بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

پاکستان میں غیر ملکی میڈیا کی رپورٹنگ پر نئی پابندیاں

[post-views]
[post-views]

پاکستانی حکام نے ملک میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کے لیے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس پر صحافتی تنظیموں اور صحافیوں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے۔

نئے ضوابط کے تحت غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے لیے کام کرنے والے تمام افراد، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے علاوہ کسی بھی شہر سے رپورٹنگ کرنے کے لیے پیشگی اجازت حاصل کرنے کے پابند ہوں گے۔

ان پابندیوں کے نتیجے میں ملک کے بیشتر علاقوں میں غیر ملکی میڈیا کی موقع پر موجود رہ کر رپورٹنگ حکام کی اجازت اور اس کے وقت پر منحصر ہو جائے گی۔ پاکستان اس وقت عالمی صحافتی آزادی کے اشاریے میں 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر ہے۔

سیاسی مبصر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ یہ ضوابط ایسے وقت میں بین الاقوامی میڈیا کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہیں جب صحافت کے لیے دستیاب جگہ مسلسل سکڑ رہی ہے۔ ان کے مطابق میڈیا پر پابندیاں نئی نہیں ہیں، تاہم ماضی میں مقامی ذرائع ابلاغ کو غیر ملکی میڈیا کے مقابلے میں زیادہ دباؤ کا سامنا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام غیر ملکی میڈیا سے آزادانہ رپورٹنگ کی توقع رکھتے ہیں، اس لیے ایسی پابندیاں صرف غلط معلومات اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کے لیے مزید گنجائش پیدا کریں گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اتوار کو جاری کیے گئے یہ ضوابط میڈیا پر پابندی عائد کرنے کے لیے نہیں بلکہ ذرائع ابلاغ کی تصدیق، رسائی میں سہولت اور رپورٹنگ سے متعلق ضروریات کو مربوط بنانے کے لیے ایک انتظامی طریقۂ کار فراہم کرنے کے مقصد سے وضع کیے گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا سہولت کاری رہنما اصول 2026 کے تحت اجازت نامے کے حصول کے لیے درکار عدم اعتراض سرٹیفکیٹ کے اجرا میں کتنا وقت لگے گا، اس کی کوئی واضح مدت مقرر نہیں کی گئی۔

موجودہ ضوابط کے تحت بھی غیر ملکی صحافیوں کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ ضروری ہے، جس کے حصول میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں یا بعض اوقات درخواست کا کوئی جواب بھی نہیں ملتا۔ اس صورت حال نے 24 کروڑ آبادی والے ملک میں غیر ملکی صحافیوں کے لیے فوری طور پر زمینی حقائق کی رپورٹنگ کو پہلے ہی مشکل بنا رکھا ہے۔

اسی وجہ سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اکثر ایسے پاکستانی شہریوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو پشاور یا کوئٹہ جیسے شہروں میں مستقل طور پر مقیم ہوں یا وہاں نسبتاً آسانی سے سفر کر سکیں اور معلومات کی تصدیق کر سکیں۔ نئے رہنما اصولوں کے تحت اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے علاوہ مقیم ہر معاون، بشمول آزاد صحافیوں، کو بھی کسی خبر کی کوریج کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔

روزنامہ ڈان کے مدیر ظفر عباس نے ان پابندیوں کو “مضحکہ خیز” اور “بالکل ناقابل قبول” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 40 برس سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں صحافت کر رہے ہیں اور دو فوجی حکمرانوں سمیت متعدد آمرانہ ادوار میں رپورٹنگ کر چکے ہیں، لیکن انہوں نے اس نوعیت کی پابندیاں پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔

ان کے مطابق تین بڑے شہروں سے باہر سفر کے لیے صحافیوں کو عدم اعتراض سرٹیفکیٹ لینے کا پابند بنانا نہ صرف نقل و حرکت کی آزادی کو متاثر کرتا ہے بلکہ آزادیٔ صحافت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کسی فرد کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی نہیں ہے۔ تاہم رہنما اصولوں میں یہ بھی درج ہے کہ پاکستان کے نظریے، خودمختاری، سلامتی یا عوامی نظم کے خلاف اقدامات کی صورت میں صحافی اپنی منظوری یا صحافتی اسناد سے محروم ہو سکتے ہیں۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اس شق کو مبہم قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ مستقبل میں اس کی تشریح اور اطلاق کس انداز میں کیا جائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]