پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ تھر کی ترقی آئینی نظام اور 18ویں ترمیم کی افادیت کا ثبوت ہے، تھر کول بلاک ٹو کے تیسرے مرحلے کا افتتاح
تھرپارکر: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیر کو اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ پاکستان کا نظام ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے تھرپارکر میں ہونے والی ترقی کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ موجودہ آئینی اور سیاسی نظام ترقی کے نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تھر کول منصوبے کے بلاک ٹو کے تیسرے مرحلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے تھرپارکر کو ملک کے نظام، 1973 کے آئین اور 18ویں آئینی ترمیم کی کامیابی کی ایک عملی مثال قرار دیا۔
نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرنے اور موجودہ نظام کو ناکام قرار دینے والوں کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ اگر اس دلیل کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسلام آباد ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو تھرپارکر کے لوگوں کے حوالے کر دیا جائے تو وہ اسے درست کر سکتے ہیں۔
بلاول نے تھر کی ترقی کو 18ویں ترمیم کی کامیابی قرار دے دیا
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ تھرپارکر کی ترقی آئینی نظام کے تحت صوبائی اختیارات کی اہمیت اور صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔
ان کے مطابق تھر میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہاں محض ظاہری تبدیلیاں نہیں بلکہ حقیقی ترقی ہوئی ہے۔
بلاول بھٹو نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر کراچی میں ایک سیاسی جماعت پر نفرت اور تقسیم کی سیاست کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی ایسی سیاست کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
وفاقی دارالحکومت کی حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے تعلیمی اور صحت کے نظام کو بھی بہتر بنا کر بین الاقوامی معیار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر حصوں کو تھرپارکر کی ترقی سے سبق سیکھنا چاہیے۔
سرکاری و نجی شراکت داری کے نظام کی تعریف
بلاول بھٹو نے تھرپارکر کی ترقی میں سرکاری و نجی شراکت داری کے نظام کو بھی اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ تھر اس وقت قومی بجلی نظام کو تقریباً 14 فیصد بجلی فراہم کر رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ یہاں ملک کی سستی ترین بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے تھر کے کوئلے کی تجارتی افادیت سے متعلق ماضی میں ظاہر کیے گئے شکوک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج تھر کول منصوبے کے باعث پاکستان کو زرمبادلہ کی مد میں سالانہ 1.6 ارب ڈالر تک کی بچت ہو رہی ہے۔
انہوں نے منصوبے سے پیدا ہونے والے روزگار کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے 94 فیصد ملازمین کا تعلق سندھ سے ہے، جبکہ 60 فیصد کارکن تھر کے مقامی باشندے ہیں۔
تیسرے مرحلے سے کوئلے کی پیداوار میں اضافہ ہوگا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ تھر بلاک ٹو کے تیسرے مرحلے کی تکمیل سے کان کی سالانہ پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ان کے مطابق کوئلے کی سالانہ پیداوار 76 لاکھ ٹن سے بڑھ کر ایک کروڑ 12 لاکھ ٹن ہو جائے گی، یعنی سالانہ پیداوار میں 36 لاکھ ٹن کا اضافہ ہوگا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ منصوبے کا تیسرا مرحلہ مکمل طور پر اپنے مالی وسائل کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے۔
اس تقریب کے ذریعے پیپلز پارٹی کی قیادت نے نہ صرف تھر کول منصوبے کی توسیع کو اجاگر کیا بلکہ تھرپارکر کو صوبائی خودمختاری، 18ویں آئینی ترمیم اور موجودہ آئینی نظام کے حق میں اپنے وسیع تر سیاسی مؤقف کی عملی مثال کے طور پر بھی پیش کیا۔









