بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم، نئی فوجی کارروائیوں کے خدشات برقرار

[post-views]
[post-views]

ریپبلک پالیسی | عالمی معیشت اور توانائی | ۲۸ اکتوبر ۲۰۲۶ء

لندن: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش رفت کی امید پر منگل کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم ایران، سعودی عرب اور یمن کی حوثی تحریک کے درمیان جاری کشیدگی اور نئی فوجی کارروائیوں کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتیں گزشتہ کئی ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کے اہم پیمانے برینٹ کی قیمت ایک ڈالر، یعنی صفر اعشاریہ چھیاسی فیصد کمی کے بعد ۱۱۴ اعشاریہ ۸۱ ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت اٹھہتر سینٹ، یعنی صفر اعشاریہ ستتر فیصد کمی کے ساتھ ۱۰۰ اعشاریہ ۹۸ ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

یہ قیمتیں منگل، ۲۷ اکتوبر کو عالمی معیاری وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر گیارہ منٹ پر ریکارڈ کی گئیں۔

تیل کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں سے پیدا ہونے والی محتاط امید ہے۔ تاہم عالمی منڈی کے سرمایہ کاروں کو اب بھی خدشہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی نئی فوجی کارروائیاں یا خطے میں تیل کی تنصیبات اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے توانائی کی عالمی رسد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ایران کے علاقائی ممالک کے ساتھ امن مذاکرات

ایران کی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے منگل کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس سے ایک روز قبل انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے مذاکرات کے دوران قومی مفادات کے تحفظ اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی طے شدہ شرائط برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق چاروں ممالک نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے تعاون بڑھانے اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ان سفارتی رابطوں کو عالمی توانائی کی منڈی میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی کی کسی بھی مؤثر کمی سے تیل کی پیداوار، نقل و حمل اور بین الاقوامی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کم ہو سکتے ہیں۔

ان مذاکرات میں پاکستان کی شرکت بھی اہم ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کے معاشی اثرات بالخصوص ان ممالک کے لیے زیادہ سنگین ہوتے ہیں جو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔

تاہم سفارتی سرگرمیوں کے باوجود ابھی تک کسی جامع امن معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ خطے میں جاری فوجی کارروائیاں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے لیے بدستور ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حوثی حملوں کا خطرہ

یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب پر نئے حملوں نے امن مذاکرات سے پیدا ہونے والی امیدوں کو متاثر کیا ہے۔

منگل کو حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کی راس تنورہ آئل ریفائنری کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔

راس تنورہ سعودی عرب کی اہم ترین تیل صاف کرنے والی تنصیبات میں شمار ہوتی ہے۔ اس لیے اس تنصیب پر کسی بھی حملے کی اطلاع عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر سکتی ہے۔

حوثیوں کا یہ دعویٰ سعودی عرب اور یمن کی حوثی تحریک کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے دوران سامنے آیا۔ تاہم دستیاب اطلاعات میں ریفائنری کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔

سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کی توانائی کی تنصیبات کو لاحق خطرات عالمی منڈی میں قیمتوں پر اس وقت بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں جب تیل کی پیداوار میں کسی حقیقی کمی کی تصدیق نہ ہوئی ہو۔

یوں ایک طرف امن مذاکرات جاری ہیں اور دوسری طرف نئی فوجی کارروائیاں توانائی کی رسد کے بارے میں خدشات بڑھا رہی ہیں۔ یہی غیر یقینی صورتِ حال عالمی منڈی کے رجحانات کو متاثر کر رہی ہے۔

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سلامتی کو بڑھتے خطرات

مشرقِ وسطیٰ میں بحری راستوں کی سلامتی بھی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔

واشنگٹن میں قائم ایک تحقیقی ادارے کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ سمندری راستوں پر تجارتی جہازوں کے خلاف حملوں کی تعداد اس ادارے کے زیرِ جائزہ عرصے میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یہ ادارہ ۲۰۱۷ء سے دنیا بھر میں بحری سلامتی سے متعلق واقعات کی نگرانی کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت کی نہایت اہم گزرگاہ ہے، جو خلیج کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو بین الاقوامی منڈیوں سے ملاتی ہے۔

اس راستے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹیں پیدا ہونے کی صورت میں تیل کی نقل و حمل کے اخراجات، بحری بیمے کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے مالیاتی ادارے یو بی ایس کے مطابق آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ تجارتی جہازوں پر حملوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔

ادارے نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں امریکی بحری افواج کی معاونت کمزور ہوئی تو تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتِ حال واضح کرتی ہے کہ سفارتی کوششوں کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند کیوں ہیں۔ سرمایہ کار اب بھی اس امکان کو پیشِ نظر رکھ رہے ہیں کہ علاقائی جنگ توانائی کی عالمی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے تیل کی قیمتوں کا تخمینہ بڑھا دیا

سوئٹزرلینڈ کے مالیاتی ادارے یو بی ایس نے پیش گوئی کی ہے کہ جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتِ حال اور تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث ۲۰۲۶ء کے اختتام تک برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ۱۱۰ ڈالر فی بیرل کے قریب رہ سکتی ہے۔

اس سے قبل ادارے نے سال کے اختتام پر تیل کی قیمت تقریباً ۱۰۰ ڈالر فی بیرل رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت ۱۱۷ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، جو اپریل کے بعد بلند ترین سطح تھی۔ قیمتوں میں یہ اضافہ آبنائے ہرمز کے قریب تیل بردار جہازوں پر ایران کے مبینہ حملوں کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا۔

پیر کو بھی برینٹ خام تیل کی قیمت ۱۱۷ ڈالر فی بیرل تک پہنچی، تاہم منگل کو اس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

مالیاتی تجزیہ کار بجارنے شیلڈروپ کے مطابق خام تیل کی موجودہ قیمتوں میں جغرافیائی و سیاسی خطرات کے باعث ایک نمایاں اضافی لاگت شامل ہے، جس کی بنیادی وجہ آنے والے ہفتوں میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی ممکنہ فوجی کارروائیوں کا خدشہ ہے۔

اس اضافی لاگت سے مراد وہ رقم ہے جو سرمایہ کار مستقبل میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشے کے باعث ادا کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔

اسرائیلی انتخابات اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا مستقبل

عالمی منڈی کے سرمایہ کار منگل کو اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے، کیونکہ انتخابی نتائج ایران کے بارے میں اسرائیل کی آئندہ حکمتِ عملی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

جرمنی کے مالیاتی ادارے کومرز بینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی انتخابات کے نتائج ایران کے ساتھ جاری تنازعے کی سمت متعین کرنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے یہ امکان ظاہر کیا کہ اگر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو دوبارہ اقتدار حاصل کرتے ہیں تو ان کی حکومت ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات اختیار کر سکتی ہے، جن میں تہران میں سیاسی تبدیلی کی کوششیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

تاہم یہ امکانات مالیاتی تجزیہ کاروں کے اندازوں پر مبنی ہیں، انہیں اسرائیل کی کسی حتمی حکومتی پالیسی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

انتخابی نتائج، سفارتی مذاکرات اور فوجی کارروائیوں کے درمیان یہی پیچیدہ تعلق عالمی توانائی کی منڈی میں سرمایہ کاروں کی توقعات اور فیصلوں پر مسلسل اثرانداز ہو رہا ہے۔

پاکستان کی معیشت اور عالمی توانائی کی منڈی پر اثرات

عالمی منڈی میں تیل کی مسلسل بلند قیمتیں ان ممالک کے لیے سنگین معاشی مشکلات پیدا کرتی ہیں جو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔

پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل بڑھا سکتا ہے، زرمبادلہ کے وسائل پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور مہنگائی پر قابو پانے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔

توانائی کی بلند قیمتوں کے اثرات صرف پیٹرولیم مصنوعات تک محدود نہیں رہتے بلکہ نقل و حمل، بجلی کی پیداوار، صنعتی سرگرمیوں اور گھریلو اخراجات تک پھیل جاتے ہیں۔

خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی اگرچہ عالمی منڈی کے لیے کسی حد تک اطمینان کا باعث ہے، لیکن قیمتیں اب بھی گزشتہ عرصے کی نسبت بلند سطح پر موجود ہیں۔

آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ آیا علاقائی مذاکرات فوجی کشیدگی میں حقیقی کمی پیدا کر سکتے ہیں اور کیا تیل کی تنصیبات اور بحری تجارتی راستوں کو لاحق خطرات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

فی الحال سفارتی رابطوں نے عالمی منڈی کے فوری خدشات کسی حد تک کم کیے ہیں، لیکن وہ بنیادی جغرافیائی و سیاسی خطرات بدستور موجود ہیں جو تیل کی قیمتوں کو بلند رکھے ہوئے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی پیش رفت نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معاشی استحکام کے لیے بھی اہم ہوگی۔ بالخصوص پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے اس بحران کا پُرامن حل معاشی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]