امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئرلینڈ کا اتحاد ایک ’’بہترین پیش رفت‘‘ ہوگا۔ انہوں نے یہ بیان آئرلینڈ کے اپنے دو روزہ دورے کے پہلے روز دیا۔
ٹرمپ شینن ہوائی اڈے پہنچنے کے بعد کاؤنٹی کلیئر کے علاقے ڈون بیگ میں واقع اپنے گالف مرکز روانہ ہوئے، جہاں آئرش اوپن گالف مقابلے منعقد ہورہے ہیں۔
صحافیوں کی جانب سے آئرلینڈ کے دوبارہ اتحاد کے امکان سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’’کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتے‘‘، تاہم انہوں نے اس خیال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئرلینڈ کو متحد دیکھنا چاہیں گے۔
ٹرمپ کے بیان پر برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ میں ردعمل سامنے آیا۔ برطانوی وزیراعظم کے دفتر نے ان کے بیان پر ردعمل دیا، جبکہ ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی نے کہا کہ شمالی آئرلینڈ کے آئینی مستقبل کا فیصلہ لندن، ڈبلن یا واشنگٹن میں کیے جانے والے سیاسی تبصروں سے نہیں ہوگا۔
اس سے قبل ٹرمپ نے آئرلینڈ کے وزیراعظم میخول مارٹن اور صدر کیتھرین کونولی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
امریکی صدر کے دورے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج بھی کیا گیا۔ ڈبلن میں 10 ہزار سے زائد افراد نے احتجاجی مارچ کیا، جس کے باعث شہر کے مرکزی علاقوں میں ٹریفک شدید متاثر ہوئی۔
آئرلینڈ کے اتحاد سے متعلق ٹرمپ کا بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ شمالی آئرلینڈ کی آئینی حیثیت بدستور ایک حساس سیاسی معاملہ ہے۔ امریکی وسط مدتی انتخابات کے قریب ان کا یہ بیان آئرلینڈ سے باہر بھی سیاسی توجہ حاصل کرسکتا ہے۔









