بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

مقبوضہ بیت المقدس کی صورتحال پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف، اسحاق ڈار اردن روانہ

[post-views]
[post-views]

اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار منگل کو ایک روزہ دورے پر اردن روانہ ہوگئے، جہاں وہ مقبوضہ بیت المقدس کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مشترکہ لائحۂ عمل مرتب کرنے کے لیے منعقد ہونے والے وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

دفترِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اسحاق ڈار عمان روانہ ہو چکے ہیں، جہاں وہ “فلسطینی عوام اور ان کے جائز حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کریں گے۔”

دفترِ خارجہ کے مطابق وزارتی اجلاس برائے بیت المقدس بدھ کے روز منعقد ہوگا، جس میں عرب لیگ کے رکن ممالک اور متعدد اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔ اجلاس میں مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطین کی مجموعی صورتحال پر غور کرتے ہوئے مشترکہ مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

اسحاق ڈار کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت اردن کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ ایمن الصفدی نے دی ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ اپنے دورے کے دوران اردن کے شاہ عبداللہ دوم بن الحسین سے بھی ملاقات کریں گے۔

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں خطے کی تازہ صورتحال، خصوصاً فلسطین میں جاری انسانی بحران پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

دفترِ خارجہ نے کہا کہ اس اجلاس میں پاکستان کی شرکت فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی اصولی حمایت کا عملی اظہار ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ وہ 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل، آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط ریاستِ فلسطین کی حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک بارہا انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ میں ہونے والی مسلسل دراندازیوں کی مذمت کرتے آئے ہیں۔ مسجدِ اقصیٰ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، جو مشرقی بیت المقدس میں واقع ہے۔ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ کے دوران مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا اور بعد میں اسے اپنے ساتھ ضم کر لیا، تاہم عالمی برادری اس الحاق کو تسلیم نہیں کرتی۔

مسجدِ اقصیٰ کا احاطہ فلسطینی شناخت کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے اور یہ اکثر کشیدگی کا مرکز بنا رہتا ہے۔ طویل عرصے سے نافذ انتظامات کے تحت یہودی زائرین کو احاطے میں داخل ہونے کی اجازت ہے، تاہم وہاں عبادت کی اجازت نہیں۔ اگرچہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس انتظام کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ اس تاریخی اور قانونی حیثیت کو بتدریج تبدیل کیا جا رہا ہے۔

رواں سال جون میں پاکستان سمیت نو اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے بیت المقدس اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مخالفت کا اظہار کیا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]