جو لوگ برسوں سے کتابیں پڑھ رہے ہیں، انہیں مطالعہ ایک فطری عمل محسوس ہو سکتا ہے، لیکن انسانی دماغ خاص طور پر پڑھنے کے لیے ارتقا پذیر نہیں ہوا۔ بولنے اور دیکھنے کی صلاحیتوں کے برعکس، پڑھنا انسانی تاریخ کی نسبتاً نئی ایجاد ہے۔ جامعہ کیلیفورنیا، لاس اینجلس کی ماہرِ اعصابیات ربیکا گوٹلیب کے مطابق، ارتقائی اعتبار سے ہمارے دماغ کو اتنا وقت نہیں ملا کہ وہ مطالعے کے لیے کوئی الگ اور مخصوص نظام تشکیل دے سکے۔
اس کے بجائے، پڑھنے کے عمل میں دماغ اپنی پہلے سے موجود کئی صلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے۔ ان میں بصری شناخت، آوازوں کو سمجھنے، زبان، توجہ اور جذبات سے متعلق صلاحیتیں شامل ہیں۔ جب بھی ہم کچھ پڑھتے ہیں، دماغ کے یہ تمام نظام مل کر تحریری علامتوں کو معنی میں تبدیل کرتے ہیں۔
یہ عمل ہزاروں سال پہلے سومیریوں کی میخی تحریر اور قدیم مصریوں کی تصویری تحریر پڑھنے والوں کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ آج بھی لاطینی حروفِ تہجی، چینی حروف اور عربی رسم الخط سمیت مختلف تحریری نظاموں میں یہی عمل جاری ہے۔ ہر تحریری نظام دماغ سے مختلف نوعیت کی صلاحیتیں استعمال کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور پڑھنے سے متعلق اس کے اعصابی نظام کی تشکیل پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
البتہ وقت کے ساتھ دو چیزیں نمایاں طور پر تبدیل ہوئی ہیں: پڑھنے والوں کی تعداد اور مطالعے کے طریقے۔
ماضی میں خواندگی بڑی حد تک کاتبوں، مذہبی پیشواؤں اور حکمران طبقوں تک محدود تھی۔ آج دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے کے لیے پڑھنا روزمرہ زندگی کا معمول بن چکا ہے۔
مطالعے کا ذریعہ بھی بدل گیا ہے۔ قدیم تحریری مواد سے کاغذ تک کے سفر نے علم کو محفوظ کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کے طریقے تبدیل کیے۔ اب چھپی ہوئی کتابوں سے برقی اسکرینوں کی طرف منتقلی نہ صرف ہمارے پڑھنے کی جگہ بلکہ معلومات کو سمجھنے اور ان پر غور کرنے کے انداز کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
اسکرینیں ہماری مطالعے کی عادات کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟
ربیکا گوٹلیب کے مطابق، لوگ اسکرین پر پڑھتے ہوئے عموماً تحریر کو سرسری انداز میں دیکھتے ہیں۔ کسی دلیل کو توجہ سے سمجھنے کے بجائے وہ تیزی سے سرخیوں، پیراگرافوں اور روابط کے درمیان منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
یہ عادت کسی دعوے کا باریک بینی سے جائزہ لینا مشکل بنا سکتی ہے اور غلط معلومات سے متاثر ہونے کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔
ماہرِ اعصابیات میری این وولف، جو کتاب ڈیجیٹل دنیا میں مطالعہ کرنے والا دماغ کی مصنفہ ہیں، نے بھی اسی نوعیت کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ سنہ ۲۰۱۸ میں برطانوی اخبار دی گارڈین کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مسلسل سرسری مطالعہ گہرائی سے پڑھنے کے ساتھ وابستہ تنقیدی تجزیے اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے۔
ان کی تشویش صرف کتابوں تک محدود نہیں۔
ایک ایسے ماحول میں جہاں معلومات مسلسل ہماری توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، قارئین نئے یا مشکل خیالات پر غور کرنے کے بجائے اپنی پہلے سے موجود آرا سے مطابقت رکھنے والی معلومات کی طرف زیادہ مائل ہو سکتے ہیں۔
وولف نے خبردار کیا کہ اس رجحان کے نتیجے میں لوگ غلط معلومات اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے والے پیغامات سے زیادہ آسانی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
بچوں کی مطالعے کی عادات کیوں اہم ہیں؟
ان تبدیلیوں کے اثرات بچوں کے لیے خاص طور پر اہم ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کی پڑھنے کی صلاحیتیں اور توجہ برقرار رکھنے کے انداز ابھی نشوونما پا رہے ہوتے ہیں۔
بی بی سی ورلڈ سروس کی ایک ویڈیو میں میری این وولف ایسی تحقیقات کا حوالہ دیتی ہیں جن سے زیادہ ڈیجیٹل استعمال اور کمزور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق ظاہر ہوتا ہے۔
وہ یہ بھی خبردار کرتی ہیں کہ مسلسل توجہ بٹنے اور ضرورت سے زیادہ ذہنی تحریک کے باعث بچے تیزی سے بدلتی ہوئی چیزوں کے عادی ہو سکتے ہیں۔
جو بچہ ایک ڈیجیٹل سرگرمی سے فوراً دوسری سرگرمی کی طرف منتقل ہونے کا عادی ہو جائے، اس کے لیے کسی ایسی تحریر پر دیر تک توجہ مرکوز رکھنا مشکل ہو سکتا ہے جسے سمجھنے کے لیے صبر اور مسلسل غور و فکر درکار ہو۔
تشویش صرف یہ نہیں کہ بچے چھپی ہوئی کتابیں کم پڑھ رہے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے نشوونما پاتے دماغ کو آہستہ، توجہ سے اور گہرائی کے ساتھ پڑھنے کی مشق کے مواقع کم مل سکتے ہیں۔
یہی وہ طرزِ مطالعہ ہے جو سوچنے، سمجھنے اور کسی موضوع پر غور کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیتا ہے۔
مطالعے کو زندگی کا حصہ بنانے کی اہمیت
والدین، اساتذہ اور دوسرے بالغ افراد اپنی زندگی میں مطالعے کی اہمیت ظاہر کر کے بچوں میں کتابیں پڑھنے کی پائیدار عادت پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
بچے صرف بڑوں کی نصیحتوں سے نہیں سیکھتے، بلکہ ان کے عمل سے بھی سیکھتے ہیں۔
جس گھر یا جماعت میں باقاعدگی سے کتابیں پڑھی جاتی ہوں، وہاں بچے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ مطالعہ محض تعلیمی ذمہ داری نہیں، بلکہ خوشی، تجسس اور نئی چیزیں دریافت کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
یہ چیلنج صرف بچوں کو درپیش نہیں۔ ہم میں سے بہت سے بالغ افراد بھی مسلسل اور توجہ سے پڑھنے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اپنے برقی آلات کی توجہ بٹانے والی سرگرمیوں سے بچنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔
ہم کسی مضمون کو مکمل پڑھنے کے ارادے سے شروع کرتے ہیں، لیکن درمیان میں کوئی پیغام دیکھنے، دوسرا صفحہ کھولنے یا کسی غیر متعلقہ رابطے پر جانے کے لیے مطالعہ روک دیتے ہیں۔
شاید اس پوری بحث کا سب سے اہم سوال نہایت سادہ ہے:
اس مضمون کے اختتام تک پہنچنے سے پہلے آپ نے کتنی بار کچھ اور دیکھنے کی خواہش محسوس کی؟









