مصنوعی ذہانت کی تباہ کن خطرات سے بچاؤ کے لیے چھ تجاویز

[post-views]
[post-views]

مصنوعی ذہانت کی ترقی حکومتی نگرانی اور ضابطہ سازی سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔ ایسے میں چھ نمایاں شخصیات نے خطرناک مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو انسانی اختیار سے باہر ہونے سے روکنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی ہیں۔ ان میں انتہائی ترقی یافتہ مصنوعی ذہانت کی تیاری پر پابندی سے لے کر ہنگامی صورتِ حال میں نظام بند کرنے کے انتظامات تک شامل ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے 1,300 سے زیادہ ملازمین نے حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے خدشات کا تعلق ایسے طاقتور نظاموں سے ہے جن کے طرزِ عمل کی پیش گوئی کرنا یا انہیں مکمل طور پر قابو میں رکھنا خود ان کے تیار کنندگان کے لیے بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک خصوصی فورس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم ان کی انتظامیہ وسیع حکومتی پابندیوں کی مخالفت کرتی رہی ہے۔

اسی پس منظر میں دی نیویارک ٹائمز نے چھ شخصیات کی تجاویز یکجا کیں تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ واشنگٹن مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کر سکتا ہے۔

ان تجاویز میں حکومتی مداخلت کی نوعیت اور حدود کے بارے میں اختلافات موجود ہیں، لیکن تمام شرکا مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے موجودہ انتظامات کو ناکافی سمجھتے ہیں۔

برنی سینڈرز: انسانی ذہانت سے بالاتر مصنوعی ذہانت کی تیاری پر پابندی

سینیٹر برنی سینڈرز ایسی مصنوعی ذہانت کی تیاری پر مستقل پابندی کی تجویز دیتے ہیں جو انسانی ذہانت سے آگے نکل جائے اور انسانی اختیار سے آزاد ہو کر کام کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے۔

ان کے مطابق حکومتوں کو کسی تباہ کن واقعے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، خصوصاً جب مصنوعی ذہانت تیار کرنے والے ماہرین خود جدید نظاموں پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کے بارے میں خبردار کر رہے ہوں۔

رکنِ کانگریس گریگ کیسر کے ساتھ تیار کردہ ان کی مجوزہ قانون سازی کے تحت انتہائی ترقی یافتہ مصنوعی ذہانت کی تیاری اس وقت تک عارضی طور پر روکی جائے گی جب تک وفاقی سطح پر قابلِ نفاذ حفاظتی معیارات قائم نہیں ہو جاتے۔

اس منصوبے میں ایک وفاقی ادارے کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے جو جدید ترین مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی نگرانی کرے اور متعلقہ پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

سینڈرز امریکہ اور چین سمیت دیگر ممالک کے درمیان بین الاقوامی معاہدے کے بھی حامی ہیں تاکہ کمپنیاں اپنی سرگرمیاں دوسرے ممالک منتقل کرکے قومی پابندیوں سے بچ نہ سکیں۔

ان کی تجویز کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ انسانی اختیار ختم ہونے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کسی بڑے حادثے سے پہلے اقدامات ضروری ہیں۔

ہیلن ٹونر: مصنوعی ذہانت کے خطرناک واقعات کی آزادانہ تحقیقات

اوپن اے آئی کی سابق بورڈ رکن ہیلن ٹونر مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں پیدا ہونے والی خرابیوں اور خطرناک طرزِ عمل کی منظم تحقیقات پر زور دیتی ہیں۔

ان کی تجویز ایک بنیادی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے: مختلف کمپنیاں اپنے نظاموں میں سامنے آنے والی خرابیوں سے آگاہ ہو سکتی ہیں، لیکن اگر یہ معلومات منظرِ عام پر نہ آئیں تو حکومتیں اور دوسرے ادارے ان تجربات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

وفاقی سطح پر آزادانہ تحقیقات کا نظام قائم ہونے سے بار بار سامنے آنے والی تکنیکی کمزوریوں کی شناخت، انفرادی واقعات اور وسیع تر خطرات میں فرق اور مستقبل کے لیے حفاظتی اقدامات کی تیاری ممکن ہو سکتی ہے۔

اس کی مثال ہوابازی اور دوسرے حساس شعبوں میں ملتی ہے، جہاں سنگین واقعات کی آزادانہ تحقیقات ان کے اسباب معلوم کرنے اور دوبارہ وقوع پذیر ہونے کے امکانات کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے معاملے میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حفاظتی پابندیوں کی خلاف ورزی اور دیگر سنگین واقعات کو محض کمپنیوں کے داخلی معاملات کے بجائے عوامی تحفظ کے مسائل سمجھا جائے۔

اسٹیو کیس: خطرناک صلاحیتوں کے انکشاف کو قانونی طور پر لازمی بنایا جائے

ٹیکنالوجی کے کاروباری رہنما اسٹیو کیس ایک وفاقی قانون کی تجویز دیتے ہیں جس کے تحت مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنے جدید نظاموں کی صلاحیتوں اور ممکنہ خطرات سے متعلق معلومات نگران اداروں کو فراہم کرنا ہوں گی۔

کمپنیوں کے لیے ایسے جائزوں کے نتائج بتانا لازمی ہوگا جن سے معلوم ہو سکے کہ ان کے نظام بڑے سائبر حملوں، حیاتیاتی خطرات یا خطرناک خودمختار طرزِ عمل میں کس حد تک مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

انہیں یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ نظام کو متعارف کرانے سے پہلے کون سے حفاظتی انتظامات کیے گئے، کون سے خطرات بدستور موجود ہیں اور صلاحیتوں میں تبدیلی آنے پر ان کی نگرانی کیسے کی جائے گی۔

کیس سنگین واقعات اور ایسے حالات کی لازمی اطلاع دینے کے حامی ہیں جن میں کوئی بڑا نقصان ہوتے ہوتے رہ گیا ہو۔

وہ حفاظتی خدشات سامنے لانے والے ملازمین کے قانونی تحفظ اور معلومات چھپانے یا گمراہ کن تفصیلات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے سزاؤں کی بھی تجویز دیتے ہیں۔

ان کے مطابق ضابطہ سازی کی بنیاد کمپنی کے حجم کے بجائے اس کے تیار کردہ نظام کی صلاحیتوں پر ہونی چاہیے۔

اس طرح کوئی چھوٹی تجربہ گاہ بھی خطرناک نظام تیار کرنے کی صورت میں متعلقہ حفاظتی تقاضوں کی پابند ہوگی، جبکہ پہلے سے دستیاب مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے عام کاروبار پر غیرضروری بوجھ نہیں پڑے گا۔

سوزن رائس: امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی ترقی روکنے کا عارضی معاہدہ

امریکہ کی سابق قومی سلامتی مشیر سوزن رائس امریکہ اور چین کے درمیان ایک ایسے معاہدے کی تجویز دیتی ہیں جس کے تحت انتہائی ترقی یافتہ مصنوعی ذہانت کی تیاری عارضی طور پر روک دی جائے۔

اس منصوبے کے مطابق دونوں حکومتیں کمپنیوں کو جدید ماڈلز کی تربیت اور اجرا معطل کرنے کی پابند بنائیں گی۔ اس میں وہ نظام بھی شامل ہوں گے جنہیں دوسرے ادارے یا افراد حاصل کرکے اپنی ضروریات کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔

یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک بین الاقوامی حفاظتی انتظامات تیار نہیں ہو جاتے۔

معاہدے پر عمل درآمد کی تصدیق کے لیے کمپیوٹنگ وسائل کی نگرانی اور خلاف ورزیوں پر مؤثر سزاؤں کا انتظام ضروری ہوگا۔

رائس تجویز دیتی ہیں کہ امریکہ اور چین کے ممتاز سائنس دان مشترکہ طور پر ایسے حفاظتی اصول مرتب کریں جو مصنوعی ذہانت کے انسانی اختیار سے باہر ہونے اور ہتھیاروں کی تیاری میں اس کے استعمال کے خطرات کم کر سکیں۔

بعد ازاں آزاد ماہرین مسلسل جائزہ لیں کہ کمپنیاں ان حفاظتی تقاضوں پر عمل کر رہی ہیں یا نہیں۔

ان کی تجویز مصنوعی ذہانت کی عالمی مسابقت سے پیدا ہونے والے مسئلے کو سامنے لاتی ہے: اگر ایک ملک پابندیاں نافذ کرے لیکن دوسرے ممالک میں ترقی کا عمل جاری رہے تو یک طرفہ پابندیوں کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

کیس سنسٹین: مصنوعی ذہانت کے لیے مستقل وفاقی نگران کمیشن

آئینی اور انتظامی قانون کے ماہر کیس سنسٹین مصنوعی ذہانت کے لیے ایک مخصوص وفاقی نگران کمیشن قائم کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔

یہ کمیشن مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لے گا، نئے خطرات کی تحقیقات کرے گا اور کانگریس کو باقاعدگی سے اپنی سفارشات فراہم کرے گا۔

مجوزہ کمیشن کے پانچ ارکان ہوں گے، جن کا انتخاب کمپیوٹر سائنس، معاشیات اور انجینئرنگ جیسے شعبوں سے کیا جائے گا۔

کمیشن اپنے قیام کے 120 دن کے اندر پہلی رپورٹ پیش کرے گا، جس کے بعد ہر سال دو رپورٹس جاری کی جائیں گی۔

کانگریس اسے قابلِ نفاذ قواعد بنانے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر مالی جرمانے عائد کرنے کے اختیارات بھی دے سکتی ہے۔

اس تجویز کا مقصد واشنگٹن میں مستقل ادارہ جاتی نگرانی کی کمی دور کرنا ہے۔

وقتی حکومتی فیصلوں یا کمپنیوں کے رضاکارانہ وعدوں پر انحصار کرنے کے بجائے ایک مستقل کمیشن خصوصی مہارت پیدا کر سکے گا اور مصنوعی ذہانت کی بدلتی ہوئی صلاحیتوں کے مطابق نگرانی جاری رکھ سکے گا۔

بریڈ اسمتھ: خطرناک مصنوعی ذہانت کو فوری بند کرنے کا انتظام

مائیکروسافٹ کے صدر بریڈ اسمتھ تجویز دیتے ہیں کہ زیادہ خطرات رکھنے والے مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں مؤثر ہنگامی کنٹرول لازمی بنایا جائے۔

ان انتظامات کے ذریعے متعلقہ افراد کسی نظام کے خطرناک طرزِ عمل اختیار کرنے یا مقررہ حدود سے باہر کام کرنے کی صورت میں اس کی رفتار کم کر سکیں گے، اس کی سرگرمیاں محدود کر سکیں گے یا اسے مکمل طور پر بند کر سکیں گے۔

یہ تجویز خاص طور پر ایسے نظاموں کے لیے اہم ہے جو بجلی، مواصلات اور دیگر بنیادی سہولتوں جیسے حساس شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

ان نظاموں کو محفوظ کمپیوٹنگ ماحول میں کام کرنا چاہیے، جہاں حفاظتی انتظامات کی متعدد سطحیں موجود ہوں اور انسانی مداخلت کا اختیار واضح طور پر متعین ہو۔

اسمتھ کے مؤقف کے مطابق تکنیکی جدت اور حفاظتی انتظامات ایک دوسرے کی مخالفت نہیں کرتے۔ مؤثر ہنگامی کنٹرول طاقتور نظاموں کے استعمال کے ساتھ ان پر انسانی اختیار برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

بنیادی سوال: طاقتور مصنوعی ذہانت پر اختیار کس کا ہوگا؟

ان چھ تجاویز میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے مختلف مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔

برنی سینڈرز اور سوزن رائس خطرناک صلاحیتوں کے وسیع پیمانے پر دستیاب ہونے سے پہلے ترقیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر زور دیتے ہیں۔

ہیلن ٹونر اور اسٹیو کیس آزادانہ جانچ، شفافیت اور ماضی کی خرابیوں سے سیکھنے کو اہم قرار دیتے ہیں۔

کیس سنسٹین مستقل نگران ادارے کے قیام کی تجویز دیتے ہیں، جبکہ بریڈ اسمتھ پہلے سے استعمال ہونے والے نظاموں پر انسانی اختیار برقرار رکھنے کے لیے عملی حفاظتی انتظامات پر توجہ دیتے ہیں۔

یہ تجاویز کئی پیچیدہ سوالات بھی سامنے لاتی ہیں۔

حکومتوں کو طے کرنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کی کون سی صلاحیتیں پابندیوں کا تقاضا کرتی ہیں، آزادانہ جانچ کا طریقہ کیا ہوگا اور کمپنیوں کو کون سی معلومات ظاہر کرنا ہوں گی۔

بین الاقوامی معاہدوں میں عمل درآمد کی تصدیق، تجارتی مسابقت اور قومی سلامتی کے مسائل بھی درپیش ہوں گے۔

اسی طرح ضابطہ سازی کے نظام کو حقیقی اور دستاویزی خرابیوں اور مستقبل کے ممکنہ تباہ کن خطرات میں فرق کرنے کے قابل ہونا چاہیے، جبکہ دونوں طرح کے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔

ان تمام تجاویز کا مشترکہ نکتہ یہ ہے کہ کمپنیوں کے رضاکارانہ وعدے طاقتور مصنوعی ذہانت کے لیے عوامی جواب دہی کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے۔

اختلاف اس بات پر ہے کہ فوری ترجیح مستقل پابندی، عارضی تعطل، معلومات کا لازمی انکشاف، آزادانہ تحقیقات، ادارہ جاتی نگرانی یا ہنگامی کنٹرول میں سے کس اقدام کو دی جائے۔

مجموعی طور پر یہ بحث مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کو عوامی اختیار اور جواب دہی کا مسئلہ قرار دیتی ہے: ٹیکنالوجی تیار کرنے والوں کی ذمہ داریاں کیا ہوں، حکومتوں کو کون سے اختیارات حاصل ہوں اور اہم فیصلے مصنوعی ذہانت کے سپرد کرنے سے پہلے کون سے حفاظتی انتظامات ضروری قرار دیے جائیں؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]