تہران — ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے عمان کے ساتھ مجوزہ راستے پر معاہدہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، تاہم اس کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں لائی گئیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کرنے کے قریب ہے، لیکن انہوں نے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ مکمل بھی ہو جائے تو اس سے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کی مکمل ضمانت نہیں ملے گی، کیونکہ ایران کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث خطے کی سلامتی اب بھی خطرات سے دوچار ہے۔ اس حوالے سے نہ امریکہ اور نہ ہی عمان کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے آیا ہے۔
فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے بڑی حد تک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود کر دی تھی۔ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس اسی اہم بحری گزرگاہ سے گزرتی ہے۔
منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز جلد دوبارہ نہ کھولی گئی تو ایران کو “بہت سخت نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا کہ امریکی حکام کے مطابق مذاکرات میں اتنی پیش رفت ہو چکی ہے کہ رواں ہفتے کے دوران بحری نقل و حمل بحال ہو سکتی ہے۔ تاہم ایران نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہا اور نہ ہی اس کا ایسا کوئی ارادہ ہے۔
اسماعیل بقائی نے بتایا کہ عمان کے ساتھ مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی خد و خال پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم ان کے بقول اصل مسئلہ خطے کی سلامتی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی اور ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنائے ہوئے ہیں۔
بعد ازاں ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ مجوزہ راستہ عارضی نوعیت کا ہوگا اور غالب امکان ہے کہ دو سے چار ماہ تک فعال رہے گا۔
ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت ایشیائی تجارت کے دوران صفر اعشاریہ تین فیصد کمی کے بعد اناسی ڈالر چوبیس سینٹ فی بیرل رہی۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈی شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
رائٹرز کے مطابق تہران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے سامان کی مالیت کے پانچ سے سات فیصد تک فیس وصول کی جائے، جبکہ عمان تقریباً تین فیصد شرح پر غور کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کسی بھی قسم کی فیس عائد کیے جانے کی مخالفت کر رہا ہے۔
جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک یادداشتِ مفاہمت پر دستخط ہوئے تھے، جس کا مقصد جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ساٹھ روز کے اندر ایک جامع معاہدے تک پہنچنا تھا، تاہم چند ہی دنوں بعد سفارتی عمل ناکام ہو گیا اور دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔
اس دوران امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی، جبکہ بحیرۂ احمر میں سعودی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ کی جانب سے جاری ہے۔
فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے وسیع حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز تقریباً بند ہو گئی تھی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کے روز کہا کہ سپریم رہنما مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطہ اس وقت مشکل ضرور ہے، لیکن وہ اب بھی ایران کے لیے حوصلے اور استحکام کا اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں مثبت اور تعمیری رہی ہیں، تاہم موجودہ حالات میں بعض عناصر ان کے بارے میں غلط تاثر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔









