اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے منگل کے روز پاکستان انفارمیشن کمیشن (PIC) کے اس حکم کو معطل کر دیا جس کے تحت پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کو اپنی سالانہ بجٹ، آڈٹ رپورٹس، قومی کرکٹرز اور سلیکشن کمیٹی کے ارکان کی تنخواہوں اور مراعات، نیز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر پر مشتمل سنگل بینچ نے پی سی بی کی جانب سے ایڈووکیٹ کاشف علی ملک کے ذریعے دائر آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فریقین کو 22 ستمبر 2026 کے لیے نوٹس جاری کر دیے اور اگلی سماعت تک 9 جولائی کو جاری کیے گئے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے پر عمل درآمد معطل کر دیا۔
پی سی بی نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ انفارمیشن کمیشن نے اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے حقِ معلومات تک رسائی ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی کی ہے۔ بورڈ کا کہنا تھا کہ کمیشن نے سیکشن 5 کے تحت لازمی طور پر عوامی سطح پر جاری کی جانے والی معلومات اور ان معلومات میں فرق نہیں کیا جو قانون کے تحت ذاتی رازداری، خفیہ معاہدوں، تجارتی طور پر حساس معلومات اور تیسرے فریق کے مفادات کے باعث مستثنیٰ قرار دی گئی ہیں۔
پی سی بی نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اس کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ سرکاری فنڈز نہیں بلکہ تجارتی سرگرمیاں ہیں، لہٰذا درخواست میں طلب کی گئی معلومات ادارے کے مالی معاملات سے بڑھ کر مخصوص افراد کی ذاتی مالی تفصیلات سے متعلق ہیں۔ بورڈ کے مطابق ادارہ جاتی شفافیت اور افراد کے نجی مالی معاملات کے درمیان فرق کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ گزشتہ کچھ عرصے سے مالی شفافیت کے حوالے سے تنقید کی زد میں ہے۔ محسن نقوی کی 2024 میں بطور چیئرمین تقرری کے بعد پی سی بی نے اپنی ویب سائٹ پر تفصیلی مالیاتی رپورٹس شائع کرنے کا سابقہ طریقہ کار بند کر دیا، جس پر شفافیت کے حامی حلقوں نے اعتراض اٹھایا اور اسی تناظر میں معلومات کے حصول کی درخواستیں دائر کی گئیں۔
سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل آصف خان جدون بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے پی سی بی کی استثنیٰ کی درخواست بھی منظور کر لی، تاہم اسے تمام قانونی اور جائز استثنیٰ کی شرائط سے مشروط رکھا۔
عدالت نے مزید کارروائی کے لیے کیس کی سماعت 22 ستمبر 2026 تک ملتوی کر دی۔









