ریاض: سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کے درمیان مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب پر ایران کے حملوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔
شہزادہ خالد بن سلمان نے ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پر بتایا کہ گفتگو کے دوران ایران کے حملوں اور انہیں روکنے کے لیے مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا اور کسی غلط اندازے سے گریز کرے گا۔
امریکہ اور اسرائیل نے ۲۸ فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی فوجی تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں، جس سے خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور عالمی معیشت پر بھی اثرات پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق ہفتے کے روز خالی ربع کے علاقے میں واقع شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے والے کئی ڈرون مار گرائے گئے۔ اسی طرح منگل کے روز ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ایک ڈرون حملہ ہوا جس سے معمولی آگ لگی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے گزشتہ ستمبر میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
دوسری جانب سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف سے پاکستان کے وزیر داخلہ رضا نقوی نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔









