ریپبلک پالیسی | عالمی امور | ۲۸ اکتوبر ۲۰۲۶ء
نئی دہلی: بھارت کی مشرقی ساحلی پٹی کی جانب بڑھتے ہوئے شدید سمندری طوفان ارنب کے پیشِ نظر حکام نے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ متعدد علاقوں میں ریل گاڑیوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی ہے، جبکہ تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے باعث تیز ہواؤں، موسلادھار بارشوں اور سیلاب سے رہائشی آبادیوں، بنیادی ڈھانچے اور زرعی زمینوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔
خلیج بنگال میں پیدا ہونے والا یہ سمندری طوفان پیر کو مزید شدت اختیار کر گیا تھا۔ بھارتی محکمۂ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق طوفان کے بدھ کی صبح تک جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا کہ طوفان سے ساحلی آبادیوں میں شدید تباہی ہو سکتی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں مکانات کمزور ہیں اور سیلاب سے تحفظ کے مناسب انتظامات موجود نہیں۔
ہنگامی اقدامات کا زیادہ تر مرکز آندھرا پردیش ہے، تاہم پڑوسی ریاست اڈیشہ میں بھی شدید بارشوں اور خطرناک موسمی حالات کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔
طوفان کی آمد نے ساحلی آبادیوں کی قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔ ان علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کا روزگار زراعت، ماہی گیری اور چھوٹے کاروباروں سے وابستہ ہے، اس لیے طوفان کے اثرات انسانی جانوں اور املاک کے نقصان سے آگے بڑھ کر مقامی معیشت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
آندھرا پردیش میں بڑے پیمانے پر انخلا جاری
آندھرا پردیش کی انتظامیہ نے نشیبی ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات اور عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
آندھرا پردیش کے ریاستی ادارہ برائے قدرتی آفات کے انتظام کے سربراہ پرکھر جین نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ پیر کی رات تک تقریباً پچاس ہزار افراد کو خطرناک علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا تھا۔
حکام کے اندازے کے مطابق طوفان کی شدت اور اس کے ممکنہ اثرات کے پیشِ نظر تقریباً چار لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
پرکھر جین نے تصدیق کی کہ انخلا کی کارروائیاں جاری ہیں اور امدادی اہلکار ان آبادیوں کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں سیلاب، سمندری لہروں اور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے خطرات زیادہ ہیں۔
خطرناک علاقوں میں مقیم حاملہ خواتین کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق احتیاطی تدابیر کے تحت چار ہزار سات سو سے زائد حاملہ خواتین کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ شدید موسمی حالات کے دوران آمدورفت متاثر ہونے یا طبی سہولتوں تک رسائی محدود ہونے کی صورت میں ان خواتین کو فوری علاج میسر ہو۔
آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ نارا چندرابابو نائیڈو نے متعلقہ سرکاری محکموں کو ہدایت کی کہ طوفان کی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی کی جائے اور ساحل سے ٹکرانے سے پہلے تمام ضروری حفاظتی اقدامات مکمل کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ کے دفتر سے پیر کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق حکام کو صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھنے اور خطرے سے دوچار آبادیوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق متاثرہ اضلاع میں متعدد تعلیمی اداروں کو منگل سے ہفتے تک بند رکھنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔
محکمۂ موسمیات کی بڑے پیمانے پر تباہی کی تنبیہ
بھارتی محکمۂ موسمیات نے ساحلی اضلاع میں شدید ہواؤں، موسلادھار بارشوں اور سیلاب کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔
محکمے کے مطابق طوفان سے گھاس پھونس اور کمزور تعمیراتی سامان سے بنے مکانات مکمل طور پر تباہ ہو سکتے ہیں۔ بجلی اور مواصلات کے کھمبے اکھڑنے، بنیادی تنصیبات کو نقصان پہنچنے اور کھڑی فصلوں کی وسیع پیمانے پر تباہی کا بھی خدشہ ہے۔
نشیبی علاقوں میں مسلسل بارشوں اور سمندری پانی کے ساحلی آبادیوں میں داخل ہونے سے سیلاب کی صورتِ حال زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔
متاثرہ علاقوں سے نشر ہونے والی ٹیلی وژن تصاویر میں بلند سمندری لہریں تقریباً خالی ساحلوں سے ٹکراتی دکھائی دیں، جبکہ کئی مقامات پر دکانیں اور کاروباری مراکز بند تھے۔
