بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

بین الاقوامی قانون اور جنگی جرائم کے محاسبے میں تاریخی خدمات: ناوی پلے کے لیے نوبل امن انعام کا اعلان

[post-views]
[post-views]

عدل اور انسانی حقوق کے لیے وقف زندگی

بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی سابق جج نوانیتھم “ناوی” پلے کو عالمی امن، انسانی حقوق کی پاسداری اور بین الاقوامی قانونی معیار کے نفاذ کے لیے دہائیوں پر محیط خدمات کے اعتراف میں جمعے کے روز نوبل امن انعام سے نوازا گیا ہے۔ نارویجن نوبل کمیٹی کے چیئرمین یورگن واٹنے فریڈنس نے اوسلو میں انعام کا اعلان کرتے ہوئے اہم بین الاقوامی عدالتوں میں جنگی جرائم، انسان دشمن جرائم اور نسل کشی کے قانونی محاسبے کو یقینی بنانے میں ناوی پلے کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ فریڈنس نے ان کے طویل پیشہ ورانہ سفر کی تحسین کی، جس کا آغاز اپارتھائیڈ (نسلی امتیاز) کے دور میں نیلسن منڈیلا اور روبن آئی لینڈ کے سیاسی قیدیوں کے دفاع سے ہوا اور جو ہمارے عہد کے اہم ترین بین الاقوامی عدالتی مقدمات کی قیادت تک محیط ہے۔

متازعہ عوامی خدمات اور عالمی قانون دانی

جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں اپارتھائیڈ کے دور کے دوران ایک بھارتی تامل نژاد خاندان میں پیدا ہونے والی ناوی پلے نے وکالت اور عدلیہ کے میدان میں پیش رفت کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ میں بطور جج خدمات انجام دیں۔ ان کے بین الاقوامی عدالتی کیریئر میں روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں تقرریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے 2008 سے 2014 تک اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے طور پر خدمات انجام دیں، جس سے عالمی قانون کی ترقی میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر ان کا مقام مزید مستحکم ہوا۔ فریڈنس نے اعلان کے دوران ذکر کیا کہ کمیٹی اس اعزاز کی اطلاع دینے کے لیے ناوی پلے سے براہِ راست رابطے کی کوشش کر رہی ہے۔

تاریخی تناظر اور حال ہی میں منتخب ہونے والے اعزاز یافتگان

نوبل امن انعام ہر سال سویڈش صنعت کار الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق ایسے افراد یا تنظیموں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے بین الاقوامی اخوت اور امن کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دی ہوں۔ نوبل انعام یافتہ کا انتخاب ناروے کی پارلیمنٹ کی منتخب کردہ پانچ رکنی کمیٹی کرتی ہے۔ ناوی پلے حالیہ نوبل انعام یافتہ ممتاز شخصیات کی فہرست میں شامل ہو گئی ہیں، جن میں وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو، جاپان کی ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم نپون ہیدانکیو، صحافی ماریا ریسا اور دمتری موراتوف، اور امریکہ کے سابق صدر براک اوباما شامل ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]