پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیر کو بھارتی ذرائع ابلاغ کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم کے دوران ’’جھوٹ کی بنیاد پر جنگ شروع کی اور بری طرح شکست کھائی۔‘‘
بلاول بھٹو نے یہ بیان سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے ایک بھارتی ٹیلی وژن چینل کو دیے گئے انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے دیا۔ انور ابراہیم برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دورے پر تھے۔
انٹرویو کے دوران انور ابراہیم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ حماس کے خلاف اسرائیلی اقدامات کو دہشت گردی سمجھتے ہیں۔ ان کے اثبات میں جواب دینے کے بعد میزبان نے سوال کیا کہ کیا اسی بنیاد پر بھارت کے خلاف پاکستان کی مبینہ کارروائیوں، جن میں پہلگام حملہ بھی شامل ہے، کو بھی دہشت گردی قرار دیا جاسکتا ہے۔
ملائیشیا کے وزیراعظم نے اس موازنے سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے معاملے کی بھارت میں حساسیت کو تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات اور پاکستان کے ساتھ ملائیشیا کے روابط کا ذکر کیا اور کہا کہ ایسے الزامات کو پہلے ثابت کرنا ضروری ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ پاکستان پر دہشت گردی کا الزام عائد کرنے میں اتنے واضح کیوں نہیں، تو انور ابراہیم نے کہا کہ ملائیشیا کے انٹیلی جنس اداروں نے انہیں ایسے شواہد فراہم نہیں کیے جن سے یہ ثابت ہو کہ پاکستان ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ ان کے مطابق بطور وزیراعظم وہ صرف ثابت شدہ حقائق کی بنیاد پر ہی کوئی مؤقف اختیار کرسکتے ہیں۔
انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ملائیشیا کے وزیراعظم نے بھارت میں بیٹھ کر ایک بھارتی ٹیلی وژن چینل پر اس بیانیے کو بے نقاب کردیا جسے انہوں نے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا۔
بلاول بھٹو نے مزید دعویٰ کیا کہ بھارت نے گزشتہ برس جھوٹے الزام کی بنیاد پر جنگ شروع کی اور اس کے بعد بین الاقوامی سطح پر بے نقاب ہوگیا۔
انہوں نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے وقت کیے گئے وعدوں کو پورا کرے اور پاکستان کے ساتھ تمام متنازع امور پر بات چیت کرے۔ ان کے مطابق ایسی بات چیت خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں مدد دے سکتی ہے۔
مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ فوجی تصادم بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا۔ بھارت نے اس حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا، جبکہ اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
7 مئی کو بھارت کی جانب سے پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر میں فضائی حملوں کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ پاکستان نے بعد ازاں فضائی لڑائی کے دوران کئی بھارتی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا۔ دونوں ممالک نے بعد میں ایک دوسرے کے فوجی اہداف پر حملے کیے، جس کے بعد بین الاقوامی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں 10 مئی کو جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا۔
پاکستان پہلگام حملے سے متعلق بھارتی الزامات مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔ اپریل میں واقعے کی پہلی برسی کے موقع پر بھی اسلام آباد نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی دہلی پاکستان کے خلاف اپنے مبینہ جھوٹے بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔









