پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے اور جسے چاہا جائے، زبردستی روکا اور قید کیا جا رہا ہے۔
داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی، عمران خان کے اہلِ خانہ اور وکلاء کا عدالت میں موجود ہونا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات ہیں کہ سماعت کے دوران خاندان اور وکلاء کو عدالت میں موجود رہنے کی اجازت دی جائے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انہیں جیل جانے سے روکنا کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق وہ مسلسل نشاندہی کر رہے ہیں کہ عمران خان، ان کے اہلِ خانہ اور عوام کے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ جن افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے، انہیں جان بوجھ کر روکا جا رہا ہے، حالانکہ وہ قانونی ٹیم کا حصہ ہیں اور سماعت میں شریک ہونا ان سب کا حق بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکام ان سے خوفزدہ ہیں، حالانکہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ ان سے ڈرنے کی وجہ کیا ہے۔ ان کے بقول اصل خوف عمران خان کی آواز اور پیغام سے ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں۔ یہ مقدمہ وعدہ معاف گواہوں کے سہارے چلایا جا رہا ہے اور استغاثہ کے پاس ایسے افراد کے سوا کوئی گواہ نہیں جو عمران خان کے اپنے فیصلوں کے نتیجے میں عہدوں سے ہٹائے گئے تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کیس میں ایف بی آر نے وہی قیمت تسلیم کی ہے جو سرکاری دستاویزات میں درج ہے۔ ان کے مطابق یہ بے بنیاد اور کمزور ترین مقدمات ہیں، جہاں محض ایک شخص کے اس بیان پر انحصار کیا جا رہا ہے کہ اس پر دباؤ ڈالا گیا، اور اسی کو بنیاد بنا کر فیصلہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔











