اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کو قرار دیا کہ کسی سیاسی جماعت یا سرکاری عہدہ رکھنے والے شخص کو وفاقی دارالحکومت کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ عدالت نے تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو مجوزہ مارچ کے خلاف درخواست وفاقی اور صوبائی حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے نمٹا دی۔
تحریک انصاف نے گزشتہ ماہ پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا۔ ملک کے مختلف علاقوں سے قافلوں کے وفاقی دارالحکومت پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ جماعت نے لاہور، کراچی، حیدرآباد اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں کی اہم شاہراہوں پر احتجاج، ہڑتالوں اور مظاہروں کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔
شہری وقاص احمد کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مجوزہ احتجاج اور لانگ مارچ سے اسلام آباد میں ان کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ ان کے وکیل نے سرکاری وسائل کے ممکنہ استعمال پر بھی تحفظات ظاہر کیے اور 2024 میں تحریک انصاف کی اسلام آباد میں داخل ہونے کی سابقہ کوشش کا حوالہ دیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار سرفراز ڈوگر، جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل لارجر بینچ نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ کسی سیاسی مارچ، جلوس یا جلسے کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہ ہونے دیے جائیں۔
عدالت نے وزرائے اعلیٰ کو سرکاری فنڈز، گاڑیوں، مشینری، افسران یا دیگر سرکاری اہلکاروں کو سیاسی مظاہروں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی سرکاری ملازم کو احتجاج، مارچ یا جلسے میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
چیف سیکریٹریز کو عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت کی گئی۔ اگر کسی سرکاری ملازم پر سیاسی سرگرمی میں شرکت کے لیے دباؤ ڈالا جائے تو اسے فوری طور پر متعلقہ چیف سیکریٹری، چیف کمشنر یا انسپکٹر جنرل پولیس کو آگاہ کرنے کا حکم دیا گیا۔
عدالت نے سرکاری افسران کو یہ یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی کہ ان کے ماتحت ملازمین اسلام آباد کی جانب جانے والے کسی مارچ یا احتجاج میں شریک نہ ہوں۔
وفاقی سطح پر وزارت داخلہ اور اسلام آباد انتظامیہ کو شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کا حکم دیا گیا۔ صوبائی چیف سیکریٹریز اور پولیس سربراہان کے ساتھ وفاقی سیکریٹری داخلہ، اسلام آباد کے چیف کمشنر اور انسپکٹر جنرل پولیس کو بھی عدالتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
11 ستمبر کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں عدالت نے خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس سے حلف نامے طلب کیے تھے کہ 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے صوبائی حکومت کی مشینری استعمال نہیں کی جائے گی۔
خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرۂ اختیار پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ عدالت کا اختیار اسلام آباد تک محدود ہے اور دوسرے صوبوں تک نہیں پھیلتا۔ تاہم صوبائی چیف سیکریٹری اور پولیس سربراہ نے حلف نامے جمع کرا کر یقین دہانی کرائی کہ احتجاج کے لیے سرکاری وسائل اور مشینری استعمال نہیں ہوگی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید سے پوچھا کہ غیر قانونی احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس کیا اقدامات کرے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حلف نامے میں واضح ہونا چاہیے کہ کسی غیر قانونی احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی اور غیر قانونی سرگرمی میں ملوث مظاہرین کو منتشر کیا جائے گا۔ پولیس سربراہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جائے گا۔
عدالت نے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نوید ملک کی وہ درخواست بھی منظور کی جس میں تحریک انصاف کے 2022 اور 2024 کے احتجاج کی ویڈیوز دکھانے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ بعد ازاں یہ ویڈیوز عدالت میں چلائی گئیں۔
نوید ملک نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق قوانین پہلے سے موجود ہیں۔ منتظمین کے لیے ضروری ہے کہ وہ احتجاج کی اجازت کے لیے درخواست دیں اور مجوزہ احتجاج کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ مناسب حفاظتی انتظامات کیے جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹ کو اجازت کی درخواست مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے اور مطلوبہ اجازت کے بغیر قانونی طور پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کسی بھی علاقے کو ریڈ زون قرار دینے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔
اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ مارچ کے بظاہر دو مقاصد ہیں، ایک سزا یافتہ قیدی کی رہائی اور دوسرا حکومت کا خاتمہ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ مارچ پُرامن رہے گا اور دونوں مطالبات کو غیر آئینی قرار دیا۔
خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل کے اس مؤقف پر کہ احتجاج کا مقصد عدلیہ کو مضبوط کرنا اور قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہے، نوید ملک نے کہا کہ سزا یافتہ قیدی کی رہائی کے خواہش مند افراد کو عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے۔ اسی طرح وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے سڑکوں پر حکومت تبدیل کرنے کے بجائے پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ دفعہ 144 کے نفاذ سمیت احتیاطی اقدامات کرسکتی ہے، تاہم شہریوں کے خلاف مہلک طاقت استعمال نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق حالات قابو سے باہر ہونے سے پہلے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد لارجر بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں وفاقی اور صوبائی حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔









