سول سروس اصلاحات کے حوالے سے ریپبلک پالیسی کے زیرِ اہتمام منعقدہ پینل ڈسکشن میں معروف ماہرِ معاشیات اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق نے پاکستان کی معیشت کو چلانے والے بیوروکریٹک ڈھانچے کا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔
ان کی گفتگو کا بنیادی نکتہ بیوروکریسی کا گیٹ کیپر کردار تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان اس وقت تک حقیقی معاشی ترقی حاصل نہیں کر سکتا جب تک فیصلہ سازی فائلوں، انتظامی رکاوٹوں اور سرخ فیتے میں جکڑی رہے گی۔ ان کے مطابق بیوروکریسی آج بھی معاشی سرگرمیوں پر نمایاں کنٹرول رکھتی ہے، جسے انہوں نے ’’بیوروکریٹک اِنرشیا‘‘ قرار دیا۔
یہ ادارہ جاتی جمود محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ معیشت کی کارکردگی کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ جب معاشی فیصلوں کو بار بار بیوروکریٹک منظوریوں اور ضابطہ جاتی مراحل سے گزرنا پڑے تو کاروبار، سرمایہ کاری اور منڈی کی سرگرمیوں کے لیے دستیاب گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر ندیم الحق نے اسی لیے معاشی سرگرمیوں کو غیر ضروری پابندیوں سے آزاد کرنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق معاشی لین دین کو آسان بنایا جانا چاہیے، معلومات تک رسائی کو آزاد کیا جانا چاہیے اور مؤثر منڈیوں کو فروغ پانے کا موقع ملنا چاہیے۔ ان شرائط کے بغیر پائیدار معاشی ترقی کا حصول مشکل رہے گا۔
ان کی دلیل سول سروس اصلاحات کے حوالے سے ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: کیا بیوروکریسی کو معاشی سرگرمیوں کے دروازے پر ایک نگران کی حیثیت سے کھڑا ہونا چاہیے، یا انتظامی اداروں کا کردار شہریوں، کاروبار اور منڈیوں کے لیے سہولت کاری ہونا چاہیے؟
اس تناظر میں سول سروس کی اصلاح محض محکموں کی تنظیمِ نو یا انتظامی عہدوں میں ردوبدل کا نام نہیں۔ اس کے لیے بیوروکریسی اور معیشت کے باہمی تعلق پر ازسرِنو غور کرنا ضروری ہے۔ ایک جدید انتظامی نظام کو غیر ضروری کنٹرول اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے بجائے ان کے لیے سہولت فراہم کرنی چاہیے۔
ادارہ جاتی اور گورننس اصلاحات سے متعلق ریپبلک پالیسی کی کتب اور مزید معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔









