اسکرین کے عہد میں آزادیِ اظہار کا نیا جبر

[post-views]
[post-views]

آج سوشل میڈیا کا تقریباً ہر صارف اس احساس سے واقف ہے کہ اسے ہر وقت کچھ نہ کچھ کہنے، دکھانے یا شیئر کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہار اور اشیا کے استعمال کی ایسی نہ ختم ہونے والی طلب پیدا کر دی ہے جس میں انسان اپنی ذات، شوق، سرگرمی، خیالات، آرا، تجربات اور حتیٰ کہ پرانی یادوں تک کو دوسروں کے سامنے پیش کرنے پر آمادہ رہتا ہے۔

یہ صورتِ حال رفتہ رفتہ ایک نئی قسم کے اضطراب کو جنم دیتی ہے۔ صارف کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اگر وہ چند دن اس دنیا میں خاموش رہا تو شاید وہ نظروں سے اوجھل ہو جائے گا۔ پسندیدگی، تبصروں اور پیروکاروں میں اضافے کی خواہش اس اضطراب کو مزید گہرا کرتی ہے۔ یوں اسکرین پر موجودگی محض اظہار نہیں رہتی بلکہ اپنی ذات کے وجود کا ثبوت بن جاتی ہے۔

وجودی فلسفے میں اضطراب کو انسان کے اپنے وجود سے گہری واقفیت کا ذریعہ سمجھا گیا ہے، مگر سماجی ذرائع ابلاغ کا پیدا کردہ اضطراب اس سے مختلف ہے۔ اس میں خوف، لالچ اور مسلسل توجہ حاصل کرنے کی خواہش باہم گھل جاتی ہے۔ انسان حقیقی دنیا میں اپنی موجودگی کے بجائے اسکرین پر اپنی موجودگی کو زیادہ اہم سمجھنے لگتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اظہار کی آزادی بظاہر بڑھنے کے باوجود ذہنی آزادی کم ہوتی جاتی ہے۔ انسان بعض اوقات کسی حقیقی داخلی تحریک، فکری ضرورت یا ذمہ داری کے احساس کے بغیر لکھتا ہے۔ وہ سوچ کر اظہار کرنے کے بجائے محض اس لیے کچھ کہتا رہتا ہے کہ خاموشی اسے اپنی معدومی کا احساس دلاتی ہے۔ کئی بار تحریر محض الفاظ کا بوجھ بن جاتی ہے اور کبھی وہ محض بے ربط بڑبڑاہٹ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان آہستہ آہستہ اپنے خیالات کا مالک نہیں رہتا۔ اس کے ذہن کی سمت غیر محسوس طور پر دوسروں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔ جو کچھ وہ دیکھتا، پسند کرتا اور شیئر کرتا ہے، وہ اس کی فکری ترجیحات کو تشکیل دینے لگتا ہے۔

سماجی ذرائع ابلاغ سے پہلے انسان کی ایک سماجی شناخت تھی؛ اب اس پر ایک نئی تہہ، یعنی ڈیجیٹل شناخت، بھی چڑھ گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ انسان آزادی سے محروم ہونے پر بھی اسے آزادی سمجھ کر خوش ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]