پاکستان بار کونسل کے آٹھ ارکان نے ہفتے کے روز حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے اس حکم کی مبینہ طور پر ’’کھلی، دانستہ اور جان بوجھ کر خلاف ورزی‘‘ کی شدید مذمت کی، جس میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ارکان نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ’’سپریم کورٹ کا حکم واضح، غیر مبہم اور لازم العمل تھا، تاہم انتظامیہ نے اسے نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا اور عدالتی ہدایات کی براہِ راست خلاف ورزی کی۔‘‘ بیان پر دستخط کرنے والوں میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، عابد شاہد زبیری، محمد مقصود بٹر، شفقت محمود چوہان، منیر احمد کاکڑ، عبد الستار خان، صلاح الدین احمد اور قاضی محمد ارشد شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’’انتظامیہ کو سپریم کورٹ کی ہدایات اور احکامات سے انحراف کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔‘‘ ارکان نے اس واقعے کو ’’عدلیہ کی آزادی، اختیار اور وقار پر سنگین حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ’’قانون کی حکمرانی متاثر ہوئی ہے اور آئینی طرزِ حکمرانی کی بنیاد کو نقصان پہنچا ہے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر انتظامیہ محض سپریم کورٹ کے حکم کو نظر انداز کر سکتی ہے تو آئینی اختیارات کی تقسیم بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔
ارکان نے حکومت کے طرزِ عمل کو ’’پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے لیے براہِ راست خطرہ‘‘ بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات ریاستی من مانی کے خلاف بنیادی آئینی تحفظ فراہم کرتے ہیں اور ان احکامات کو نظر انداز کرنے سے عدالتوں، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی مجروح ہوتی ہے، جس سے ہر شہری کے حقوق خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے 18 اگست کے حکم کے پیراگراف 14 میں پہلے ہی عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کے نتائج واضح کر چکی ہے، لہٰذا حکومت ’’عدالتی ہدایات کی لازم حیثیت اور ان کی نافرمانی کے نتائج سے مکمل طور پر آگاہ‘‘ تھی۔
ارکان نے مزید واضح کیا کہ نظرثانی کی درخواست دائر کرنے سے عدالتی حکم معطل نہیں ہوتا اور نہ ہی حکومت کو اسے نظر انداز کرنے کا اختیار ملتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
ان ارکان کا کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم، جن کے بارے میں ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے قانون کی حکمرانی، عدلیہ اور آئین کی بالادستی کو پہلے ہی کمزور کیا ہے، سپریم کورٹ کے موجودہ حکم کی نافرمانی کے لیے کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کر سکتیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’’کوئی آئینی ترمیم، سیاسی مصلحت یا انتظامی فیصلہ حکومت کو لازم عدالتی حکم سے بالاتر نہیں کر سکتا۔ آئین انتظامیہ کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ کن عدالتی احکامات پر عمل کرنا ہے اور کن پر نہیں۔‘‘
ارکان نے عمران خان کے علاج کے معاملے کو سابق وزرائے اعظم اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ کیے گئے سابقہ سلوک کے مقابلے میں ’’خصوصاً تشویش ناک‘‘ قرار دیا۔
سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک سیاسی رہنما کو سزا یافتہ ہونے کے باوجود عدالتی حکم اور 50 روپے کے اسٹامپ پیپر پر دی گئی ضمانت کی بنیاد پر طبی علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ زندگی، صحت، وقار اور طبی علاج تک رسائی کے آئینی تحفظات کیا سیاسی حالات کے مطابق مختلف افراد پر مختلف انداز میں لاگو کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین کی بیان کی مذمت
دوسری جانب پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی نے وضاحت کی کہ کونسل کے 23 ارکان میں سے آٹھ ارکان کی جانب سے جاری کیا گیا بیان صرف ان کی انفرادی رائے کی عکاسی کرتا ہے اور اسے پاکستان بار کونسل کا اجتماعی مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ’’جمہوری اصولوں کے تحت چلنے والے ادارے میں اقلیت اکثریت کے مؤقف کا تعین نہیں کر سکتی۔‘‘
ان کے مطابق پاکستان بار کونسل کو سیاسی مفادات اور ذاتی ایجنڈوں سے بالاتر رہنا چاہیے اور نہ ہی کونسل یا اعلیٰ عدلیہ کو کسی پوشیدہ مقصد کے لیے سیاسی رنگ دیا جانا چاہیے۔
پاکستان بار کونسل نے باضابطہ طور پر آٹھ ارکان کے بیان اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ایک الگ بیان سے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان میں سے کوئی بھی بیان قانونی برادری یا ادارے کے اجتماعی خیالات، مؤقف یا پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتا۔
کونسل نے قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، آئین کی بالادستی اور آئینی اداروں کے تقدس کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ تمام ارکان سے بھی ان اصولوں، بار کونسل کے وقار اور ادارہ جاتی آزادی کو برقرار رکھنے کی توقع رکھتی ہے۔
عمران خان کی اسپتال منتقلی کا معاملہ
یہ تنازع منگل کو اس وقت شروع ہوا جب سپریم کورٹ نے حکومت کو عمران خان کو معائنے اور علاج کے لیے دو دن کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے، ان کے ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ تک رسائی اور طبی ریکارڈ فراہم کرنے سے متعلق درخواستوں پر عبوری ہدایات جاری کی تھیں۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اور عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان طبی بورڈ کے معائنے کے دوران موجود رہیں۔ ساتھ ہی ان کے اہلِ خانہ، پی ٹی آئی ارکان اور وکلا کو اگلی سماعت تک ان کی صحت یا طبی ریکارڈ عوامی سطح پر ظاہر کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
اگلے روز حکومت نے عمران خان کی منتقلی کے حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ حکم امتیازی ہے اور جیل کے قواعد اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو درخواست کو حلف نامے میں طریقۂ کار سے متعلق خامیوں اور نامناسب انداز میں تیار کردہ کاغذات کے باعث واپس کر دیا۔
اسی رات شفا انٹرنیشنل اسپتال کے اطراف میں سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے اور تمام صورتحال سے بظاہر یہ تاثر مل رہا تھا کہ عمران خان کو عدالتی حکم کی تعمیل میں اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
تاہم جمعہ کی صبح یہ سامنے آیا کہ عمران خان کو شفا کے بجائے معائنے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جایا گیا اور بعد ازاں انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس تبدیلی کی وجہ ’’شفا انٹرنیشنل اسپتال کے راستے اور باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پیدا کی گئی سکیورٹی کی صورتحال‘‘ کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب مناسب سکیورٹی انتظامات کے تحت اسپتال لے جایا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم، جس میں آنکھوں کے ماہر، امراضِ قلب کے ماہر اور معالج شامل تھے، نے ان کا معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔
بعد ازاں پمز انتظامیہ نے بتایا کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے دو ماہرین نے عمران خان کی آنکھ کے معائنے میں حصہ لیا، جبکہ دیگر طبی معائنے پمز کے اپنے ماہرین نے کیے۔
عمران خان کو جنوری کے اواخر میں سامنے آنے والی ان کی آنکھ کی بیماری، دائیں مرکزی ریٹینل وین کے بند ہونے کے بعد متعدد مرتبہ علاج کے لیے پمز لے جایا جا چکا ہے۔
پمز کے بیان میں کہا گیا کہ آنکھوں کے معائنے سے حاصل ہونے والی طبی معلومات کو پمز میں کیے گئے دیگر طبی معائنوں کے نتائج کے ساتھ ملا کر دیکھا گیا۔
دریں اثنا حکومت نے جمعرات کو سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے خلاف ایک نئی نظرثانی درخواست بھی دائر کی۔ اسلام آباد کے چیف کمشنر نے ایک مرتبہ پھر درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے دفتر کا اس معاملے میں براہِ راست، اہم اور قانونی طور پر محفوظ مفاد ہے اور عدالتی حکم سے ان کے آئینی اختیارات متاثر ہوئے ہیں۔









