آمنہ شہاب
آج لاہور، کراچی یا پشاور کی سڑکوں پر نکلیں تو چھتوں کا منظر ایک نئی کہانی سناتا ہے: گاڑیوں کے پارکینگ شیڈز، چھوٹے کارخانے، دکانیں اور پوری ہاؤسنگ سوسائٹیاں جن پر لگی نیلے رنگ کی پلیٹیں سورج کی روشنی جذب کر رہی ہیں۔ کسی سے بھی پوچھیں، تو بیشتر لوگ مکمل اعتماد کے ساتھ یہی کہیں گے کہ پاکستان اس وقت توانائی کے ایک بڑے انقلاب (انرجی ٹرانزیشن) کے دور سے گزر رہا ہے۔
لیکن اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ایک بڑا اور تلخ سوال سامنے آتا ہے: کیا ہمارا ملک واقعی اپنے برقی نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی لا رہا ہے، یا لاکھوں صارفین محض ایک ایسے قومی گرڈ سے نجات کا ذاتی راستہ تلاش کر رہے ہیں جس کے مہنگے ٹیرف ان کی برداشت سے باہر ہو چکے ہیں؟
یہ فرق جتنا معمولی نظر آتا ہے، اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ چھت پر سولر پلیٹیں لگانا اور ایک قومی برقی نظام کی ازسرِ نو تعمیر دو مختلف کام ہیں۔ ایک تو وہ ذاتی فیصلہ ہے جو کوئی بھی خاندان ایک دو روز کے اندر کر لیتا ہے۔ جبکہ دوسرا ایک پوری دہائی پر محیط وہ جامع منصوبہ ہے جس میں بجلی کی پیداوار، ترسیل، ذخیرہ اندوزی (اسٹوریج) اور مارکیٹ کی نئے سرے سے ساخت شامل ہے، تاکہ نظام کا انحصار در آمدی ایندھن کے بجائے سستی اور پاکیزہ توانائی پر قائم کیا جا سکے۔
پاکستان نے پہلے کام میں تو قابلِ ذکر پیشرفت کی ہے، لیکن دوسرے کام کی ابھی شروعات بھی نہیں ہوئی، اور ان دونوں کے درمیان موجود یہی خلیج ہمارے ملک کے توانائی کے مباحثے کی اصل رکاوٹ بن چکی ہے۔
توانائی کے حقیقی انقلاب کا مطلب یہ ہے کہ بجلی کی پیداوار، ترسیل، ذخیرہ اندوزی اور فروخت کے بنیادی نظام کو مکمل طور پر بدلا جائے، نہ کہ کسی پرانے دور کے بنے ہوئے گرڈ پر محض پینل سجا دیے جائیں۔ اگر یہ کام درست طریقے سے کیا جائے تو شمسی، ہائیڈل، ہوائی توانائی اور بیٹری اسٹوریج محض اضافی ذرائع نہیں رہتے بلکہ پورا گرڈ اسی کی بنیاد پر ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ اس تبدیلی سے ایندھن کی در آمدات کم ہوتی ہیں، الودگی میں کمی آتی ہے، توانائی کے تحفظ کو مضبوطی ملتی ہے اور بالآخر گرڈ کے تمام صارفین کے لیے بجلی سستی ہوتی ہے—چاہے انہوں نے اپنی چھت پر پینل لگائے ہوں یا نہ۔ یہ سارے نتائج محض چھتوں کے روشن ہو جانے سے خود بخود حاصل نہیں ہو سکتے۔
پاکستان کو اس بات پر قائل کرنے کی بالکل ضرورت نہیں کہ شمسی توانائی کام کرتی ہے؛ چھتوں پر سولر کے وسیع استعمال نے یہ بات پہلے ہی ثابت کر دی ہے۔ اب جس چیز کی اشد ضرورت ہے وہ پردے کے پیچھے کا بنیادی کام ہے: ایک فعال تجارتی منڈی کا قیام، ملک کے بہترین شمسی سائٹس تک ترسیلی نظام کی توسیع، پیداوار کے ساتھ ہی اسٹوریج کے انتظامات، اور ایسے مالیاتی ضوابط جو مناسب لاگت پر سرمایہ کاری کو راغب کر سکیں۔
پاکستان کی چھتیں واقعی بہت تیزی سے روشن ہوئی ہیں۔ ‘پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ اینڈ رینیو ایبلز’ کی تحقیق کے مطابق، رواں سال کے وسط تک چھتوں پر منتقل شدہ پیداواری صلاحیت 33 سے 38 گیگاواٹ کے درمیان پہنچ چکی ہے، جو کسی قومی منصوبے کے بجائے زیادہ تر انفرادی گھرانوں اور کاروباری اداروں کے ذاتی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق 2023 سے اب تک پاکستان میں تقریباً 51.5 گیگاواٹ کے سولر ماڈیولز در آمد کیے جا چکے ہیں، جس نے پاکستان کو دنیا میں شمسی آلات کے بڑے خریداروں میں شامل کر دیا ہے۔ یہ ایک حقیقی کامیابی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ عام لوگوں نے بجلی کے بھاری بلوں سے بچنے کا موقع ملتے ہی اس سے پورا فائدہ اٹھایا۔
لیکن اس بات پر غور کریں کہ یہ بجلی آخر جا کہاں رہی ہے۔ رواں سال نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف منتقلی کے بعد، زیادہ تر نئے سسٹمز بنیادی طور پر صرف اسی عمارت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں جہاں وہ نصب ہیں، اور اب لوگ اضافی بجلی گرڈ کو دینے کے بجائے ذاتی استعمال کے لیے بیٹریاں لگا رہے ہیں۔ ان کا اثر صرف کم وولٹیج کی تاروں، مقامی فیڈرز اور محلے کے ٹرانسفارمرز پر دکھائی دیتا ہے، قومی ترسیلی نظام پر نہیں۔ یہ چھتوں والے سولر کا نقص نہیں ہے؛ بلکہ اسے کبھی اس مقصد کے لیے بنایا ہی نہیں گیا تھا جو بڑے پیمانے کے گریڈ پاور پلانٹس کرتے ہیں—یعنی ایسی بجلی فراہم کرنا جس کی منصوبہ بندی اور تقسیم گرڈ آپریٹر آسانی سے کر سکے۔
اس سے ایک عجیب صورتحال پیدا ہو چکی ہے: جیسے جیسے لوگ دن کے وقت اپنی بجلی خود بنا رہے ہیں، گرڈ کو باقی تمام لوگوں کے لیے پرانے پاور پلانٹس، تاروں اور سب اسٹیشنز کا نظام اسی طرح بحال رکھنا پڑ رہا ہے، حالانکہ دن کے وقت اس کی بجلی کی فروخت اور امدنی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں کم ہوتے ہوئے صارف بیس پر وہی پرانے بھاری اخراجات ڈالنے پر مجبور ہیں، اور یہ مسئلہ صرف اس لیے ختم نہیں ہو جاتا کہ یہ کسی ایک چھت پر نظر نہیں آ رہا۔
جس چیز کی اب بھی سب سے زیادہ کمی ہے وہ بڑے پیمانے کے قومی پاور پلانٹس ہیں، جو کسی ایک عمارت کے بجائے براہِ راست قومی گرڈ کو بجلی فراہم کریں۔ ایسے پلانٹس جنوبی پنجاب، بلوچستان اور سندھ جیسے شدید شمسی شدت والے علاقوں میں لگائے جا سکتے ہیں اور انہیں براہِ راست قومی گرڈ سے جوڑا جا سکتا ہے، تاکہ منصوبہ ساز پیداوار کا درست اندازہ لگا سکیں۔ یہ پلانٹس در آمدی کوئلے، فرنس آئل اور ایل این جی کی جگہ سستی بجلی فراہم کرتے ہیں، جس کا فائدہ نہ صرف سولر لگانے والوں کو ہوتا ہے بلکہ ان تمام عام صارفین کو بھی ملتا ہے جو معیار کے مطابق بل ادا کرتے ہیں۔ چین، بھارت، آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات جیسے تمام ممالک نے اسی نمونے پر عمل کیا ہے: جہاں بڑے پاور پلانٹس اور چھتوں کے سولر دونوں ایک ساتھ پھیلتے ہیں اور روایتی ایندھن پر انحصار آہستہ آہستہ کم ہوتا جاتا ہے۔
لیکن یہ تمام تر نظام بیٹری اسٹوریج کے بغیر بیکار ہے۔ شمسی توانائی صرف دن کے وقت دستیاب ہوتی ہے جبکہ گرڈ کو چوبیس گھنٹے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑے پلانٹس کے ساتھ نصب کی گئی بیٹری اسٹوریج شام کے وقت بجلی فراہم کر سکتی ہے، بادل آنے پر پیداوار میں اچانک کمی کو سنبھال سکتی ہے، اور فریکوئنسی کو متوازن رکھ سکتی ہے۔ اگر شروع ہی سے پیداوار کے ساتھ اسٹوریج کو شامل کر لیا جائے، تو نظام کی لچک کے لیے روایتی ایندھن پر انحصار ختم ہو جائے گا۔
تو پھر یہ سب کچھ اب تک کیوں نہیں بن سکا؟ اس کی پہلی وجہ بجلی کی تجارتی منڈی کے منصوبے میں ہونے والی سالہا سال کی تاخیر ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال رکھا ہے۔ دوسری وجہ حکومت کے اندر پایا جانے والا ایک مختصر نظر خدشہ ہے: چونکہ چھتوں کے سولر کی وجہ سے دن کے وقت طلب کم ہو رہی ہے اور گرڈ کے پاس اضافی صلاحیت موجود ہے، اس لیے حکام مزید پاور پلانٹس کی منظوری دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔ یہ احتیاط بظاہر درست لگتی ہے، لیکن یہ آج کے عارضی اضافے کو انے والے کل کی طلب کے ساتھ ملا دیتی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان کی معاشی نمو میں اضافے کی توقع ہے، اور پاور پلانٹس کی منصوبہ بندی اور تعمیر میں سالوں لگتے ہیں۔ آج کے اضافے کے ختم ہونے کا انتظار کرنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم مستقبل میں بجلی کی شدید قلت کا سامنا کریں گے۔
اگر ٹیکنالوجی اور اس کی افادیت ثابت ہو چکی ہے تو اصل رکاوٹ پیسہ ہے، یا بالخصوص وہ شرائط جن پر پاکستان قرض لے سکتا ہے۔ پاکستان میں سولر کے کسی بھی بڑے منصوبے کو چار بڑے خطرات کا سامنا رہتا ہے: پہلا ادائیگی کا خطرہ، کہ کیا خریدار گردشی قرضے کے باعث وقت پر ادائیگی کرے گا یا نہیں؛ دوسرا کرنسی کا خطرہ، کیونکہ قرضے ڈالر میں ملتے ہیں اور آمدنی روپے میں ہوتی ہے؛ تیسرا ریگولیٹری خطرہ، کہ کیا معاہدے کی شرائط مستقبل میں برقرار رہیں گی؛ اور چوتھا قومی سطح کا مالیاتی خطرہ، جو سرمایہ کاری کی لاگت کو بڑھا دیتا ہے۔ دنیا میں سولر پینلز تاریخ میں اتنے سستے کبھی نہیں تھے، لیکن پاکستان میں ان کو لگانے کے لیے درکار سرمایہ تاریخ میں اتنا مہنگا کبھی نہیں رہا، اور یہی اصل خلیج ہے جو اس شعبے کو آگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔
پاکستان کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ شمسی توانائی کام کرتی ہے؛ چھتوں پر اس کے استعمال نے یہ ثابت کر دیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پسِ منظر کے اصل کاموں پر توجہ دیں: ایک فعال تجارتی منڈی، بہترین سائٹس تک ترسیلی نظام، پیداوار کے ساتھ بیٹری اسٹوریج، اور مناسب مالیاتی شرائط۔ اگر ہم یہ چار کام درست کر لیں، تو بڑا شمسی انرجی کا نظام توانائی کے اس نام نہاد انقلا ب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن جائے گا۔









