بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

حماس نے غزہ میں جنگ بندی کی پیشکش قبول کر لی

[post-views]
[post-views]

حماس نے امریکا کی جانب سے غزہ کے لیے تجویز کردہ جنگ بندی کی پیشکش قبول کر لی ہے، تاہم ایک امریکی عہدے دار نے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ زیر بحث معاہدہ “ناقابل قبول” اور “مایوس کن” ہے۔

اسرائیلی حکام نے بھی اس تجویز کو امریکا کی جانب سے قرار دینے سے انکار کیا ہے اور پیر کو روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق کہا کہ کوئی بھی اسرائیلی حکومت اسے قبول نہیں کر سکتی۔

یہ متضاد رپورٹس ایسے وقت سامنے آئیں جب اسرائیلی افواج غزہ میں قحط زدہ فلسطینیوں پر اپنی بے رحمانہ بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں اور محصور علاقے میں امدادی سامان کی آمد کو سختی سے محدود کر رکھا ہے۔

طبی ذرائع کے مطابق پیر کو اسرائیل کے حملوں میں کم از کم 81 افراد جاں بحق ہوئے جن میں بہت سے بچے شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق حماس اور امریکا کے مشرق وسطیٰ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف نے دوحہ میں ایک اجلاس میں مسودہ معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے میں 60 دن کی جنگ بندی اور غزہ میں قید 10 زندہ قیدیوں کی دو مراحل میں رہائی شامل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کی شرائط کی ضمانت دیں گے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء کی نگرانی کریں گے۔ معاہدے کے تحت پہلے دن سے بلا شرائط انسانی امداد کی آمد کی بھی اجازت دی جائے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos