Dr Bilawal Kamran
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں آبادی کو دیے گئے بیاسی فیصد وزن کو غیر پائیدار قرار دینا محض ایک مالیاتی رائے نہیں بلکہ پاکستان کی پالیسی سازی میں موجود ایک بنیادی تضاد کی نشاندہی ہے۔ ایک طرف ریاست تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور سماجی بہبود کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف وفاق سے صوبوں کو وسائل کی تقسیم کا سب سے اہم معیار آج بھی تقریباً مکمل طور پر آبادی کی تعداد پر مبنی ہے۔ یہ دو متضاد پالیسیاں ایک دوسرے کی نفی کرتی ہیں اور قومی اہداف کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
سن دو ہزار دس میں نافذ ہونے والا ساتواں این ایف سی ایوارڈ ماضی کے مقابلے میں ایک بہتر پیش رفت ضرور تھا کیونکہ اس میں پہلی مرتبہ آبادی کے ساتھ غربت، پسماندگی، محصولات کی وصولی اور کم آبادی والے علاقوں کو بھی تقسیم کے فارمولے میں شامل کیا گیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ بیاسی فیصد وزن آج بھی آبادی کے حصے میں جاتا ہے، جبکہ باقی تمام عوامل محض معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لیے وسائل کی تقسیم کا بنیادی رخ بدستور آبادی ہی طے کرتی ہے۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد آبادی بہبود اور خاندانی منصوبہ بندی کے بیشتر اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل کر دیے گئے۔ اب مانع حمل سہولیات کی فراہمی، بنیادی صحت کے مراکز کی بہتری، تولیدی صحت کی خدمات، آگاہی مہمات اور آبادی کی منصوبہ بندی جیسے معاملات صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہیں، جبکہ وفاق صرف پالیسی سازی، بین الصوبائی ہم آہنگی اور بین الاقوامی معاہدوں کی نگرانی کرتا ہے۔
یہاں ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ صوبوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ آبادی میں اضافے کی رفتار کم کریں، لیکن وفاقی وسائل کی تقسیم کا نظام زیادہ آبادی رکھنے والے صوبوں کو نسبتاً زیادہ وسائل فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ کوئی صوبائی حکومت دانستہ طور پر آبادی بڑھانے کی کوشش نہیں کرتی، لیکن موجودہ نظام آبادی میں اضافے کو مالی لحاظ سے نقصان کے بجائے فائدہ مند بنا دیتا ہے۔
وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال پہلے ہی تجویز دے چکے ہیں کہ آئندہ این ایف سی ایوارڈ میں ان صوبوں کو اضافی مالی مراعات دی جائیں جو آبادی کے انتظام اور خاندانی منصوبہ بندی میں قابلِ پیمائش کامیابیاں حاصل کریں۔ یہ تجویز نہایت اہم ہے کیونکہ حکومتیں عموماً انہی شعبوں پر زیادہ توجہ دیتی ہیں جہاں بہتر کارکردگی کے نتیجے میں اضافی وسائل حاصل ہوں۔
آبادی کے مؤثر انتظام کے لیے صوبوں کو بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانا، مانع حمل ادویات اور سہولیات کی دستیابی بڑھانا، ماؤں اور بچوں کی صحت بہتر بنانا، لڑکیوں کی ثانوی تعلیم کو فروغ دینا اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق معاشرتی غلط فہمیوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ تمام اقدامات وقت، وسائل اور سیاسی عزم کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان کے نتائج بھی فوری نہیں بلکہ بتدریج سامنے آتے ہیں، جیسے صحت مند خاندان، کم انحصاری، بہتر معاشی پیداوار اور عوامی خدمات پر کم دباؤ۔ لیکن موجودہ این ایف سی فارمولے میں ان کامیابیوں کا کوئی مالی صلہ موجود نہیں۔
اسی نوعیت کا مسئلہ پاکستان کے کوٹہ نظام میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پسماندہ علاقوں کو روزگار اور تعلیم میں ترجیح دینا آئینی اور سماجی انصاف کا تقاضا ہے، لیکن موجودہ نظام پورے صوبوں یا دیہی علاقوں کو یکساں تصور کرتا ہے، حالانکہ ہر صوبے کے اندر ترقی یافتہ اور انتہائی محروم اضلاع موجود ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نسبتاً خوشحال علاقوں کے امیدوار بھی انہی مراعات سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں جو دراصل انتہائی پسماندہ علاقوں کے لیے مختص کی گئی تھیں۔ اس سے نہ صرف انصاف متاثر ہوتا ہے بلکہ حقیقی مستحق افراد بھی اپنے حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں۔
زیادہ مؤثر نظام یہ ہوگا کہ وفاقی ملازمتوں اور تعلیمی مواقع میں ترجیح کا تعین پورے صوبے کے بجائے ان اضلاع کی بنیاد پر کیا جائے جنہیں شفاف ترقیاتی اشاریوں کے ذریعے پسماندہ قرار دیا جائے۔ ان اضلاع کے امیدواروں کے درمیان میرٹ کی بنیاد پر مقابلہ ہو اور قومی سطح کا کم از کم معیار بھی برقرار رکھا جائے۔ اس طرح میرٹ بھی محفوظ رہے گا اور سماجی انصاف بھی بہتر انداز میں حاصل ہوگا۔
اسی طرح کسی ضلع کو ہمیشہ کے لیے پسماندہ قرار دینا بھی درست نہیں۔ اگر کسی ضلع میں تعلیم، صحت، آمدنی اور بنیادی سہولیات میں نمایاں بہتری آ جائے تو اسے بتدریج خصوصی مراعات سے نکال دینا چاہیے تاکہ پسماندگی مستقل مفاد نہ بن جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ اور کوٹہ نظام دونوں میں ایک ہی بنیادی کمزوری موجود ہے۔ ہمارا نظام مسائل کے وجود پر مالی معاونت تو فراہم کرتا ہے، لیکن ان مسائل کو کم کرنے والی کارکردگی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ این ایف سی ایوارڈ سے آبادی کا عنصر ختم کر دیا جائے۔ زیادہ آبادی والے صوبوں کو قدرتی طور پر زیادہ اسکول، اسپتال، سڑکیں، پانی کی فراہمی، پولیس اور دیگر عوامی خدمات درکار ہوتی ہیں۔ اس لیے آبادی کو نظر انداز کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا، خصوصاً ایسے صوبوں کے لیے جہاں غربت اور زیادہ شرحِ پیدائش ایک ساتھ موجود ہیں۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ موجودہ آبادی کی ضروریات اور مستقبل کی بہتر کارکردگی کے درمیان فرق پیدا کیا جائے۔ آبادی کو بنیادی معیار کے طور پر برقرار رکھا جائے تاکہ موجودہ شہریوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں، جبکہ غربت، پسماندگی، محصولات کی صلاحیت اور دور دراز علاقوں کو بھی مناسب اہمیت دی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ آئندہ این ایف سی ایوارڈ میں ایک الگ کارکردگی پر مبنی حصہ شامل کیا جائے، جس کے تحت وہ صوبے اضافی وسائل حاصل کریں جو آبادی کے انتظام، تولیدی صحت، خواتین کی تعلیم اور خاندانی منصوبہ بندی میں بہتر نتائج حاصل کریں۔ یہ نظام سزا کے بجائے انعام پر مبنی ہونا چاہیے۔
کارکردگی کا اندازہ صرف شرحِ پیدائش سے نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ اس پر معاشی حالات، ہجرت اور دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے بجائے ایسے اشاریے اختیار کیے جائیں جن پر صوبائی حکومتیں براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں، مثلاً مانع حمل سہولیات کی دستیابی، خاندانی منصوبہ بندی کی ضروریات کی تکمیل، کم عمری کی شادی اور حمل میں کمی، زچگی کی بہتر سہولیات، لڑکیوں کی ثانوی تعلیم کی شرح اور بنیادی صحت کے نظام کی بہتری۔
ہر صوبے کی کارکردگی اس کی اپنی ابتدائی حالت کے مطابق جانچی جائے۔ بلوچستان کا پنجاب سے براہِ راست موازنہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اگر کوئی نسبتاً کمزور صوبہ اپنی حالت میں نمایاں بہتری لاتا ہے تو اسے بھی مناسب مالی انعام ملنا چاہیے۔
سیاسی تنازعات سے بچنے کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ نئے مراعاتی فنڈ موجودہ صوبائی حصوں میں کمی کے بجائے وفاقی قابلِ تقسیم محاصل میں آئندہ اضافے سے فراہم کیے جائیں۔ اس طرح کسی صوبے کے موجودہ وسائل کم نہیں ہوں گے، جبکہ اضافی آمدنی بہتر کارکردگی سے مشروط ہوگی۔
ان مراعات کی تقسیم مکمل شفافیت کے ساتھ ہونی چاہیے اور ان کا تعلق ضلعی سطح پر عملی نتائج سے ہونا چاہیے، کیونکہ آبادی کی پالیسیوں پر عمل سیکریٹریٹ میں نہیں بلکہ بنیادی مراکزِ صحت، اسپتالوں، اسکولوں، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور ضلعی انتظامیہ کے ذریعے ہوتا ہے۔
پاکستان نے آبادی کے بارے میں بے شمار پالیسیاں، اعلانات اور منصوبے بنائے ہیں، مگر ان کی سب سے بڑی کمزوری ہمیشہ مؤثر عمل درآمد رہی ہے۔ صرف مالی وسائل فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ ایسے ادارہ جاتی محرکات بھی ضروری ہیں جو حکومتوں کو حقیقی نتائج دینے پر آمادہ کریں۔
لہٰذا این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن اصلاحات کا مقصد صرف فیصد تبدیل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا مالیاتی نظام تشکیل دینا چاہیے جو صوبوں کو بہتر کارکردگی، خواتین کی تعلیم، صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور پائیدار ترقی کی طرف راغب کرے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ شہریوں کی ضروریات پوری کرے، لیکن ساتھ ہی ایسے مالیاتی اصول بھی وضع کرے جو مستقبل میں غیر متوازن آبادی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیں۔ اگر پاکستان واقعی آبادی میں تیز رفتار اضافے کو قومی خطرہ سمجھتا ہے تو اس کی مالیاتی وفاقیت کو بھی اسی سوچ کی عکاسی کرنی چاہیے۔ آئندہ این ایف سی ایوارڈ ایسا ہونا چاہیے جس میں آبادی ایک اہم معیار ضرور ہو، مگر واحد اور غالب معیار نہ رہے، بلکہ بہتر کارکردگی، انسانی ترقی اور ذمہ دارانہ حکمرانی کو بھی قومی وسائل کی تقسیم میں نمایاں مقام حاصل ہو۔









