امریکا اور ایران کے درمیان جاری طویل جنگ، جو اس وقت تعطل کا شکار ہے، کے دوران جمعہ کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ایک نہایت اہم اور علامتی پیش رفت ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی دفاعی چھتری سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ریاستوں کے تحفظ میں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس، ان ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کی موجودگی نے انہیں جنگ میں کھینچ لیا ہے، کیونکہ ایران اور اس کے علاقائی اتحادی ان تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس تناظر میں نئے دفاعی معاہدے کے حوالے سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں، خصوصاً اس شق کے بارے میں کہ ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے نئے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسے ’’تاریخی‘‘ قرار دیا، جبکہ ترک صدر نے کہا کہ یہ معاہدہ ’’دوست ممالک‘‘ کے لیے بھی کھلا ہے۔
تاہم، اسے ’’اسلامی دفاعی اتحاد‘‘ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے اتحاد بنانے کی کوششیں کی جا چکی ہیں، جن میں ۲۰۱۵ء میں قائم کیا جانے والا اسلامی فوجی اتحاد برائے انسداد دہشت گردی بھی شامل ہے، جس کی سربراہی سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کی تھی۔ تاہم اس اتحاد نے کسی بڑے فوجی آپریشن میں نمایاں کردار ادا نہیں کیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ موجودہ معاہدہ اسی تعاون کو مزید مستحکم کرتا ہے اور اس میں ترکیہ کو بھی شامل کرتا ہے۔ تاہم بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں بنیادی سوال یہ ہے کہ ایران کے حوالے سے اس معاہدے کا عملی کردار کیا ہوگا۔
سعودی نائب وزیر نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ ’’فوجی محور یا فرقہ وارانہ بلاک قائم کرنے کی کوشش نہیں‘‘ ہے۔ یہ وضاحت خوش آئند ہے۔ دوسری جانب ایرانی رہبر کے مشیر نے بھی کہا ہے کہ خطے کے ممالک کے درمیان زیادہ تعاون ’’خطے کی سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے‘‘۔
اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جاری رہتی ہے اور دوبارہ بڑے پیمانے پر دشمنی شروع ہوتی ہے تو نئے دفاعی اتحاد کا حقیقی امتحان ہوگا، خصوصاً اگر تہران دوبارہ امریکا کے اتحادی خلیجی ممالک کو نشانہ بناتا ہے۔
یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ایسے اتحادوں کا مقصد مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی مسلم ملک کے خلاف انہیں استعمال کرنا۔
امریکا نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے خلیجی اتحادیوں کے تحفظ میں اس حد تک دلچسپی نہیں رکھتا جس کی توقع ان ممالک نے کی تھی، حالانکہ انہوں نے امریکا سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدا ہے۔ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے امریکا یا کسی دوسری بیرونی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے، بلکہ تمام اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو، ایک دوسرے کے خلاف جارحیت سے گریز کا عہد کرنا چاہیے۔
ایران کو خلیجی ممالک پر حملے بند کرنے چاہییں، جبکہ خلیجی ریاستوں کو بھی اپنی سرزمین ایران کے خلاف غیر ملکی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا چاہیے۔ عرب ممالک اور ایران اپنی جغرافیائی حقیقت تبدیل نہیں کر سکتے؛ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے۔ اس لیے باہمی سلامتی کے لیے ایک قابلِ عمل مفاہمتی نظام وضع کرنا ہی سب کے مفاد میں ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ نیا دفاعی معاہدہ مسلم دنیا کے درمیان اتحاد اور تعاون کو فروغ دے گا، نہ کہ پہلے سے موجود اختلافات اور دراڑوں میں مزید اضافہ کرے گا۔









