بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

پاکستان میں صفائی ملازمین کے ساتھ منظم امتیاز بے نقاب

[post-views]
[post-views]

ایم نسٹی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ ’’ہمارا خون بھی ان جیسا ہے‘‘ پاکستان میں صفائی کے شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ روا رکھے جانے والے منظم امتیاز اور سماجی بدنامی کی سنگین صورتحال کو نمایاں کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صفائی کے بیشتر ملازمین غیر مسلم ہیں، جن میں بڑی تعداد عیسائی اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والوں کی ہے، جو تاریخی طور پر ذات پات کے تحت صفائی کے پیشے سے منسلک رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر سرکاری محکموں کی نچلی سطح کی ملازمتوں میں کام کرتے ہیں، کم از کم تنخواہ سے بھی کم اجرت حاصل کرتے ہیں اور بنیادی قانونی و سماجی تحفظات سے محروم ہیں۔ خواتین صفائی ملازمین مذہب، ذات اور صنف کی بنیاد پر تہرے امتیاز کا سامنا کرتی ہیں اور ہراسانی کے واقعات عام ہیں۔

رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ صفائی کے ان کارکنوں کو اکثر حقارت آمیز رویوں، عوامی امتیاز اور توہین آمیز القابات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات یہ امتیازی ماحول خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے، جیسا کہ 2023 کے جڑانوالہ واقعے میں دیکھنے کو ملا، جہاں توہینِ مذہب کے الزامات نے پرتشدد واقعات کو جنم دیا۔

مزید برآں، ایم نسٹی کی تحقیق سے واضح ہوا کہ سرکاری ملازمتوں کے متعدد اشتہارات میں غیر مسلم یا ’’کم ذات‘‘ امیدواروں کے لیے ترجیح یا شرط رکھی جاتی ہے، جس سے ذات پات پر مبنی ملازمتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ زیادہ تر ملازمین کو عارضی معاہدوں پر رکھا جاتا ہے، تاکہ انہیں مستقل ملازمت، سماجی تحفظ اور دیگر مراعات نہ مل سکیں، جبکہ انہیں اکثر خطرناک حالات میں بغیر مناسب حفاظتی آلات کے کام کرنا پڑتا ہے۔

ایم نسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ نالوں کی دستی صفائی ختم کی جائے اور جدید مشینری استعمال کی جائے، آئین و قوانین میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کے خلاف واضح تحفظ شامل کیا جائے، امتیازی بھرتیوں کا خاتمہ کیا جائے، کم از کم اجرت اور لیبر قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور صفائی ملازمین کو مستقل کر کے ان کی عزت، سلامتی اور بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos