اسٹرابیری کی عالمی دوڑ میں بھارت کا نیا سائنسی منصوبہ

[post-views]
[post-views]

مہابلیشور، بھارت — مغربی گھاٹ کے پہاڑی سلسلے میں ایک ہزار میٹر سے زائد بلندی پر واقع مہابلیشور کا ٹھنڈا، دھند آلود اور ہلکی مٹی والا سطح مرتفع بھارت کی تقریباً 85 فیصد اسٹرابیری پیدا کرتا ہے۔ تاہم ملک کا سب سے بڑا اسٹرابیری پیدا کرنے والا یہ خطہ شدید موسمیاتی خطرات اور غیر ملکی اقسام پر مکمل انحصار جیسے مسائل سے دوچار ہے۔

اب جوہری تابکاری کے ذریعے جینیاتی تبدیلی اور ہائی ٹیک عمودی ہائیڈروپونک کاشت پر مبنی دو نئی حکمت عملیاں بھارت کو اسٹرابیری کی عالمی طاقت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

غیر ملکی اقسام پر انحصار اور کسانوں کے لیے بڑا خطرہ

مقامی کسانوں کے لیے اسٹرابیری کی کاشت ایک پرخطر سرمایہ کاری ہے۔ چونکہ اسٹرابیری بیج سے نہیں بلکہ ہر موسم میں نئے پودوں کے ذریعے کاشت کی جاتی ہے، اس لیے کسانوں کو ہر سال خصوصی نرسریوں سے پنیری خریدنا پڑتی ہے۔ صرف ڈیڑھ ایکڑ زمین کے لیے اس پر تقریباً ڈھائی ہزار امریکی ڈالر خرچ آتا ہے۔

مقامی کسان شیتل داناولے کہتے ہیں، “اگر موسم سازگار رہے تو سرمایہ دگنا ہو جاتا ہے، لیکن اگر اچانک شدید بارش ہو جائے تو پوری فصل تباہ ہو جاتی ہے اور ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔”

مہاراشٹرا میں نومبر سے جنوری تک جاری رہنے والے برداشت کے موسم میں غیر موسمی بارشیں اب ایک معمول بنتی جا رہی ہیں، جس سے کسانوں کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔

مسئلہ صرف موسم کا نہیں بلکہ پودوں کی اقسام کا بھی ہے۔ تجارتی معیار کی نئی اقسام تیار کرنے، ان کی افزائش اور پیٹنٹ حاصل کرنے میں مغربی ممالک کو 10 سے 15 سال لگتے ہیں، جس کے باعث بھارتی نرسریاں آج بھی کیلیفورنیا، فلوریڈا، اٹلی اور اسپین سے بنیادی مادری پودے درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔

قرنطینہ کی منظوری کے بعد یہی مادری پودے مزید پنیری تیار کرنے کی بنیاد بنتے ہیں۔ تارا فارمز فریش کے بانی نیلسن سیکویرا کے مطابق، “ایک درآمد شدہ مادری پودا اوسطاً 20 نئے پودے پیدا کرتا ہے، جبکہ جدید طریقوں سے یہ تعداد 30 سے 40 تک پہنچ سکتی ہے۔”

ان کی نرسری میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، جہاں پودوں کو زمین سے بلند صنعتی نالیوں میں ناریل کے ریشوں سے تیار کردہ مخصوص مادے میں اگایا جاتا ہے، جبکہ خودکار آبپاشی اور دھند پیدا کرنے والے نظام کے ذریعے درجہ حرارت اور نمی کو مسلسل قابو میں رکھا جاتا ہے۔

موسمیاتی مزاحمت کے لیے جوہری افزائش

غیر ملکی اقسام پر انحصار ختم کرنے کے لیے مہاتما پھلے کرشی ودیاپیٹھ زرعی یونیورسٹی نے بھابھا ایٹمی تحقیقی مرکز کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔

اس منصوبے کے تحت پودوں کے خلیوں پر کم شدت کی گاما شعاعیں استعمال کرکے ایسی جینیاتی تبدیلیاں پیدا کی جا رہی ہیں جو بھارت کی پہلی مقامی اسٹرابیری قسم کی تیاری میں مددگار ثابت ہوں۔

یونیورسٹی کے شعبہ باغبانی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر درشن ششنک کدم کے مطابق، “ہمارا مقصد ایسی مقامی قسم تیار کرنا ہے جو غیر ملکی اقسام کی جسامت اور مضبوطی بھی رکھتی ہو اور بھارتی گرمی کی شدت کو بھی بہتر انداز میں برداشت کر سکے۔”

اگرچہ مکمل طور پر مقامی اور گرمی برداشت کرنے والی قسم تیار ہونے میں ابھی 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں، تاہم یونیورسٹی اس دوران کسانوں کو کاشت کے اوقات، افزائشی ہارمونز اور مقامی موسمی حالات کے مطابق کھاد کے مؤثر استعمال کے بارے میں رہنمائی فراہم کر رہی ہے۔

ہائیڈروپونک ٹیکنالوجی سے سال بھر پیداوار

دوسری جانب بڑی زرعی کمپنیاں مٹی کے بغیر ہائیڈروپونک نظام اپنا کر موسمی خطرات سے تقریباً آزاد ہو چکی ہیں۔

بیری فریش ایگروٹیک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو کیتن یشونت سودھا نے 2022 میں مسلسل غیر موسمی بارشوں سے فصلیں تباہ ہونے کے بعد روایتی کاشت ترک کر دی۔

وہ کہتے ہیں، “مٹی میں غلطی کی گنجائش ہوتی ہے، مگر ہائیڈروپونکس میں ایسا نہیں۔ اگر آج کوئی غلطی ہو جائے تو اگلے دن پوری فصل تباہ ہو سکتی ہے۔”

دنیا بھر کی 19 مختلف اقسام، جن میں جاپان اور نیدرلینڈز کی نایاب اقسام بھی شامل تھیں، آزمانے کے بعد ان کی کمپنی نے نیم بند پالی ہاؤسز اور انتہائی محدود آبپاشی کا نظام تیار کیا، جس میں ہر پودے کو روزانہ صرف 75 ملی لیٹر پانی دیا جاتا ہے تاکہ پھل میں قدرتی مٹھاس اور خوشبو زیادہ سے زیادہ پیدا ہو۔

کمپنی کی ٹیم پودوں کی صحت کا مسلسل لیبارٹری تجزیہ بھی کرتی ہے تاکہ غذائی اجزاء کی مقدار کو درست انداز میں متوازن رکھا جا سکے۔

اس مکمل کنٹرول شدہ نظام کی بدولت بیری فریش ایگروٹیک اب صرف سردیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سال بھر اسٹرابیری پیدا کر رہی ہے اور اپنی پیداوار کو مزید وسعت دینے کی تیاری کر رہی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]