بھارت میں نچلی ذات کے ہندوؤں کے ساتھ ناروا سلوک ، نچلی ذات قرار دیے جانے والے افراد پر مشتمل قبیلے سے تعلق رکھنے والی بھارتی صدر دروپدی مرمو بھی امتیازی سلوک سے نہ بچ سکیں۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جگن ناتھ مندر میں بھارتی صدر کو مورتیوں کے قریب نہ جانے دیا گیا۔
بھارتی صدر کی شری جگن ناتھ مندر میں مورتیوں سے دور کھڑے ہونے کی تصویر وائرل ہوگئی ہے۔
پوجا کے دوران بنائی گئی ان کی تصویر بھارتی صدر کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے جاری کی گئی۔ بھارتی صدر مرمو اپنی 65 ویں سالگرہ اور جگن ناتھ رتھ یاترا 2023 کے موقع پر جگن ناتھ مندر گئی تھیں۔
ମହାପ୍ରଭୁ ଶ୍ରୀଜଗନ୍ନାଥଙ୍କ ରଥଯାତ୍ରା ଉପଲକ୍ଷେ ମୁଁ ସମସ୍ତ ଦେଶବାସୀଙ୍କୁ, ବିଶେଷ କରି ମହାପ୍ରଭୁ ଶ୍ରୀଜଗନ୍ନାଥଙ୍କ ଭକ୍ତମାନଙ୍କୁ ହାର୍ଦ୍ଦିକ ଅଭିନନ୍ଦନ ଓ ଶୁଭେଚ୍ଛା ଜଣାଉଛି। ମହାପ୍ରଭୁ ଶ୍ରୀଜଗନ୍ନାଥଙ୍କ ନିକଟରେ ପ୍ରାର୍ଥନା କରୁଛି ଯେ ଭକ୍ତି ଓ ସମର୍ପଣର ଏ ମହାପର୍ବ ସମସ୍ତଙ୍କ ଜୀବନରେ ସୁଖ, ଶାନ୍ତି ଓ ସମୃଦ୍ଧି ଆଣିଦେଉ। ଜୟ ଜଗନ୍ନାଥ… pic.twitter.com/j0yIzDaBw7
— President of India (@rashtrapatibhvn) June 20, 2023
جدید ادب میں، نچلی ذات والوں کو بعض اوقات دلت کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے “ٹوٹا ہوا” یا “منتشر”۔
شیڈولڈ ذاتیں اور شیڈولڈ قبائل سرکاری طور پر لوگوں کے نامزد کردہ گروہ ہیں اور ہندوستان میں سب سے زیادہ پسماندہ سماجی و اقتصادی گروہوں میں شامل ہیں۔

بھارتی صدر مرمو کا یوم پیدائش 20 جون 1958 ہے ، وہ ایک ہندوستانی سیاست دان اور سابق استاد ہیں جو 2022 سے ہندوستان کے 15ویں اور موجودہ صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی بھارت کی پہلی صدر ہیں۔









