پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ حکومت ماضی کے سانحات سے سبق سیکھنے میں ناکام رہی ہے، اور الزام عائد کیا کہ سابقہ واقعات کے بعد بروقت اقدامات کیے جاتے تو موجودہ بحران کو روکا جا سکتا تھا۔ انہوں نے وفاقی وزیرِ صحت کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ رویے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ جو بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ سانحہ وزارتِ صحت کی ذمہ داری کے دائرے سے باہر ہے، اسے مستعفی ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تقریباً 30 لاکھ آبادی والے شہر اسلام آباد میں دو ایسے اسپتال کیسے ہوسکتے ہیں جہاں آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات موجود نہ ہوں۔ انہوں نے پی آئی ایم ایس آتش زدگی کی تحقیقات کے لیے پانچ الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دینے پر بھی تنقید کی اور سوال کیا کہ کہیں حکومت احتساب سے بچنے کی کوشش تو نہیں کر رہی۔
معاشی معاملات پر بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما نے زراعت پر عائد کیے جانے والے مبینہ 45 فیصد ٹیکس بوجھ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے کسانوں کا ’’معاشی قتل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے گندم اور گنے کی امدادی قیمتوں سے متعلق پالیسیوں اور گنے کی موجودہ قیمت پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ آیا یہ اقدامات عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط سے منسلک ہیں۔ انہوں نے حکومتی اہلکاروں پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے اور مطالبہ کیا کہ جن افراد پر الزامات ہیں، ان کے خلاف مناسب تحقیقات کی جائیں، بجائے اس کے کہ انہیں گالی گلوچ یا سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے۔
مرتضیٰ نے مہنگائی کے معاملے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پٹرول کی قیمت میں حالیہ چند پیسوں کی کمی پہلے کی گئی قیمتوں میں اضافے کے مقابلے میں بے معنی ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے افسران اور ضلعی پولیس افسران کے ذریعے مقامی حکومتوں کے اختیارات کو مرکز میں مرتکز کرنے کی بھی مخالفت کی۔
پی آئی ایم ایس سانحہ
پیپلز پارٹی کے رہنما نے پی آئی ایم ایس سانحے کے ذمہ داران کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد عوام کے سامنے لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں نے اپنے بچوں کے ساتھ خوشیاں منانے کی تیاری کی تھی، انہیں بالآخر اپنے بچوں کی لاشیں وصول کرنا پڑیں، اس لیے وہ اس واقعے کی مکمل تفصیلات جاننے کے حق دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پارلیمان کے اندر مہنگائی اور عوامی شکایات کے مسائل اٹھا رہی ہے اور سیاسی جماعتوں کے احتجاج اور دھرنے دینے کے حق کا دفاع کیا۔
مرتضیٰ نے حزبِ اختلاف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ بنیادی طور پر تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی اور طبی علاج پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ فیصلہ کرتی ہے تو ان کی جماعت حکمران اتحاد سے الگ ہوجائے گی۔
انہوں نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ سیاسی وفاداروں کو ماہرین کے طور پر سرکاری عہدوں پر تعینات کرکے نوازا گیا ہے۔








