پاکستان کی قومی ہاؤسنگ پالیسی 2026 سستی رہائش، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت، سماجی شمولیت اور پائیدار شہری ترقی جیسے بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ تاہم، ان خوش نما وعدوں کے پیچھے ایک بنیادی کمزوری پوشیدہ ہے۔ پالیسی میں حکومتی اقدامات اور مجوزہ اصلاحات کی طویل فہرست تو موجود ہے، لیکن ان ادارہ جاتی، معاشی اور آئینی سوالات کا سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیا گیا جنہوں نے کئی دہائیوں سے پاکستان کے رہائشی بحران کو جنم دے رکھا ہے۔
وزارتِ ہاؤسنگ و تعمیرات کی جانب سے اگست میں جاری کردہ نوے صفحات پر مشتمل یہ دستاویز بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری، بہتر شہری منصوبہ بندی اور رہائش تک عوام کی رسائی بڑھانے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ تاہم، اصل سوال یہ نہیں کہ یہ مقاصد کتنے اہم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ پالیسی ان بنیادی رکاوٹوں کو دور کرتی ہے جو پاکستان کے شہروں میں مناسب، معیاری اور کم قیمت رہائش کی فراہمی میں حائل ہیں؟
ایک مؤثر قومی رہائشی پالیسی کی بنیاد ریاست کی ذمہ داریوں کے واضح تعین، رہائشی ترقی میں حائل ادارہ جاتی رکاوٹوں کی نشاندہی اور پالیسی اہداف کو دستیاب وسائل سے ہم آہنگ کرنے پر ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے نئی پالیسی ان بنیادی معاملات میں واضح سمت فراہم نہیں کرتی۔
سب سے پہلا مسئلہ اختیارات کی آئینی تقسیم سے متعلق ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد رہائش، زمین کا انتظام، شہری منصوبہ بندی، تعمیراتی ضوابط اور جائیداد پر محصولات جیسے معاملات بڑی حد تک صوبائی دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ایک جامع وفاقی رہائشی پالیسی کی ضرورت، قانونی حیثیت اور عملی افادیت پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
پالیسی میں کینیڈا، آسٹریلیا اور بھارت جیسے ممالک کی مثالیں دی گئی ہیں، جہاں وفاقی حکومتیں رہائشی شعبے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم، ان مثالوں میں ایک بنیادی ادارہ جاتی فرق نظرانداز کیا گیا ہے۔ ان ممالک میں وفاقی حکومتوں کی مداخلت مضبوط مالی وسائل، بین الحکومتی مالی انتظامات اور مؤثر انتظامی نظام کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت پہلے ہی مالی دباؤ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کی پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں صوبوں کو نئی ذمہ داریاں سونپنا، لیکن ان کے لیے مالی وسائل، قانونی اختیارات اور عمل درآمد کا مؤثر نظام فراہم نہ کرنا، کسی قابلِ عمل حکمتِ عملی کے بجائے محض خواہشات پر مبنی دستاویز تیار کرنے کے مترادف ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ رہائشی شعبے میں وفاقی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ وفاق کو اپنی توجہ ان معاملات پر مرکوز کرنی چاہیے جہاں قومی سطح کی مداخلت واضح قانونی، ادارہ جاتی اور معاشی فوائد پیدا کر سکتی ہے۔
رہائشی قرضوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں قانونی وصولی کے مؤثر نظام، جائیداد کی خریدوفروخت کو محفوظ بنانے، ملک بھر میں رہائش سے متعلق قابلِ اعتماد اعدادوشمار مرتب کرنے اور زمین کی منڈی میں شفافیت پیدا کرنے جیسے اقدامات وفاقی حکومت کے لیے زیادہ موزوں ذمہ داریاں ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح وفاقی وزارتوں، ریلوے، چھاؤنیوں اور دیگر سرکاری اداروں کے زیرِ قبضہ قیمتی شہری زمین کا پیداواری استعمال بھی قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
یہ اقدامات صوبائی اختیارات میں غیرضروری مداخلت کیے بغیر رہائشی شعبے کی بنیادی ادارہ جاتی اور معاشی خامیوں کو دور کر سکتے ہیں۔
نئی پالیسی کی دوسری بڑی کمزوری ریاست اور رہائشی منڈی کے موجودہ تعلق پر نظرثانی سے گریز ہے۔
پاکستان میں رہائش کا مسئلہ محض حکومتی عدم توجہی یا ریاستی مداخلت کی کمی کا نتیجہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین کی ترقی، تعمیراتی اجازت ناموں، شہری علاقوں کی درجہ بندی اور جائیداد کی خریدوفروخت پر غیرمعمولی انتظامی کنٹرول نے رہائشی شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔
ترقیاتی ادارے، سرکاری رہائشی منصوبے، دفاعی رہائشی ادارے اور حکومت سے منظورشدہ رہائشی سوسائٹیاں شہری جائیداد کی منڈی میں غیرمعمولی اثرورسوخ رکھتی ہیں۔ دوسری جانب سرکاری ادارے اپنے ملازمین کو رہائشی پلاٹ اور دیگر مراعات بھی فراہم کرتے ہیں۔
یہ انتظام ایک بنیادی سوال پیدا کرتا ہے کہ جو ادارے شہری ترقی اور رہائشی منڈی کو منظم کرنے کے ذمہ دار ہیں، وہ خود اسی منڈی کے بڑے کاروباری کردار کیسے بن سکتے ہیں؟
قومی ہاؤسنگ پالیسی ان اداروں کے درمیان انتظامی رابطہ بہتر بنانے کی بات تو کرتی ہے، لیکن اختیارات کے ممکنہ تصادم، منڈی میں پیدا ہونے والی خرابیوں اور سرکاری اداروں کے معاشی مفادات جیسے بنیادی مسائل کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دیتی۔
ایک سنجیدہ اصلاحاتی حکمتِ عملی کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ سرکاری ادارے آپس میں کیسے تعاون کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی جانچنا چاہیے کہ ان کے موجودہ اختیارات، مراعات اور ذمہ داریاں کس حد تک عوامی مفاد سے مطابقت رکھتی ہیں۔
رہائشی پالیسی کا آئینی پہلو بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان کا آئین نجی ملکیت، سماجی انصاف اور ریاستی ذمہ داریوں سے متعلق مختلف اصولوں کو یکجا کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 نجی ملکیت کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 3 اور 38 استحصال کے خاتمے، سماجی انصاف اور کمزور طبقات کی فلاح سے متعلق ریاستی ذمہ داریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
آرٹیکل 253 پارلیمان کو جائیداد کی ملکیت پر حدود مقرر کرنے کا اختیار دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 30 کے تحت اصولِ پالیسی کو براہِ راست عدالتوں میں قابلِ نفاذ حقوق کی حیثیت حاصل نہیں۔
یہ آئینی دفعات ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتی ہیں جس میں نجی ملکیت کے تحفظ کے ساتھ ریاست کی سماجی اور معاشی ذمہ داریاں بھی موجود ہیں۔
تاہم، پاکستان میں اس تعلق کے عملی نتائج پر کبھی جامع قومی بحث نہیں ہو سکی۔ انیس سو ستر کی دہائی میں قومیانے کی پالیسیوں اور بعد میں نجکاری کی طرف پیش رفت نے ملکی معاشی نظام کو تبدیل کیا، لیکن ریاستی مداخلت کی مناسب حدود کے بارے میں بنیادی سوالات بدستور حل طلب رہے۔
نتیجتاً رہائشی پالیسیاں مسلسل سیاسی وعدوں کی نذر ہوتی رہیں۔ کبھی رعایتی رہائشی منصوبوں کا اعلان ہوا اور کبھی لاکھوں گھروں کی تعمیر کے دعوے کیے گئے۔
قومی ہاؤسنگ پالیسی 2026 بھی اسی روایت کو آگے بڑھاتی ہے۔ اس کی شق 3.7.2 میں ہر شہری کے لیے مناسب اور سستی رہائش کو قانونی حق تسلیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بظاہر یہ ایک قابلِ تحسین سماجی مقصد ہے، لیکن اس کے قانونی اور مالی نتائج پر سنجیدہ غور ضروری ہے۔
آخر سستی رہائش کی تعریف کیا ہے؟ کیا اس کا تعین گھریلو آمدنی کے مخصوص حصے، مکان کی خریداری کی قیمت، ماہانہ کرائے یا بنیادی سہولتوں تک رسائی کی بنیاد پر کیا جائے گا؟ مختلف شہروں، آمدنی کے طبقات اور خاندانوں کی ضروریات کو کس طرح مدنظر رکھا جائے گا؟
