بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

پاکستان میں گندم کی درآمدات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

[post-views]
[post-views]

اسلام آباد — حکومتِ پاکستان نے گندم کی ممکنہ قلت اور رسد سے متعلق خدشات کے پیشِ نظر گندم کی درآمدات کا جامع جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کے حکومتی اعلان کے چند روز بعد کیا گیا، جس کا مقصد قلت پر قابو پانا اور قیمتوں کو مستحکم رکھنا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے ورچوئل اجلاس میں اس اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کی منظوری دی گئی۔ کمیٹی کی سربراہی نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کریں گے۔

وزارتِ خزانہ کے بیان میں کہا گیا کہ اسٹیئرنگ کمیٹی صوبوں کی گندم کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لے گی اور گندم کی درآمد کے حوالے سے عملی طریقۂ کار وضع کرے گی تاکہ ملکی طلب کو بروقت پورا کیا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے وفاقی وزیرِ غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے اعلان کیا تھا کہ سندھ سمیت مختلف علاقوں میں گندم کی قلت اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر حکومت فوری طور پر ایک ملین ٹن گندم درآمد کرے گی۔

اسٹیئرنگ کمیٹی میں وزیرِ غذائی تحفظ کے علاوہ وزرائے تجارت، اقتصادی امور اور قانون بھی شامل ہوں گے۔ اس کے ساتھ وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے سربراہ اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹری بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

گزشتہ سال وفاقی زرعی کمیٹی نے ربیع سیزن 26-2025 کے لیے گندم کی پیداوار کا ہدف 2 کروڑ 96 لاکھ 80 ہزار ٹن مقرر کیا تھا، تاہم مئی میں خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اندازہ لگایا کہ کم زیرِ کاشت رقبے اور توقع سے کم پیداوار کے باعث مجموعی پیداوار صرف 2 کروڑ 74 لاکھ 80 ہزار ٹن رہی۔

پاکستان دنیا کے بڑے گندم پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، تاہم جب ملکی پیداوار طلب پوری کرنے سے قاصر رہتی ہے یا منڈی میں رسد کم ہو جاتی ہے تو حکومت درآمدات کا سہارا لیتی ہے۔ دوسری جانب امریکی محکمۂ زراعت کے اپریل 2025 کے تخمینے کے مطابق آبادی میں اضافے کے باعث 26-2025 کے دوران پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت 3 کروڑ 19 لاکھ ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں ملکی پیداوار میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]