مغربی یورپ میں جنگلاتی آگ اب بھی تباہی مچا رہی ہے۔ میڈرڈ کے مغرب میں پہاڑی علاقوں میں لگی آگ اسپین کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگلاتی آگ بن چکی ہے، جبکہ جنوب مغربی فرانس کے شہر بوردو کے قریب بھڑکنے والی آگ پیرس سے چار گنا بڑے رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ دونوں ممالک میں مجموعی طور پر تقریباً تین لاکھ ساٹھ ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
امدادی اہلکار آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں، کیونکہ آئندہ چند روز میں شدید گرمی کی نئی لہر آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے دوران بعض علاقوں میں درجۂ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے۔ فرانس کے جیروند اور لاند کے علاقوں میں گرمی سے متعلق زرد انتباہ جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے محکمۂ موسمیات نے آنے والے دنوں میں انتہائی سخت موسمی حالات سے خبردار کیا ہے۔
صدر ایمانویل میکرون نے بوردو کے قریب آگ سے متاثرہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کو “تاریخ کی بالکل غیر معمولی جنگلاتی آگ” کا سامنا ہے، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد ملک کی سب سے مشکل آگ ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاند کے علاقے میں نسبتاً چھوٹی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم بوردو کے اطراف میں کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
صورتحال کو مزید خطرناک بناتے ہوئے بوردو کے اوپر آگ سے پیدا ہونے والا ایک دیوہیکل طوفانی بادل تشکیل پا گیا ہے، جسے امریکی خلائی ادارہ “بادلوں کا آگ اگلنے والا اژدہا” قرار دیتا ہے۔ ایسے طوفان خشک آسمانی بجلی پیدا کرتے ہیں، جو نئی آگ بھڑکا سکتے ہیں۔
آگ کی اس تباہ کاری نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات پر نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ اسپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ موسمیاتی بحران جنگلاتی آگ کو پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور گرمی کی لہروں کو زیادہ بار بار آنے والا بنا رہا ہے۔
فرانس میں فضائی آلودگی کا خطرہ
فرانسیسی حکام نے دھوئیں سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیرِ صحت اسٹیفانی رِست نے کہا کہ حکومت فضائی آلودگی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کو ضرورت کے وقت گھر سے نکلتے ہوئے حفاظتی نقاب استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔
جیروند کے امدادی ادارے نے بھی بے گھر کیے گئے شہریوں کو قبل از وقت گھروں کو واپس نہ جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آگ ابھی ہرگز قابو میں نہیں آئی، چہ جائیکہ مکمل طور پر بجھ گئی ہو۔ حکام کے مطابق صرف دھوئیں کی موجودگی ہی لوگوں کو دور رہنے کے لیے کافی ہے۔
اخبارات کی نمایاں سرخیاں
فرانس اور اسپین کے اخبارات نے اس بحران کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے۔ فرانس کے ایک معروف روزنامے نے سرخی لگائی: “آگ کے خلاف مسلسل جنگ” جبکہ ایک دوسرے اخبار نے حالات کو یوں بیان کیا: “آگ، گرمی کی لہریں، دھواں اور گھٹن۔”
اسپین کے ایک اخبار نے خبردار کیا کہ “آگ پر قابو پانے کے لیے آئندہ چوبیس گھنٹے انتہائی اہم ہیں،” جبکہ دوسرے اخبار نے عارضی پناہ گاہ میں موجود متاثرین کی تصویر کے ساتھ سرخی لگائی: “ایک لاکھ ستر ہزار افراد آگ کے محاصرے میں۔”
اسپین میں انخلا کا دائرہ وسیع
نگرانی کے کیمروں کی تصاویر نے اسپین میں آگ کے انتہائی تیز پھیلاؤ کو نمایاں کیا ہے۔ حکام نے میڈرڈ اور والینسیا کے اطراف آگ سے متاثرہ علاقوں سے اناسی ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے، جبکہ مزید تیس ہزار افراد کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شدید گرمی کا گنبد
موسمی پیش گوئیوں کے مطابق جنوب مغربی فرانس میں درجۂ حرارت سینتیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں پیرس اور تور میں اڑتیس ڈگری، لیون اور گرینوبل میں چھتیس ڈگری اور جنوب مغربی علاقوں میں چالیس ڈگری تک گرمی پڑ سکتی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے جیروند، لاند اور مشرقی فرانس کے ایک درجن سے زائد علاقوں کے لیے زرد انتباہ جاری کر دیا ہے۔
اسپین میں ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ جزیرہ نما پر شدید گرم ہوا کا ایک طاقتور گنبد قائم ہو رہا ہے، جو گرمی کو مزید بڑھا دے گا۔ میڈرڈ میں درجۂ حرارت سینتیس ڈگری تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ قریبی شہر آویلا، جہاں اسپین کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگلاتی آگ لگی ہوئی ہے، شدید دباؤ کا شکار ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق گرمی کی یہ لہر کم از کم اتوار تک برقرار رہے گی، جبکہ بلند درجۂ حرارت اور جنوبی سمت سے چلنے والی تیز ہوائیں آگ بجھانے کی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیں گی۔ جمعہ کو ہفتے کا گرم ترین دن متوقع ہے، جب قرطبہ میں درجۂ حرارت چوالیس ڈگری جبکہ طلیطلہ اور سرقسطہ میں بیالیس ڈگری کے قریب پہنچنے کا امکان ہے۔
بوردو کے قریب آگ عارضی طور پر مستحکم
جیروند میں لگی وسیع جنگلاتی آگ نسبتاً پُرسکون رات کے بعد اس وقت مستحکم قرار دی جا رہی ہے۔ علاقائی حکام کے مطابق رات کے دوران کئی مقامات پر آگ دوبارہ بھڑکی، تاہم امدادی اہلکاروں نے انہیں شمالی علاقوں میں قابو کر لیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جلنے والا رقبہ مزید نہیں بڑھا، تاہم اس آگ کے دوران مجموعی طور پر ترانوے امدادی اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔
جیروند کے قصبے مارشپریم کے میئر مانوئل مارٹینیز نے کہا، “ہم آگ کے محاذ کے سب سے قریب اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ ہم ایک ایسی آگ کا سامنا کر رہے ہیں جسے ہم ابھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، “ہم ایک دشمن کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں،” اور آگ بجھانے والے عملے کے لیے مزید وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔









