بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

مذہب: رابرٹس کورٹ کا ابھی تک نامکمل آئینی معاملہ

[post-views]
[post-views]

چیف جسٹس جان رابرٹس جب سپریم کورٹ میں اپنی بائیسویں مدت کا آغاز کر رہے ہیں تو ان کی سربراہی میں عدالت امریکی آئینی قانون کے کئی اہم شعبوں کو نمایاں طور پر تبدیل کر چکی ہے۔ تاہم ایک بنیادی معاملہ اب بھی پوری طرح طے نہیں ہوا: مذہب اور ریاست کے درمیان آئینی تعلق کی حدود۔

رابرٹس کورٹ کے دور میں مثبت امتیاز کی پالیسی کو ختم کیا گیا، رو بنام ویڈ کا فیصلہ کالعدم ہوا، ووٹنگ رائٹس ایکٹ کے تحفظات محدود ہوئے اور وفاقی انتظامی اداروں کے اختیارات اور خودمختاری میں بھی کمی آئی۔ اسی طرح اسلحہ رکھنے کے حق سے متعلق مقدمات میں تاریخی تشریحات کو زیادہ اہمیت دی گئی، جس کے نتیجے میں بعض اقسام کی اسلحہ قانون سازی کی گنجائش محدود ہوئی۔

اسی وسیع تر عدالتی تبدیلی کے دوران مذہب سے متعلق آئینی اصول بھی نمایاں طور پر تبدیل ہوئے ہیں، لیکن ان کی حتمی حدود ابھی متعین ہونا باقی ہیں۔

چرچ اور ریاست کی علیحدگی سے مساوی رسائی تک

گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکی سپریم کورٹ نے بتدریج یہ اصول مضبوط کیا ہے کہ حکومت محض مذہبی حیثیت کی بنیاد پر کسی مذہبی ادارے کو ایسے عوامی فوائد سے محروم نہیں کر سکتی جو دوسرے نجی اداروں کے لیے دستیاب ہوں۔

اس سمت میں ایک اہم فیصلہ 2017 میں سامنے آیا، جب عدالت نے قرار دیا کہ ریاست میسوری کسی چرچ کے زیرِ انتظام اسکول کو صرف اس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے اسکولوں کے کھیل کے میدانوں کی سطح بہتر بنانے کے سرکاری پروگرام سے خارج نہیں کر سکتی۔

میسوری نے اپنی ریاستی آئینی شق کی بنیاد پر چرچ کو سرکاری مالی معاونت فراہم کرنے سے انکار کیا تھا۔ تاہم چیف جسٹس رابرٹس نے عدالت کی جانب سے لکھتے ہوئے مذہبی ادارے کو عمومی طور پر دستیاب عوامی سہولت سے محروم کرنے کو آئینی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔

اس فیصلے نے ایک اہم اصول کو تقویت دی: اگر حکومت کسی عمومی عوامی پروگرام کے فوائد سیکولر نجی اداروں کو فراہم کرتی ہے تو محض مذہبی حیثیت کی وجہ سے اسی نوعیت کے مذہبی اداروں کو خارج کرنا مذہبی آزادی کے آئینی تحفظات سے متصادم ہو سکتا ہے۔

مذہبی تعلیم تک اصول کی توسیع

2022 میں کارسن بنام میکِن مقدمے میں عدالت نے اسی اصول کو مزید وسعت دی۔

ریاست مین ایسے علاقوں کے خاندانوں کو ٹیوشن امداد فراہم کرتی تھی جہاں سرکاری ثانوی اسکول دستیاب نہیں تھے۔ خاندان اس سرکاری امداد کو اہل نجی تعلیمی اداروں میں استعمال کر سکتے تھے، لیکن مذہبی اسکول اس سہولت سے مستثنیٰ تھے۔

سپریم کورٹ نے اس پابندی کو غیر آئینی قرار دیا۔

چیف جسٹس رابرٹس کے مطابق مذہبی اداروں کو عوامی فوائد تک رسائی دینے سے متعلق عدالت کے سابقہ فیصلوں میں قائم کیے گئے اصول ہی اس مقدمے کے فیصلے کے لیے کافی تھے۔

یوں عدالت کا آئینی اصول کھیل کے میدان کی تعمیر و مرمت جیسے محدود سرکاری فائدے سے آگے بڑھ کر سرکاری مالی معاونت سے نجی تعلیم تک پہنچ گیا۔

کولوراڈو کا مقدمہ نئی آئینی حد متعین کر سکتا ہے

اب کولوراڈو کے یونیورسل پری اسکول پروگرام سے متعلق مقدمہ ایک مختلف اور زیادہ پیچیدہ سوال سامنے لا رہا ہے۔

کولوراڈو 2023 سے چار سالہ بچوں کے لیے مفت پری کنڈرگارٹن پروگرام چلا رہا ہے۔ خاندان شریک سرکاری، سیکولر نجی یا مذہبی پری اسکولوں میں سے کسی کا انتخاب کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ریاستی قانون کے تحت مقرر کردہ معیار پر پورا اتریں۔

ان شرائط میں طلبہ کے داخلے سے متعلق امتیازی سلوک کی ممانعت بھی شامل ہے۔ پروگرام میں شریک ادارے نسل، قومیت، مذہبی وابستگی، جنسی رجحان، صنفی شناخت، رہائش کی عدم دستیابی، آمدنی یا معذوری کی بنیاد پر امتیاز نہیں کر سکتے۔

تقریباً دو ہزار سرکاری اور نجی ادارے اس پروگرام میں شریک ہیں، جن میں متعدد مذہبی اسکول بھی شامل ہیں۔

مساوات یا مذہبی استثنا؟

یہ تنازع اب اس سوال سے آگے بڑھ رہا ہے کہ آیا مذہبی اداروں کو عمومی سرکاری پروگراموں تک سیکولر اداروں کے برابر رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

اصل سوال یہ بنتا جا رہا ہے کہ جب کوئی مذہبی ادارہ سرکاری مالی معاونت سے چلنے والے پروگرام میں شریک ہو تو کیا اسے انہی عمومی شرائط کی پابندی کرنا ہوگی جو سیکولر اداروں پر لاگو ہوتی ہیں، یا مذہبی آزادی کا آئینی تحفظ اسے بعض قواعد سے استثنا بھی فراہم کر سکتا ہے؟

یہ فرق رابرٹس کورٹ کے مذہبی آزادی سے متعلق عدالتی نظریے کے اگلے مرحلے کا تعین کر سکتا ہے۔

گزشتہ فیصلوں نے یہ اصول قائم کیا کہ محض مذہبی شناخت کسی ادارے کو عمومی عوامی فائدے سے محروم کرنے کی کافی بنیاد نہیں۔ کولوراڈو کا تنازع اب یہ طے کرنے میں اہم ہو سکتا ہے کہ اس اصول کی حدود کہاں تک جاتی ہیں۔

یوں بنیادی آئینی سوال یہ ہے کہ آیا عدالت کا مذہب سے متعلق نظریہ مذہبی اور سیکولر اداروں کے مساوی سلوک تک محدود رہے گا یا پھر بعض حالات میں مذہبی اداروں کے لیے خصوصی آئینی رعایتوں تک بھی وسعت اختیار کرے گا۔

رابرٹس کورٹ مذہب اور حکومت کے تعلق کو پہلے ہی نمایاں طور پر تبدیل کر چکی ہے، لیکن کولوراڈو کا مقدمہ ظاہر کرتا ہے کہ اس آئینی تبدیلی کی آخری حدود ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]