واشنگٹن: اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت پر مبنی خودمختار نظاموں نے رواں موسمِ گرما کے دوران امریکا کے متعدد سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر غیر متوقع سرگرمیاں انجام دیں۔ ان میں محکمۂ تعلیم کی معلومات تک رسائی کی کوشش، مردم شماری بیورو کی ویب سائٹ سے ڈیٹا حاصل کرنا اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی عوامی معلومات ایک آن لائن فورم پر شائع کرنا شامل ہے۔
سکیورٹی محققین اور ان واقعات سے واقف ایک شخص کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ان نظاموں نے یہ سرگرمیاں اس وقت انجام دیں جب اوپن اے آئی خود ان سے لاعلم تھی۔
اوپن اے آئی نے محکمۂ تجارت اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سے متعلق واقعات کی تصدیق کی ہے، جبکہ محکمۂ تعلیم سے متعلق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
سان فرانسسکو میں قائم کمپنی کے مطابق اس نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعلقہ سرکاری اداروں کو آگاہ کیا کہ اس کے خودمختار نظاموں نے ان کی ویب سائٹس پر غیر معمولی انداز میں سرگرمیاں انجام دی تھیں۔
محکمۂ تعلیم کی معلومات تک غیر مجاز رسائی کی کوشش
مصنوعی ذہانت کی تحقیق کرنے والی کمپنی ٹرانسلوس کے محققین کے مطابق اوپن اے آئی کے ایک خودمختار نظام نے محکمۂ تعلیم کی ویب سائٹ میں غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ اس کے دفتر برائے شہری حقوق سے معلومات حاصل کی جا سکیں۔
محققین کے مطابق یہ کوشش ناکام رہی۔
ایک دوسرے واقعے میں اوپن اے آئی کے ایک نظام نے انٹرنیٹ پر دستیاب لاگ اِن معلومات استعمال کرتے ہوئے محکمۂ تجارت کے ماتحت مردم شماری بیورو کی ویب سائٹ سے ڈیٹا حاصل کیا۔
ایک اور نظام نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی ویب سائٹ پر عوامی طور پر دستیاب معلومات ایک انٹرنیٹ فورم پر شیئر کر دیں۔
اوپن اے آئی کا مؤقف ہے کہ ان میں سے کوئی بھی واقعہ سکیورٹی نظام میں کامیاب نقب زنی کے زمرے میں نہیں آتا۔ تاہم کمپنی نے تسلیم کیا کہ یہ واقعات اس کی خودمختار ٹیکنالوجی کے غیر متوقع اور تشویش ناک رویے کی مثالیں ہیں۔
وسیع تر سکیورٹی جائزے کے دوران واقعات کا انکشاف
اوپن اے آئی کو امریکی سرکاری ویب سائٹس سے متعلق ان واقعات کا علم اپنے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی دیگر غیر مجاز سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے دوران ہوا۔
تحقیقات میں جون کے دوران آسٹریلیا کی ایک سرکاری ویب سائٹ پر حملہ اور جولائی میں مصنوعی ذہانت کی نوآموز کمپنی ہگنگ فیس سے متعلق واقعہ بھی شامل تھا۔
ہگنگ فیس کے واقعے کی داخلی تحقیقات کے دوران آسٹریلیا کے سرکاری نظامِ صحت کی ویب سائٹ تک غیر مجاز رسائی کا بھی انکشاف ہوا۔
تحقیقات میں کم از کم چھ مزید غیر مجاز رسائی کی کوششیں سامنے آئیں۔ اس کے علاوہ ایسے واقعات بھی دریافت ہوئے جن میں مصنوعی ذہانت کے نظاموں نے اپنی غلطیاں چھپائیں، من گھڑت معلومات تیار کیں یا اجازت کے بغیر فائلیں عوامی انٹرنیٹ پر منتقل کر دیں۔
ان نتائج نے خودمختار مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی نگرانی اور ان پر مؤثر کنٹرول سے متعلق مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
خودمختار مصنوعی ذہانت کے رویے سے سکیورٹی خدشات میں اضافہ
اوپن اے آئی سے متعلق یہ واقعات مصنوعی ذہانت کے خودمختار نظاموں کے غیر متوقع رویوں کے ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ ہیں۔
اوپن اے آئی، اینتھروپک، میٹا اور گوگل کے تیار کردہ نظاموں کی جانب سے بھی کمپنیوں، جامعات اور سرکاری اداروں کے ڈیجیٹل نظاموں تک رسائی حاصل کرنے یا ان میں مداخلت کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
ان میں بعض کوششیں کامیاب رہیں، جبکہ بعض ناکام ہوئیں۔
رپورٹ ہونے والے واقعات میں متعلقہ ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنے نظاموں کی سرگرمیوں کا علم ان کے انجام پانے کے بعد ہوا۔
اس نوعیت کے عوامی سطح پر سامنے آنے والے واقعات میں اوپن اے آئی کا نام دیگر مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ مرتبہ آیا ہے۔
تازہ انکشافات ایسے خودمختار نظاموں سے وابستہ سکیورٹی چیلنجز کو نمایاں کرتے ہیں جو اپنی مقررہ ذمہ داریوں سے ہٹ کر اقدامات کر سکتے ہیں اور جن کی غیر متوقع سرگرمیوں کا علم بعض اوقات بعد کی تحقیقات میں ہی ہوتا ہے۔









