سینیٹ کے اجلاس میں آج بھی پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور ان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے معاملے پر سخت احتجاج کیا۔ ایوان میں پی ٹی آئی ارکان نے نعرے لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے فوری ملاقات کرائی جائے۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے وضاحت کی کہ عمران خان کی صحت مکمل طور پر ٹھیک ہے اور بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی تمام خبریں محض پروپیگنڈا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حقائق کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
سینیٹر علی ظفر نے اجلاس میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت عمران خان سے متعلق واضح جواب نہیں دے گی، ایوان کی کارروائی آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔ اس پر چیئرمین سینیٹ نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی سے بات کر چکے ہیں اور جلد ملاقات کرکے حل تلاش کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران پی ٹی آئی ارکان نے ڈائس بجا کر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا اور عمران خان کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ تاہم وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے تمام ایسی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا اور یقین دلایا کہ وہ ملاقاتوں کے معاملے پر وزیر داخلہ سے بھی بات کریں گے۔
کارروائی کے دوران کورم کی نشاندہی بھی کی گئی جس کے بعد آدھے گھنٹے کا وقفہ لیا گیا۔ وقفے کے بعد بھی پی ٹی آئی کا احتجاج جاری رہا۔ اسی دوران انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 پیش کیا گیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔
نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2025 بھی ایوان میں پیش کیا گیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ سے متعلق اہم بل کو مشترکہ اجلاس بھجوانے کی تحریک سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پیش کی۔ بل سینیٹ سے منظور ہو چکا تھا لیکن قومی اسمبلی نے اسے منظور نہیں کیا تھا۔
بعد ازاں سینیٹ اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔












