پاکستان نے جمعرات کو ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے آزاد ماہرین کے پینل کی مدت میں توسیع سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، جبکہ چین اور روس نے قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ دونوں ممالک نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے تحت ایران کے خلاف اقوام متحدہ کے تمام اقدامات ختم ہو چکے تھے۔
ایران پر اقوام متحدہ کی تمام پابندیاں ایک سال قبل دوبارہ عائد کی گئی تھیں، جب فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے تہران پر 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا تھا، تاہم ایران جوہری ہتھیار بنانے کے ارادے کی تردید کرتا ہے۔
پابندیوں کی بحالی کے ساتھ ماہرین کے ایک آزاد پینل کی واپسی بھی شامل تھی، جس کا کام پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی نگرانی، 15 رکنی سلامتی کونسل کو رپورٹ پیش کرنا اور مزید اقدامات کی سفارش کرنا تھا۔ تاہم گزشتہ ایک سال سے سلامتی کونسل ایران کے معاملے پر ماہرین کے پینل کے بغیر کام کر رہی ہے کیونکہ ارکان اس کی تقرری پر اتفاق نہیں کر سکے۔ ایسی تقرری کے لیے اتفاق رائے ضروری ہے۔
بیجنگ اور ماسکو نے ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی آزادانہ نگرانی سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اختیار میں توسیع روک دی اور اپنے اس مؤقف کو دہرایا کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے تحت تہران کے خلاف اقوام متحدہ کے تمام اقدامات ختم ہو چکے تھے۔
دونوں ممالک نے آزادانہ نگرانی کی مدت بڑھانے والی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ سلامتی کونسل کے 11 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
ووٹنگ کے بعد امریکا کی نائب سفیر جینیفر لوکیٹا نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ماہرین کے آزاد پینل کی عدم موجودگی میں کونسل پابندیوں کی خلاف ورزیوں سے متعلق غیر جانب دار اور شواہد پر مبنی معلومات کے اپنے بنیادی ذریعے سے محروم ہو جائے گی۔ ان کے مطابق اس سے نگرانی میں پیدا ہونے والا خلا ایرانی حکومت اور پابندیوں سے بچنے والوں کو فائدہ پہنچائے گا۔
امریکا اور اسرائیل سات ماہ قبل ایران کے ساتھ جنگ میں داخل ہوئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران 2018 میں امریکا کو 2015 کے ایرانی جوہری معاہدے سے نکال لیا تھا اور اس معاہدے کو انتہائی ناقص قرار دیا تھا۔
دوسری جانب روس اور چین نے مغربی ممالک پر سلامتی کونسل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔
اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کے معاملے پر اپنے ان اقدامات کو روکیں جنہیں انہوں نے انتہائی خطرناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات خلیج فارس کے بحران کے حل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات اور خدشات دور کرنے کا واحد راستہ سیاسی اور سفارتی کوششیں ہیں۔
پاکستان کا ایرانی جوہری مسئلے پر محاذ آرائی سے گریز کا مطالبہ
ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کے پاکستان کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایرانی جوہری مسئلے کو پرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پائیدار امن کے لیے غیر محاذ آرائی اور تعاون پر مبنی طرزِ عمل اختیار کرنے پر زور دیا۔
ایران سے متعلق 1737 کمیٹی کے ماہرین کے پینل کے بارے میں قرارداد پر سلامتی کونسل میں اظہار خیال کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ایرانی جوہری مسئلہ وقت کے ساتھ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور دشمنی، جوہری تنصیبات پر حملوں اور اس معاملے کے اہم پہلوؤں پر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان مسلسل اختلافات نے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال ستمبر میں سلامتی کونسل کے سامنے دو راستے موجود تھے۔ ایک یہ کہ جامع مشترکہ لائحہ عمل کے تحت پابندیوں کے خاتمے کے عمل کو جاری رہنے دیا جاتا، جبکہ دوسرا راستہ قرارداد 2231 کی مدت میں چھ ماہ کی فنی توسیع تھا تاکہ سفارتی کوششوں کے لیے مزید وقت اور گنجائش پیدا کی جا سکے۔
پاکستانی مندوب کے مطابق افسوس کے ساتھ ایسا راستہ اختیار کیا گیا جس پر اتفاق رائے موجود نہیں تھا اور اس کے دور رس اثرات اب بھی سلامتی کونسل اور اس سے باہر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس وقت بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ غیر محاذ آرائی اور تعاون پر مبنی طریقۂ کار سلامتی کونسل میں اتفاق رائے برقرار رکھتے ہوئے پائیدار اور پرامن حل کی تلاش میں زیادہ مددگار ثابت ہوتا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اب بھی سمجھتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حل طلب معاملات کے تصفیے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری بنیادی اصول ہونے چاہییں۔ ان کے مطابق پاکستان مسلسل سفارتی رابطوں کو ترجیح دینے اور محاذ آرائی و تنازع سے بچنے کی ضرورت پر زور دیتا آیا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایرانی جوہری مسئلے کو پرامن ذرائع اور متعلقہ فریقوں کے حقوق، ذمہ داریوں اور فرائض کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے حل طلب معاملات کے لیے سفارتی رابطے فوری طور پر بحال اور جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے فراہم کردہ بنیاد پر خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
عاصم افتخار احمد نے تمام فریقوں سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ وعدوں پر عملدرآمد، مذاکرات کی میز پر واپسی اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کی خاطر سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔









