مشترکہ دریاؤں پر تنازع: بھارت کے طرزِ عمل پر پاکستان کی تشویش

[post-views]
[post-views]

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے مشترکہ آبی ذخائر کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان پر سنجیدہ تشویش پائی جاتی ہے۔

عالمی یومِ آب کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ اس سال کا موضوع “پانی اور صنفی مساوات” ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پانی تک رسائی کا مسئلہ صرف وسائل کا نہیں بلکہ معاشرتی انصاف کا بھی سوال ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے متعدد خطوں میں شہری غیر معیاری اور غیر محفوظ پانی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ صاف پانی اور مناسب نکاسیِ آب کی سہولت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

صدر کے مطابق پانی کی کمی اور ناقص رسائی کا سب سے زیادہ اثر خواتین اور بچیوں پر پڑتا ہے، جو پانی کے حصول کے لیے اپنا قیمتی وقت اور توانائی صرف کرتی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محفوظ اور مستقل آبی فراہمی کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھا جائے، اور اس کے لیے آبی وسائل کے بہتر انتظام اور مؤثر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد فراہم کرتا ہے، اور بھارت کو اس پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔

مزید برآں، انہوں نے ہائیڈرولوجیکل معلومات کے تبادلے میں رکاوٹوں پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos