دستیاب معلومات کے مطابق بھارتی وفد کے ارکان نے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے خطاب کے دوران بار بار مداخلت کی کوشش کی۔ کانفرنس کی ویڈیو میں بعض بھارتی مندوبین کو مائیک حاصل کرنے اور کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔
ایاز صادق نے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلی، آبی وسائل اور موسمیاتی انصاف پر گفتگو کرتے ہوئے ’’آبی دہشت گردی‘‘ کا ذکر کیا، تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔
اس صورتحال پر میزبان اور جمیکا کے اسپیکر کو مداخلت کرنا پڑی، جنہوں نے مبینہ طور پر بھارتی مندوبین سے کہا کہ وہ یا تو خاموش رہیں یا ہال سے باہر چلے جائیں۔ دیگر شرکا نے بھی بھارتی وفد کو ایاز صادق کا خطاب تحمل سے سننے کا مشورہ دیا۔ خلل کے باوجود اجلاس کی کارروائی جاری رہی۔
ایاز صادق نے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے حوالے سے عالمی برادری کی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کی۔ کسی مخصوص ملک یا وفد کا نام لیے بغیر انہوں نے دریاؤں میں اچانک پانی کے بہاؤ میں اضافے اور پانی روکنے جیسے معاملات کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت کی پالیسیاں مؤثر عوامی شرکت کے ساتھ تشکیل دی جانی چاہئیں، جبکہ ان پالیسیوں کی نگرانی میں جمہوری اداروں کا کردار ناگزیر ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خوراک، پانی، صحت اور زندگی کے دیگر شعبوں کو متاثر کر رہی ہے اور پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے موسمیاتی انصاف اور جمہوری اداروں کی شمولیت ضروری ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی مسائل پر پارلیمانی مکالمہ سنجیدہ، تعمیری اور عملی نتائج پر مبنی ہونا چاہیے۔
ایاز صادق نے موسمیاتی پالیسیوں کے عملی نفاذ میں قانون ساز اداروں کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور بین الاقوامی موسمیاتی مالی معاونت کی پارلیمانی نگرانی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان قانون سازی، بجٹ کی نگرانی اور پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششوں میں خواتین، نوجوانوں اور معاشرے کے دیگر طبقات کی شمولیت کو بھی ضروری قرار دیا۔ ان کے مطابق پارلیمانوں کو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا اور اختلافات کے بجائے تعاون اور بامعنی مکالمے کو فروغ دینا چاہیے۔
ایاز صادق نے کہا کہ مضبوط معاشروں کے لیے مضبوط جمہوری ادارے ناگزیر ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے مؤثر مطابقت کے لیے منصفانہ مالی معاونت کے ساتھ جمہوری جواب دہی بھی ضروری ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر کشیدگی برقرار ہے۔ بھارت نے اپریل 2025 میں معاہدے کو التوا میں رکھنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے اپنے حصے کے پانی کو معطل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے میں یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اسلام آباد نے بعد ازاں یہ بھی مؤقف اپنایا کہ بھارت کا اقدام معاہدوں کے قانون سے متعلق ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
اگست میں دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کی ذمہ داریوں اور بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ایک پن بجلی منصوبے سے متعلق فیصلہ جاری کیا تھا۔