پالیسی میں رہائشی اخراجات کو گھریلو آمدنی کے تیس فیصد تک محدود رکھنے کے روایتی معیار کا جائزہ لیا گیا ہے، اس کی افادیت پر سوال اٹھائے گئے ہیں اور متبادل طریقے بھی پیش کیے گئے ہیں، لیکن کوئی واضح اور قابلِ عمل معیار مقرر نہیں کیا گیا۔
یہ ابہام اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب سستی رہائش کو عدالت کے ذریعے نافذ ہونے والے قانونی حق میں تبدیل کرنے کی تجویز سامنے آتی ہے۔
رہائش کی استطاعت کسی مکان کی مستقل خصوصیت نہیں ہوتی، بلکہ یہ گھریلو آمدنی، زمین کی قیمت، تعمیراتی اخراجات، قرضوں کی شرائط اور سرکاری ضوابط کے باہمی تعلق سے پیدا ہوتی ہے۔
اگر لاہور میں مکانات کی قیمتیں شہریوں کی آمدنی سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہوں تو محض رہائش کو قانونی حق قرار دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ریاستی ذمہ داریوں، مالی وسائل اور ادارہ جاتی اختیارات کی واضح تقسیم ناگزیر ہوگی۔
لہٰذا آئینی فلاحی مقاصد اور عدالتوں کے ذریعے نافذ کیے جانے والے قانونی حقوق کے درمیان فرق کو انتظامی دستاویز میں غیر واضح چھوڑنے کے بجائے پارلیمانی بحث کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے۔
تاہم، نئی پالیسی کی شاید سب سے اہم خامی پاکستان کے شہروں کی طبعی ساخت اور معاشی تنظیم سے متعلق ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں شہری ترقی کم گنجان رہائشی آبادیوں، پلاٹوں پر مشتمل منصوبوں اور شہروں کے مسلسل افقی پھیلاؤ کے گرد گھومتی رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کو بلند عمارتوں اور رہائشی و تجارتی سرگرمیوں کے مشترکہ استعمال کے ذریعے شہروں کے اندر سمونے کے بجائے شہری حدود کو زرعی اور نیم شہری علاقوں تک پھیلایا جاتا رہا ہے۔
اس طرزِ ترقی نے بنیادی ڈھانچے کے اخراجات بڑھائے، شہریوں کے روزمرہ سفری فاصلے طویل کیے اور بلدیاتی سہولتوں پر اضافی دباؤ ڈالا۔
قومی ہاؤسنگ پالیسی ان مسائل کا کسی حد تک اعتراف کرتی ہے۔ اس میں گنجان شہری ترقی، زمین کے مشترکہ استعمال اور درمیانی و بلند عمارتوں کی تعمیر کی حمایت کی گئی ہے۔ اسی طرح شہری منصوبہ بندی کے ضوابط میں تبدیلی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
لیکن شہری گنجانیت کی اہمیت تسلیم کرنا اور اس کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹیں ختم کرنا دو مختلف معاملات ہیں۔
پالیسی عمارتوں کے قابلِ تعمیر رقبے پر پابندیوں، بلندی کی حدود، لازمی گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ، عمارتوں کے گرد خالی رقبے کی شرائط اور زمین کے استعمال میں تبدیلی کی فیسوں جیسے معاملات کا مناسب حل پیش نہیں کرتی۔
یہ پابندیاں قیمتی شہری زمین پر تعمیر ہونے والی قابلِ استعمال جگہ محدود کرکے رہائشی منصوبوں کی معاشی افادیت کو متاثر کرتی ہیں۔
جہاں زمین مہنگی ہو، وہاں بلند اور گنجان تعمیرات کے ذریعے زمین کی قیمت زیادہ رہائشی اکائیوں میں تقسیم کی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس سخت تعمیراتی پابندیاں فی مکان لاگت بڑھاتی ہیں اور ان علاقوں میں رہائش کی فراہمی محدود کرتی ہیں جہاں طلب زیادہ ہوتی ہے۔
تعمیراتی شعبے کے لیے مجوزہ مراعات بھی معاشی اعتبار سے کئی سوالات پیدا کرتی ہیں۔ اگر کسی منصوبے کے اسی فیصد تعمیراتی رقبے کو کم آمدنی والے افراد کے لیے مختص کرنے پر ہی رعایت دی جائے تو قیمتی شہری علاقوں میں سرمایہ کاروں کے لیے ایسے منصوبے تجارتی طور پر غیرموزوں ہو سکتے ہیں، جب تک ان کے ساتھ مناسب مالی اور منصوبہ بندی کی مراعات فراہم نہ کی جائیں۔
اسی طرح شہروں کے پھیلاؤ کی حدود، سبز علاقوں کے قیام، بار بار جامع شہری منصوبوں کی تیاری، زمین کی منتقلی کے لیے اضافی منظوریوں اور مختلف پیشوں کے لیے اجازت ناموں کی تجاویز کے معاشی اثرات کا بھی محتاط جائزہ ضروری ہے۔
عوامی تحفظ، ماحولیاتی معیار اور جائیداد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضابطے ضروری ہیں۔ تاہم، ان ضابطوں کو تعمیراتی اخراجات، رہائش کی فراہمی اور نئے کاروباروں کی منڈی تک رسائی پر پڑنے والے اثرات کی بنیاد پر جانچنا چاہیے۔
مقصد تمام پابندیوں کا خاتمہ نہیں بلکہ ایسا انتظامی نظام قائم کرنا ہونا چاہیے جو عوامی مفاد کا تحفظ کرتے ہوئے تعمیر و ترقی میں سہولت فراہم کرے۔
سرکاری زمین اور سرکاری ملازمین کی رہائش کے معاملے میں پالیسی کا ایک اور نمایاں تضاد سامنے آتا ہے۔
پاکستان کے بڑے شہروں میں زمین کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور دستیاب شہری رقبے کے مؤثر استعمال کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے باوجود شہروں کے مرکزی علاقوں میں واقع قیمتی سرکاری زمین نسبتاً کم گنجان سرکاری رہائش گاہوں کے لیے مختص ہے۔
نئی پالیسی مزید سرکاری ملازمین کے لیے رہائش کی حمایت کرتی ہے، لیکن اس بات کا مناسب جائزہ نہیں لیتی کہ قیمتی شہری زمین کو محدود سرکاری رہائش کے لیے مخصوص رکھنے کی معاشی اور سماجی قیمت کیا ہے۔
ایک بہتر حکمتِ عملی یہ جانچ سکتی ہے کہ ایسی زمین کے بعض حصوں کو رہائشی و تجارتی مشترکہ منصوبوں، عوامی بنیادی ڈھانچے یا وسیع تر آبادی کے لیے رہائش کی فراہمی میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت کے پاس کتنی زمین موجود ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس زمین کا استعمال عوام کو زیادہ سے زیادہ معاشی اور سماجی فائدہ پہنچا رہا ہے یا نہیں۔
غیررسمی آبادیوں کے بارے میں پالیسی کا رویہ بھی تضادات سے خالی نہیں۔
اس میں کچی آبادیوں کو کثیر منزلہ رہائشی عمارتوں میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جن کی نچلی منزلوں پر تجارتی سرگرمیوں کی گنجائش بھی ہوگی۔ تاہم، کم گنجان اور نسبتاً خوشحال رہائشی علاقوں میں اسی نوعیت کی بلند تعمیرات کے مواقع منظم انداز میں فراہم نہیں کیے گئے۔
اس سے شہری ترقی کا ایک غیرمساوی نظام پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس میں غریب آبادیوں کو بڑے پیمانے پر تعمیرنو کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے، جبکہ مراعات یافتہ رہائشی علاقوں میں تعمیراتی پابندیاں برقرار رہیں۔
شہری گنجانیت کے اصول شفاف، یکساں اور معاشی طور پر قابلِ دفاع ہونے چاہییں، جن میں بنیادی ڈھانچے کی صلاحیت، ماحولیاتی ضروریات اور رہائشیوں کے حقوق کو مناسب اہمیت دی جائے۔
ان ادارہ جاتی اور انتظامی مسائل کے علاوہ ایک اور بنیادی سوال پاکستان میں رہائش کی قلت کے تخمینوں سے متعلق ہے۔
قومی ہاؤسنگ پالیسی میں ملک بھر میں ایک کروڑ سے ایک کروڑ تیس لاکھ رہائشی اکائیوں کی کمی کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ تاہم، ان اعدادوشمار کی تحقیقی بنیاد اور طریقۂ حساب پوری طرح واضح نہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی محقق درِ نایاب نے 2022 میں اپنی تحقیق کے ذریعے ایک کروڑ مکانات کی قلت کے عام طور پر دہرائے جانے والے دعوے پر سوال اٹھایا تھا۔ انہوں نے اس تخمینے کے حوالہ جاتی پس منظر کا جائزہ لیا، لیکن اس کے لیے کوئی قابلِ اعتماد بنیادی حساب تلاش نہ کر سکیں۔
ان کی تحقیق کے مطابق تقریباً تینتالیس لاکھ ستر ہزار گھرانے گنجان رہائشی حالات میں زندگی گزار رہے تھے، جن میں سے تقریباً دو تہائی دیہی علاقوں میں مقیم تھے۔
یہ فرق غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔
کسی گھرانے کا تنگ رہائشی جگہ، ناقص صفائی یا غیرمعیاری مکان میں رہنا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسے مکمل طور پر نئے مکان کی ضرورت ہے۔ ایسے مسائل کو موجودہ گھروں کی توسیع، بنیادی سہولتوں کی بہتری، قانونی تحفظ، بہتر کرایہ داری کے انتظامات اور شہری خدمات کی فراہمی کے ذریعے بھی حل کیا جا سکتا ہے۔
خود قومی پالیسی میں پیش کردہ مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً بیاسی فیصد گھرانے اپنے مکانات کے مالک ہیں۔ یہ حقیقت بھی اس تصور کو پیچیدہ بناتی ہے کہ ملک کا بنیادی رہائشی مسئلہ محض مکانوں کی تعداد میں کمی ہے۔
یقیناً مکانات کی زیادہ شرحِ ملکیت اس بات کی ضمانت نہیں کہ رہائشی حالات معیاری ہیں۔ تاہم، یہ ضرور واضح کرتی ہے کہ رہائشی بحران کی نوعیت کو زیادہ احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ایک قابلِ اعتماد رہائشی جائزے میں بے گھری، رہائشی گنجانیت، عمارتوں کی ناقص حالت، ملکیتی حقوق کے عدم تحفظ، بلدیاتی سہولتوں کی کمی اور رہائش کی مالی استطاعت جیسے مسائل کو الگ الگ شناخت کرنا چاہیے۔
ان تمام مختلف مسائل کو ایک ہی عددی قلت کے طور پر پیش کرنا غلط پالیسی فیصلوں اور محدود قومی وسائل کے غیرمؤثر استعمال کا سبب بن سکتا ہے۔
پاکستان کا رہائشی بحران دراصل شہری حکمرانی کے وسیع تر بحران سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کو جائیداد کے قابلِ اعتماد ریکارڈ، قانونی طور پر قابلِ نفاذ معاہدوں، مؤثر رہائشی قرضہ جاتی نظام، شفاف زمینی لین دین، مناسب بنیادی ڈھانچے اور معاشی حقائق سے ہم آہنگ شہری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ان گھرانوں کے لیے مخصوص سرکاری معاونت بھی ضروری ہے جو اپنی آمدنی اور وسائل کے ذریعے مناسب رہائش حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
تاہم، ان ذمہ داریوں کو ریاست کے لیے رہائشی تعمیرات پر غیرمحدود کنٹرول، شہری زمین کی منڈی پر غلبے یا مزید انتظامی پابندیاں عائد کرنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔
قومی ہاؤسنگ پالیسی 2026 میں کئی اہم اور قابلِ عمل مقاصد ضرور موجود ہیں، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ان مقاصد کو ادارہ جاتی اصلاحات، آئینی طور پر واضح ذمہ داریوں اور مالی اعتبار سے حقیقت پسندانہ انتظامات میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے۔
اصل مسئلہ پالیسی دستاویزات کی کمی نہیں بلکہ ان بنیادی فیصلوں سے مسلسل گریز ہے جو جائیداد کے حقوق، انتظامی اختیارات، منڈی میں مسابقت اور شہروں کی تنظیم سے متعلق ہیں۔
پاکستان محض نئے مکانات کی تعمیر کے اہداف مقرر کرکے یا شہری ترقی کے خوش نما تصورات پیش کرکے اپنے رہائشی مسائل حل نہیں کر سکتا۔
اسے سب سے پہلے ان ضابطوں اور ادارہ جاتی انتظامات کا جائزہ لینا ہوگا جو رہائش کی فراہمی محدود کرتے ہیں، زمین کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں اور شہروں کو بدلتی ہوئی معاشی اور آبادیاتی ضروریات کے مطابق ترقی کرنے سے روکتے ہیں۔
ایک سنجیدہ قومی رہائشی پالیسی کی ابتدا تین بنیادی سوالات سے ہونی چاہیے: حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟ اسے کن معاملات سے دستبردار ہونا چاہیے؟ اور پاکستان کے شہر مسلسل باہر کی جانب پھیلنے کے بجائے اپنی موجودہ حدود میں زیادہ آبادی کو کیسے سمو سکتے ہیں؟
جب تک ان سوالات کے واضح اور قابلِ عمل جوابات نہیں دیے جاتے، قومی ہاؤسنگ پالیسی خواہ کتنی ہی بلند بانگ کیوں نہ ہو، ایک ایسی دستاویز بن کر رہ جائے گی جو رہائشی بحران کی تفصیلات تو بیان کرتی ہے، لیکن ان بنیادی اسباب کو ختم نہیں کرتی جو اس بحران کو مسلسل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔









