چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا مستقل مؤقف ہے کہ دہشت گردی ایک قومی خطرہ ہے جس کا خاتمہ ہر صورت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردوں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی وابستگی، اس لیے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بیرسٹر گوہر خان نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف تعاون نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق یہ الزام حقائق کے منافی ہے اور سیاسی بنیادوں پر پھیلایا جا رہا ہے۔
اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملک کو ایک ایسی قومی پالیسی کی ضرورت ہے جو آئندہ پانچ سے دس سال تک تسلسل کے ساتھ نافذ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے اور کسی بھی صورت عام شہریوں کو بے گھر دیکھنا نہیں چاہتی۔ ان کے مطابق پارٹی کا پیغام اتحاد، مفاہمت اور امن ہے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ اس حوالے سے فیصلے کرتے وقت صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لے۔ ان کے مطابق سابقہ قبائلی علاقوں کو فنڈز نہ ملنے سے غربت بڑھی ہے اور نوجوانوں کو روزگار اور امید دینے کی فوری ضرورت ہے۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، اداروں اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے، اور ایک پُرامن سیاسی جماعت کے طور پر اسے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ملنی چاہیے۔











