پاکستان کے قومی بجلی کے نظام کو ایک ایسے بحران کا سامنا ہے جو نہ تو بڑے بریک ڈاؤن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور نہ ہی کسی اچانک تباہی کے ذریعے۔ یہ بحران آہستہ آہستہ اعداد و شمار میں نمایاں ہو رہا ہے، یہاں تک کہ ایک ایسا نظام، جو پورے ملک کو بجلی فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، رفتہ رفتہ اپنے صارفین سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔
مارچ 2022 میں قومی گرڈ پر موسمِ گرما کے دوران بجلی کی بلند ترین طلب 15,297 میگاواٹ تھی، جو مارچ 2025 تک کم ہو کر صرف 8,282 میگاواٹ رہ گئی۔ صرف تین برسوں میں تقریباً 7,000 میگاواٹ کی یہ کمی بظاہر ایسا تاثر دیتی ہے کہ ملک میں بجلی کی مجموعی طلب کم ہو رہی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
درحقیقت پاکستان میں بجلی کا مجموعی استعمال بڑھا ہے۔ مالی سال 2022 میں قومی گرڈ کے ذریعے 123 ٹیراواٹ گھنٹے اور شمسی توانائی سے 8 ٹیراواٹ گھنٹے بجلی استعمال کی گئی۔ مالی سال 2025 تک گرڈ کی کھپت معمولی اضافے کے ساتھ 124 ٹیراواٹ گھنٹے تک پہنچی، جبکہ شمسی توانائی کا استعمال بڑھ کر 38 ٹیراواٹ گھنٹے ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی کم بجلی استعمال نہیں کر رہے بلکہ اپنی ضرورت کا بڑا حصہ اب گھروں کی چھتوں پر نصب سولر سسٹمز سے پورا کر رہے ہیں، جو قومی گرڈ سے باہر ہیں۔
اس تبدیلی کا ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ دن کے وقت، جب سولر پینلز پوری استعداد سے بجلی پیدا کرتے ہیں، قومی گرڈ پر طلب انتہائی کم ہو جاتی ہے، جبکہ سورج غروب ہونے کے بعد یہی طلب دوبارہ تیزی سے بڑھ جاتی ہے کیونکہ صارفین دوبارہ گرڈ پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ ایسے بجلی گھروں کے لیے، جو مسلسل اور متوازن لوڈ پر چلنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے، یہ روزانہ کا اتار چڑھاؤ ایک سنگین تکنیکی مسئلہ بن چکا ہے۔ بار بار بجلی گھروں کو بند اور دوبارہ مکمل استعداد پر چلانے سے مشینری تیزی سے متاثر ہوتی ہے، اخراجات بڑھتے ہیں اور پورے نظام پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ برسوں میں گرمیوں کے دنوں میں گرڈ پر طلب صرف 2,000 میگاواٹ تک گر سکتی ہے، جو اس نظام کی اصل گنجائش سے کہیں کم ہے۔
یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے۔ قومی گرڈ کا پورا مالی ڈھانچہ اس تصور پر قائم ہے کہ زیادہ سے زیادہ صارفین بجلی خریدیں تاکہ پیداوار، ترسیل اور دیکھ بھال کے اخراجات سب پر تقسیم ہو سکیں۔ لیکن جب زیادہ بجلی استعمال کرنے والے اور مالی طور پر مضبوط صارفین سولر سسٹمز کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں تو باقی صارفین پر اخراجات کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بجلی مہنگی ہوتی جاتی ہے، جس سے مزید لوگ، اگر استطاعت رکھتے ہوں، سولر توانائی کی طرف منتقل ہونے لگتے ہیں، اور یوں قومی گرڈ سے صارفین کے نکلنے کا یہ سلسلہ مزید تیز ہو جاتا ہے۔
یہ کوئی دور کا خدشہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو پہلے ہی سامنے آ چکی ہے۔ موجودہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان صرف توانائی کی پالیسی کے بحران کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ اس کے قومی بجلی کے نظام کی بقا بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ایسا گرڈ جس کی دن کے وقت ضرورت نہ رہے اور جو صرف رات کے وقت استعمال ہو، دراصل اندر ہی اندر کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے، اور اس عمل کو ہر نیا سولر پینل مزید تیز کر رہا ہے۔









