختیارات کا ارتکاز اور ادارہ جاتی آزادی بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اُس وقت یہ فیصلہ نہ کیا جاتا تو ممکن ہے کہ آج ملکی سیاست اور جمہوری ڈھانچہ زیادہ مستحکم اور متوازن ہوتا۔
انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس غلطی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ سیاسی قیادت اور فوجی قیادت کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید پیچیدہ ہوگیا، جبکہ عوام میں بھی اداروں کے کردار کے حوالے سے شکوک و شبہات بڑھ گئے۔ اسد قیصر نے کہا کہ پارٹی کو اس فیصلے سے سبق سیکھنا چاہیے اور آئندہ کسی بھی صورت میں اس طرح کے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے تاکہ اداروں کی غیر جانبداری اور آئینی حدود کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج وہ اور ان کی جماعت یہ سمجھتے ہیں کہ قومی مفاد میں شفافیت، میرٹ اور آئینی اصولوں پر قائم رہنا ہی ملکی استحکام کا واحد راستہ ہے، اور اسی سوچ کے تحت وہ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے پر پوری قوم سے دلی اور غیر مشروط معذرت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعتراف کسی دباؤ یا سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے، تاکہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے بچا جا سکے اور ملک کو آئینی، جمہوری اور ادارہ جاتی استحکام کی طرف لے جایا جا سکے۔