زرعی علاقوں میں طوفان کے ممکنہ اثرات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ کھڑی فصلوں، دیہی سڑکوں، آبپاشی کے انتظامات اور دیگر بنیادی سہولتوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں مقامی آبادیوں کو طوفان گزرنے کے بعد بھی طویل عرصے تک معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خلیج بنگال دنیا کے ان سمندری خطوں میں شمار ہوتی ہے جہاں شدید طوفان نسبتاً زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے بھارت کی مشرقی ساحلی پٹی بار بار سمندری طوفانوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے متاثر ہوتی ہے۔
ریل گاڑیوں کی آمدورفت معطل، تعلیمی ادارے بند
طوفان کے خطرات کم کرنے کے لیے بھارتی ٹرانسپورٹ حکام نے متعدد احتیاطی پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
علاقائی ریلوے حکام کے مطابق مشرقی بھارت میں کم از کم بارہ ریل گاڑیاں منسوخ کی گئیں، جبکہ جنوبی ساحلی علاقوں کے ترپن راستوں پر منگل اور بدھ کے لیے ریل خدمات معطل کر دی گئیں۔
ان اقدامات سے مسافروں کی آمدورفت اور مختلف علاقوں کے درمیان زمینی رابطے متاثر ہونے کا امکان ہے، تاہم حکام نے مسافروں کی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے یہ فیصلے کیے ہیں۔
ریاست اڈیشہ میں بھی پانچ اضلاع کے سکول اور کالج منگل اور بدھ کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔
اڈیشہ کے خصوصی امدادی کمشنر راجیش پربھاکر پاٹل نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے بیان کے وقت تک ریاست میں کسی آبادی کو منتقل نہیں کیا گیا تھا۔
تاہم ریاستی حکام شدید بارشوں، سیلاب اور دیگر ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیاریاں جاری رکھے ہوئے تھے۔
سری لنکا میں بھی شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ
سمندری طوفان سے پیدا ہونے والی موسمی صورتِ حال کے اثرات بھارت تک محدود نہیں رہے۔
پڑوسی ملک سری لنکا میں بھی شدید بارشوں، اچانک سیلاب اور پہاڑی تودے گرنے کے خدشات کے باعث تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔
سری لنکا کے محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا کہ موسلادھار بارشوں سے حساس علاقوں میں اچانک سیلاب آ سکتا ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں زمین کھسکنے اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
سری لنکا کے ادارہ برائے قدرتی آفات نے بھی ہنگامی تیاریوں کے تحت فوج کو چوکس رہنے کی ہدایت کی۔
یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ شمالی بحرِ ہند میں پیدا ہونے والے شدید موسمی نظام بیک وقت کئی ممالک کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
موسمیاتی خطرات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت
خلیج بنگال اور شمالی بحرِ ہند میں سمندری طوفان ایک مستقل قدرتی خطرہ ہیں۔ دنیا کے دوسرے سمندری خطوں میں اسی نوعیت کے شدید طوفان مختلف ناموں سے پہچانے جاتے ہیں۔
شمالی بحرِ اوقیانوس میں انہیں عموماً سمندری گردباد کہا جاتا ہے، جبکہ بحرالکاہل کے بعض حصوں میں ان کے لیے الگ اصطلاح رائج ہے۔
دستیاب رپورٹ میں ال نینو سے وابستہ سمندری درجۂ حرارت میں اضافے کو بھی شدید موسمی حالات کے خدشات سے منسلک کیا گیا ہے۔ تاہم کسی مخصوص طوفان کی شدت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے درمیان براہِ راست تعلق متعین کرنے کے لیے الگ سائنسی تحقیق ضروری ہوتی ہے۔
بھارت کے لیے فوری ترجیح خطرناک علاقوں سے لوگوں کا بروقت انخلا، بنیادی خدمات کی بحالی کے انتظامات اور انسانی جانوں کے نقصان کو کم سے کم رکھنا ہے۔
تاہم اس بحران کا ایک اہم پہلو ریاستی اداروں کی قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی ہے۔
ساحلی علاقوں میں مضبوط بنیادی ڈھانچہ، بروقت پیشگی اطلاع دینے والے نظام، ہنگامی طبی سہولتیں، محفوظ پناہ گاہیں اور مؤثر امدادی ادارے انسانی اور معاشی نقصانات کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
قدرتی آفات کا مؤثر انتظام مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان رابطہ کاری، عوام تک بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات کی فراہمی اور امدادی وسائل کی منصفانہ تقسیم کا تقاضا کرتا ہے۔
سمندری طوفان ارنب بھارت کے ہنگامی انتظامات اور متعلقہ اداروں کی عملی تیاری کا ایک اہم امتحان ہے۔
چونکہ ساحلی علاقوں میں بڑی آبادی سیلاب اور بنیادی ڈھانچے کی ممکنہ تباہی کے خطرے سے دوچار ہے، اس لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کی کامیابی طوفان کے انسانی اور معاشی اثرات متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
یہ بحران اس بنیادی حقیقت کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ قدرتی آفات سے تحفظ صرف ہنگامی امدادی کارروائیوں کا معاملہ نہیں بلکہ طویل المدت منصوبہ بندی، ادارہ جاتی استعداد اور عوامی تحفظ پر مبنی مؤثر حکمرانی کا تقاضا کرتا ہے۔









