امریکہ نے جبری مشقت سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی روک تھام میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنے ساٹھ تجارتی شراکت داروں پر نئے درآمدی محصولات نافذ کر دیے ہیں۔ ان ممالک کا مجموعی حصہ امریکی درآمدات کی بھاری اکثریت پر مشتمل ہے۔
دس سے بارہ اعشاریہ پانچ فیصد تک کے یہ نئے محصولات برطانیہ، چین، یورپی اتحاد، کینیڈا، جاپان اور بھارت سمیت دنیا کی بڑی معیشتوں پر عائد کیے گئے ہیں۔ یہ محصولات جمعہ سے نافذ العمل ہو گئے، جب غیر ملکی مصنوعات پر عائد عارضی دس فیصد محصول اپنی مدت پوری ہونے پر ختم ہوا۔
یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گزشتہ برس اقتدار میں واپسی کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی عالمی تجارتی کشیدگی کا تازہ مرحلہ ہے۔ رواں سال امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ ہنگامی اختیارات کے تحت ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے متعدد محصولات قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھے، جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے متبادل قانونی راستے اختیار کیے۔ گزشتہ ماہ انتظامیہ نے جبری مشقت کے خدشات کی بنیاد پر درجنوں ممالک سے درآمدات پر دس سے بارہ اعشاریہ پانچ فیصد تک محصولات کی تجویز پیش کی تھی، اور جمعرات کو امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ان کے نفاذ کی تصدیق کر دی۔
جیمیسن گریر نے اپنے بیان میں کہا کہ “آج کا اقدام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور تجارت میں بگاڑ پیدا کرنے والے طرزِ عمل کی اصلاح کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے دنیا بھر کے محنت کشوں کی فلاح میں بہتری آئے گی۔”
انہوں نے تجارتی قانون 1974ء کی دفعہ 301 کا حوالہ دیا۔ اسی ہفتے امریکی انتظامیہ نے محصولات قانون 1930ء کی دفعہ 338 کے تحت کینیڈا کی مصنوعات پر پچاس فیصد محصولات بھی عائد کیے تھے۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق یہ محصولات امریکہ کے سرفہرست ساٹھ تجارتی شراکت داروں پر لاگو ہوں گے، جو مجموعی طور پر امریکی درآمدات کا ننانوے اعشاریہ چار فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ اقدام ان ممالک کے خلاف کیا گیا ہے جنہوں نے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر مؤثر پابندی نافذ نہیں کی یا اس پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا۔
دفتر کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے باہمی تجارتی معاہدوں میں ایسی پابندیوں کو بنیادی شرط قرار دیا ہے۔ اب تک دس تجارتی شراکت دار ایسی پابندیاں نافذ کرنے پر آمادہ ہو چکے ہیں، جبکہ کئی دیگر ممالک امریکی تحقیقات کے بعد اسی نوعیت کے اقدامات کر رہے ہیں۔ جن ممالک نے پابندیوں پر اتفاق کیا ہے، ان پر دس فیصد جبکہ باقی ممالک پر بارہ اعشاریہ پانچ فیصد محصولات نافذ ہوں گے۔
ہنرِچ فاؤنڈیشن کی تجارتی ماہر ڈیبورا ایلمز کے مطابق یہ نئے محصولات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی محصولات پر مبنی حکمتِ عملی جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے بقول متاثرہ ممالک کے لیے یہ ثابت کرنا آسان نہیں ہوگا کہ ان کی درآمدی رسد میں جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات شامل نہیں۔
ایشیا سوسائٹی پالیسی ادارے سے وابستہ وینڈی کٹلر نے کہا کہ ان محصولات سے کاروباری اداروں اور صارفین کے اخراجات میں اضافہ ہوگا، اگرچہ بعض استثنائی رعایتیں اس کے اثرات کو کسی حد تک کم کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق بیشتر متاثرہ ممالک امریکی منڈی پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل تجارتی معاہدوں کی کوشش کریں گے۔
عالمی ردِعمل
بارہ اعشاریہ پانچ فیصد محصول کا سامنا کرنے والے برازیل نے امریکی اقدام کو “بلاجواز” اور “من مانا” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ واشنگٹن مزدوروں کے حقوق جیسے سنجیدہ مسئلے کو تحفظ پسند تجارتی پالیسی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ برازیل نے اعلان کیا کہ وہ اپنے باہمی تجارتی قانون کے تحت جواب دے گا اور متبادل تجارتی شراکت داروں کی تلاش بھی کرے گا۔
یہ نیا محصول اس پچیس فیصد امریکی محصول کے علاوہ ہے جو رواں ماہ برازیل کی فرنیچر، مشینری، چینی اور دیگر مصنوعات پر عائد کیا گیا تھا، اگرچہ گائے کے گوشت اور کافی جیسی بعض مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
جاپان نے نئے محصولات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تجارتی پالیسیاں پہلے ہی بین الاقوامی اصولوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔
آسٹریلیا کے وزیر تجارت ڈان فیرل نے ان محصولات کو “مکمل طور پر بلاجواز” قرار دیا اور کہا کہ وہ آسٹریلوی مصنوعات پر عائد تمام امریکی محصولات ختم کرانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔
چین نے امریکی الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “چین میں جبری مشقت نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔” چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ تاہم متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں، خصوصاً سنکیانگ میں مسلم نسلی اقلیتوں کے حوالے سے، جبری مشقت کے شواہد سامنے لا چکی ہیں۔
ٹرمپ کی مستقل تجارتی حکمتِ عملی
صدر ٹرمپ طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ محصولات امریکی صنعت اور کارکنوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ اپریل 2025ء میں انہوں نے “یومِ آزادی” کے عنوان سے دنیا بھر کے تجارتی شراکت داروں پر پچاس فیصد تک محصولات عائد کیے تھے تاکہ ان کے بقول امریکہ کے ساتھ ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔
تاہم فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے ان محصولات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کر گئے تھے، جس کے نتیجے میں حکومت کو اربوں ڈالر واپس کرنا پڑے۔
اس فیصلے کے بعد امریکی انتظامیہ نے نئے قانونی راستے اختیار کیے، جن میں اب ختم ہونے والا عارضی دس فیصد محصول، برازیل اور کینیڈا پر علیحدہ محصولات، اور دیگر متبادل اقدامات شامل ہیں۔ چین کے ساتھ باہمی محصولات کی کشیدگی فی الحال معطل ہے، جبکہ میکسیکو جیسے ممالک کے ساتھ امریکہ نے محصولات کو غیر تجارتی معاملات میں دباؤ کے ایک ذریعہ کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔ اس وقت امریکی انتظامیہ مزید سولہ ممالک کے خلاف بھی تحقیقات کر رہی ہے، جن پر ضرورت سے زیادہ صنعتی پیداوار اور تجارتی عدم توازن پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔









