مؤثر حکمرانی کا راستہ

[post-views]
[post-views]

کسی بھی ملک میں حکمرانی کی صورتحال کو جانچنے کے لیے چھ بنیادی اجزاء کا ہونا ضروری ہے: (۱) سیاسی استحکام اور دہشت گردی و جرائم کا خاتمہ؛ (۲) عوام کی آواز اور احتساب کا نظام یعنی عوامی آراء، جمہوری اداروں اور صحافت کے ذریعے حکومت کی کھلے دل سے جوابدہی کی تیاری؛ (۳) حکومتی کارکردگی یعنی پالیسی سازی، بیوروکریسی کی معیار اور عوام کے لیے بنیادی خدمات کی فراہمی میں بہترین صلاحیت؛ (۴) غیر ضروری قواعد و ضوابط کے بوجھ کی غیر موجودگی؛ (۵) آئین و قانون کی بالادستی یعنی جائیداد کے حقوق کا تحفظ اور آزاد عدلیہ؛ اور (۶) بدعنوانی پر مکمل قابو۔

یہ تمام عناصر ایک دوسرے کو مضبوط بناتے ہیں اور ایک بہترین اور پائیدار نظامِ حکومت کی سمت راہ ہموار کرتے ہیں۔ تاہم ان تمام اصولوں کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے ایک بہترین ماحول اور جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

صرف وہی شہر اچھے اور مؤثر نظامِ حکومت کے لیے راہ ہموار کر سکتے ہیں جن کی اپنی انتظامی کارکردگی بہترین ہو۔

دنیا بھر میں جتنے بھی عظیم ممالک ہیں ان کے پاس ہمیشہ عظیم شہر رہے ہیں۔ لوگ شہروں میں صرف سیر و تفریح اور دل بہلانے کے لیے نہیں آتے بلکہ تجارتی و معاشی سرگرمیوں کے لیے رخ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر لندن اور بیجنگ دو ایسے شہر ہیں جو تجارتی سرگرمیوں اور گھنی آبادی کے باعث دنیا بھر کو متاثر کرتے ہیں۔

لندن کو دنیا کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی گنجان اور دولت مند شہر ہے جہاں کی آبادی تقریباً چھیانوے لاکھ ہے۔ یہ شہر دنیا بھر کے مالیاتی اور بینکنگ کے شعبے کی سب سے بڑی منڈی ہے جس سے ہونے والے روزمرہ کے مالیاتی سودے پوری عالمی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کیا وہاں کے پالیسی ساز اس وجہ سے شہر کو ٹکڑوں میں بانٹنے کا سوچتے ہیں کہ یہ بہت بڑا اور پیچیدہ ہو چکا ہے؟

چین میں ہزاروں کی تعداد میں تاریخی اور فصیل بند شہر موجود ہیں۔ سائز کے علاوہ ان کی انتظامی اور تجارتی حالت ایک دوسرے سے کافی ملتی جلتی ہے۔ بیجنگ چین کا عظیم شمالی دارالحکومت ہے۔ تاریخی طور پر اس شہر کو دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ بیجنگ کی تنگ گلیوں میں دکانداروں، تاجروں، طب کے ماہرین اور خطاطوں کے چھوٹے چھوٹے اسٹال اور دکانیں لگی ہوتی ہیں جہاں ہر وقت چہل پہل اور تجارتی رونق رہتی ہے۔

لیکن ہمارے ملک کے شہروں میں بیوروکریسی گنجان جگہوں، تجارتی سرگرمیوں اور چھوٹے تاجروں کو ابھرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ سرکاری افسران شہروں کی قیمتی ترین زمینوں پر اپنے لیے پارک اور کھیل کے میدان بنا لیتے ہیں اور معاشی سرگرمیوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی تحقیق کے مطابق لاہور جیسے بڑے شہر کے صرف آٹھ فیصد رقبے پر تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں، جبکہ شہر کی بے ہنگم پھیلاؤ کی وجہ سے نقل و حرکت میں بے پناہ مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]