جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئی نسل تبدیلی کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ نوجوان پرانے سیاسی نظام پر سوال اٹھا رہے ہیں، روایتی حکمران اشرافیہ کو چیلنج کر رہے ہیں اور اپنے ممالک کے مستقبل میں زیادہ مؤثر کردار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران نوجوانوں کی قیادت میں چھ تحریکوں نے خطے کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ تحریکیں مختلف ممالک اور مختلف حالات میں ابھریں، لیکن ان کے پیچھے موجود بے چینی میں حیرت انگیز مماثلت تھی۔ نوجوان روزگار کی کمی، بڑھتے ہوئے اخراجات، معاشی عدم مساوات اور اپنی روزمرہ مشکلات سے لاتعلق دکھائی دینے والے سیاسی نظام سے پریشان ہیں۔
بہت سے نوجوانوں کے لیے مسئلہ اب صرف خراب طرز حکمرانی تک محدود نہیں رہا۔ ان میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ موجودہ نظام انہیں آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع ہی فراہم نہیں کرتا۔
تعلیم کبھی ایک سادہ سا وعدہ رکھتی تھی: پڑھو، محنت کرو اور بہتر زندگی بناؤ۔ اب اس وعدے پر یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان امید اور صلاحیت کے ساتھ روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، مگر انہیں محدود مواقع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف وہ دیکھتے ہیں کہ دولت، اثرورسوخ اور سیاسی طاقت بدستور معاشرے کے ایک محدود طبقے کے ہاتھ میں ہے۔
ٹیکنالوجی نے اس بے چینی کو ایک نئی آواز دی ہے۔ یہ نسل برقی دنیا سے جڑی ہوئی ہے۔ نوجوان سرکاری بیانیوں پر سوال اٹھا سکتے ہیں، خیالات کا تبادلہ کرسکتے ہیں، احتجاج منظم کرسکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے معاشروں میں لوگ کس طرح زندگی گزارتے اور اپنے معاملات چلاتے ہیں۔ اب ایک مقامی مسئلہ چند گھنٹوں میں قومی تحریک بن سکتا ہے۔
لیکن صرف احتجاج تبدیلی کی ضمانت نہیں دیتا۔ جنوبی ایشیا کے ممالک کے سیاسی ادارے ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ کچھ نظام عوامی غصے کو انتخابات، مکالمے اور اصلاحات کے ذریعے اپنے اندر سمو سکتے ہیں، جبکہ دوسرے جبر کا راستہ اختیار کرکے مزید عدم استحکام پیدا کرسکتے ہیں۔
اصل امتحان یہی ہے۔
حکومتوں کو نوجوانوں کو محض ایک ناراض نسل سمجھ کر قابو کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے غصے میں ایک واضح پیغام موجود ہے۔ وہ روزگار، عزت، نمائندگی اور ایسی حکومت چاہتے ہیں جو حقیقتاً کام کرے۔
جنوبی ایشیا کا مستقبل صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوگا کہ اس کے نوجوان کتنی بلند آواز میں بولتے ہیں، بلکہ اس پر بھی کہ اس کے ادارے کتنی دانش مندی سے ان کی بات سنتے ہیں۔









